ٹیگ کے محفوظات: لاف

راستی یہ ہے کہ وعدے ہیں تمھارے سب خلاف

دیوان اول غزل 249
آج کل کاہے کو بتلاتے ہو گستاخی معاف
راستی یہ ہے کہ وعدے ہیں تمھارے سب خلاف
آہ برچھی سی لگی تھی تیر سی دل کی طپش
ہجر کی شب مجھ پہ گذری غیرت روز مصاف
ایک دن میں نے لکھا تھا اس کو اپنا درد دل
آج تک جاتا نہیں سینے سے خامے کے شگاف
پائوں پر سے اپنے میرا سر اٹھانے مت جھکو
تیغ باندھی ہے میاں تم نے کمر میں خوش غلاف
صف الٹ جا عاشقوں کی گر ترے ابرو ہلیں
ایک دم تلوار کے چلنے میں ہووے ملک صاف
شیخ مت روکش ہو مستوں کا تو اس جبے اپر
لیتے استنجے کو ڈھیلا تیری ٹل جاتی ہے ناف
عشق کے بازار میں سودا نہ کیجو تو تو میر
سر کو جب واں بیچ چکتے ہیں تو یہ ہے دست لاف
میر تقی میر

ہے اُسکی ساری خدائی سے اختلاف مجھے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 36
جو دل میں ہے اُسے کہنا ہے صاف صاف مجھے
ہے اُسکی ساری خدائی سے اختلاف مجھے
مرے سخن اُسے اچھے لگیں ، لگیں نہ لگیں
جو کر سکے تو کرے زندگی معاف مجھے
کسی گدا کی طرح کوئے رزق و جنس میں کیوں
تمام عمر ہی کرنا پڑا طواف مجھے
یہ جور و جبر میں کس کے حساب میں ڈالوں
بجا کہ اپنی کمی کا ہے اعتراف مجھے
یہ نصرتیں ، یہ شکستیں ۔ تمام بے معنی
نہال کر گیا آخر یہ انکشاف مجھے
ہر ایک شکل پسِ شکل مسخروں جیسی
یہ کارِ فکر و متانت لگے ہے لاف مجھے
آفتاب اقبال شمیم

لبھ لئے چانن نھیریو، چمکن چارے راہ

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 7
اکھ جے ہووے ویکھدی، سُکھ دے لکھ وِساہ
لبھ لئے چانن نھیریو، چمکن چارے راہ
مینوں جیئون نہ دینوندا، کِھچدا اک اک ساہ
تیرے ملن نہ ملن دا، پہل سمے دا تراہ
اندر دی اِک زہر سی، دھا گئی وچ وجود
اکھیں پھرن رتینجناں، جگرا ہویا سواہ
پئی سی کنڈھے آپنے، پیر کسے دی دَب
کھُریا جیوندا جیوڑا، شوہ نوں لگ گئی ڈھاہ
جُرمیاں نوں تے فیر وی، جُرمی لیندے کج
میں بے دوش فقیر دا، دینا کس وِساہ
سجری آس امید دی، دھرت نہ ایویں بِیج
ہو سکی تے ماجداُ، پچھلے لاہنے لاہ
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)