ٹیگ کے محفوظات: لاابالی

کس مرتبے میں ہو گی سینوں کی خستہ حالی

دیوان ششم غزل 1903
جمع افگنی سے ان نے ترکش کیے ہیں خالی
کس مرتبے میں ہو گی سینوں کی خستہ حالی
درگیر کیونکے ہو گی اس سفلہ خو سے صحبت
دیوانگی یہ اتنی وہ اتنا لاابالی
بے اختیار شاید آہ اس سے کھنچ گئی ہو
جب صورت ایسی تیری نقاش نے نکالی
اتنی سڈول دیہی دیکھی نہ ہم سنی ہے
ترکیب اس کی گویا سانچے میں گئی ہے ڈھالی
وصل و فراق دونوں بے حالی ہی میں گذرے
اب تک مزاج کی میں پاتا نہیں بحالی
میں خاکسار ان تک پہنچی دعا نہ میری
وے ہفتم آسماں پر ان کا دماغ عالی
آنکھیں فلک کی لاکھوں تب جھپتیاں ہی دیکھیں
مانند برق خاطف تیغ ان نے جب نکالی
کل فتنہ زیر سر تھے جو لوگ کٹ گئے سب
پھر بھی زمین سر پر یاروں نے آج اٹھا لی
طفلی میں ٹیڑھی سیدھی ٹوپی کا ہوش کب تھا
پگڑی ہی پھیر رکھی ان نے جو سدھ سنبھالی
معقول اگر سمجھتے تو میر بھی نہ کرتے
لڑکوں سے عشق بازی ہنگام کہنہ سالی
میر تقی میر

یہی ہے طور اس کا ساتھ اپنے خورد سالی سے

دیوان دوم غزل 983
برا کیا مانیے اب چھیڑ سے یا اس کی گالی سے
یہی ہے طور اس کا ساتھ اپنے خورد سالی سے
کلی بیرنگ مرجھائی نظر آتی ہے ظاہر ہے
ہماری بے کلی گل ہاے تصویر نہالی سے
بھری آنکھیں کسو کی پونچھتے جو آستیں رکھتے
ہوئی شرمندگی کیا کیا ہمیں اس دست خالی سے
جو مر رہیے بھی تنگ آکر تو پروا کچھ نہ ہو اس کو
پڑا ہے کام مجھ ناکام کو کس لاابالی سے
جہاں رونے لگے ٹک بے دماغی وہ لگا کرنے
قیامت ضد ہے اس کو عاشقی کی زارنالی سے
دماغ حرف لعل ناب و برگ گل سے ہے تم کو
ہمیں جب گفتگو ہے تب کسو کے لب کی لالی سے
ریاضات محبت نے رکھا ہے ہم میں کیا باقی
نمود اک کرتے ہیں ہم یوں ہی اب شکل مثالی سے
ہم اس راہ حوادث میں بسان سبزہ واقع ہیں
کہ فرصت سر اٹھانے کی نہیں ٹک پائمالی سے
سرہانے رکھ کے پتھر خاک پر ہم بے نوا سوئے
پڑے سر ماریں طالع مند اپنا سنگ قالی سے
کبھو میں عین رونے میں جگر سے آہ کرتا ہوں
کہ دل اٹھ جائیں یاروں کے ہواے برشگالی سے
یہی غم اس دہن کا ہے کہ فکر اس کی کمر کی ہے
کہے سو کیا کوئی ہیں میر صاحب کچھ خیالی سے
میر تقی میر