ٹیگ کے محفوظات: لاؤں

کتبوں جیسے لوگ ہیں ہر سُو پتھر بنتا جاؤں مَیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
کس سے اپنی بپتا چھیڑوں کس کو حال سناؤں مَیں
کتبوں جیسے لوگ ہیں ہر سُو پتھر بنتا جاؤں مَیں
نطق ہی ایک متاع تھی اپنی سو بے وَقر ہے برسوں سے
کون سی ایسی بات ہے جس پر محفل میں اِتراؤں مَیں
ہر پل ایک بدلتی رُت ہے رگ رگ میں ہے زہر نیا
کینچلیوں سے لگتے ہیں جو حرف زباں پر لاؤں مَیں
چہرہ چہرہ ایک اداسی صورت صورت صحرا ہے
کس گلشن پر ابر بنوں اور کون سے دشت پہ چھاؤں مَیں
نشوونمو کے حق میں دیکھے جو بھی خواب اُدھورے تھے
بِن پھل پات شجر ہوں ماجدؔ! گرد سے اٹتا جاؤں مَیں
ماجد صدیقی

غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 120
کروں نہ یاد اگر کس طرح بھلاؤں اسے
غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسے
وہ خار خار ہے شاخِ گلاب کی مانند
میں زخم زخم ہوں پھر بھی گلے لگاؤں اسے
یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں سے
میں کیسے بات کروں اور کہاں سے لاؤں اسے
مگر وہ زود فراموش زود رنج بھی ہے
کہ روٹھ جائے اگر یاد کچھ دلاؤں اسے
وہی جو دولتِ دل ہے وہی جو راحتِ جاں
تمہاری بات پہ اے ناصحو گنواؤں اسے
جو ہم سفر سرِ منزل بچھڑ رہا ہے فراز
عجب نہیں کہ اگر یاد بھی نہ آؤں اسے
احمد فراز

کس مان پہ تجھ کو آزماؤں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 6
اب کیا ہے جو تیرے پاس آؤں
کس مان پہ تجھ کو آزماؤں
زخم اب کے تو سامنے سے کھاؤں
دشمن سے نہ دوستی بڑھاؤں
تتلی کی طرح جو اُڑ چکا ہے
وہ لمحہ کہاں سے کھوج لاؤں
گروی ہیں سماعتیں بھی اب تو
کیا تیری صدا کو منہ دکھاؤں
اے میرے لیے نہ دُکھنے والے!
کیسے ترے دُکھ سمیٹ لاؤں
یوں تیری شناخت مجھ میں اُترے
پہچان تک اپنی بُھول جاؤں
تیرے ہی بھلے کو چاہتی ہوں
میں تجھ کو کبھی نہ یاد آؤں
قامت سے بڑی صلیب پاکر
دُکھ کو کیوں کر گلے لگاؤں
دیوار سے بیل بڑھ گئی ہے
پھر کیوں نہ ہَوا میں پھیل جاؤں
پروین شاکر

تاب اس جلوے کی لاؤں کیوں کر

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 49
وصل کے لطف اُٹھاؤں کیوں کر
تاب اس جلوے کی لاؤں کیوں کر
گرم جوشی کا کروں شکوہ کہ وہ
کہتے ہیں تجھ کو جلاؤں کیوں کر
کیا کروں ہائے میں بے تاب، وہ شوخ
چین سے پاس بٹھاؤں‌ کیوں کر
ہر بنِ مُو سے دھواں اٹھتا ہے
آتشِ غم کو چھپاؤں کیوں کر
میرے آنے سے تم اٹھ جاتے ہیں
بزمِ دشمن میں نہ آؤں کیوں کر
یاد نے جس کی بھلایا سب کچھ
اس کی میں یاد بھلاؤں کیوں کر
آپ بھایا مجھے رونا اپنا
کہتے ہیں ہائے میں جاؤں کیوں کر
چارۂ غیر سے فرصت ہی نہیں
دردِ دل اس کو سناؤں کیوں کر
زندگانی سے خفا ہوں اپنی
پھر کہو، تم کو مناؤں کیوں کر
اس کے آتے ہی بھڑک اٹھی اور
آتشِ دل کو بجھاؤں کیوں کر
شورِ محشر ابھی چونک اٹھے گا
شیفتہ کو میں جگاؤں کیوں کر
مصطفٰی خان شیفتہ

اک بار اپنے آپ میں آؤں تو آؤں میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 100
تجھ سے گلے کروں تجھے جاناں مناؤں میں
اک بار اپنے آپ میں آؤں تو آؤں میں
دل سے ستم کی بے سروکاری ہوا کو ہے
وہ گرد اڑ رہی ہے کہ خود کو گنواؤں میں
وہ نام ہوں کہ جس پہ ندامت بھی اب نہیں
وہ کام ہیں کہ اپنی جدائی کماؤں میں
کیونکہ ہو اپنے خواب کی آنکھوں میں واپسی
کس طور اپنے دل کے زمانوں میں جاؤں میں
اک رنگ سی کمان ہو خوشبو سا ایک تیر
مرہم سی واردات ہو اور زخم کھاؤں میں
شکوہ سا اک دریچہ ہو نشہ سا اک سکوت
ہو شام اک شراب سی اور لڑکھڑاؤں میں
پھر اس گلی سے اپنا گزر چاہتا ہے دل
اب اس گلی کو کون سی بستی سے لاؤں میں
جون ایلیا

یہ ایک فاصلۂ درمیاں گھٹاؤں گا میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 158
اب اپنے زخم کو اپنی زباں بناؤں گا میں
یہ ایک فاصلۂ درمیاں گھٹاؤں گا میں
اسی سفر کا شجر ہے وہ پھر ملے گا مجھے
اسی زمین کا موسم ہوں لوٹ آؤں گا میں
کبھی کبھی تجھے دیکھوں گا تیری آنکھوں سے
کبھی کبھی ترے ہونٹوں سے مسکراؤں گا میں
کبھی کبھی کسی دُھن میں تجھے پکاروں گا
کبھی کبھی کسی بن میں الکھ جگاؤں گا میں
غرورِ جاں میں بھی رکھوں گا چاہتوں کا بھرم
کبھی کبھی ترے احسان بھی اٹھاؤں گا میں
مرے لہو کو یہی موجِ تشنگی ہے بہت
کنارِ جو ابھی خیمہ نہیں لگاؤں گا میں
اب ایک سنگ اس آئینے سے تراشوں گا
تجھے پھر اک ہنر رائیگاں دکھاؤں گا میں
یہی رہے گا تماشا مرے چراغوں کا
ہوا بجھاتی رہے گی جلائے جاؤں گا میں
میں چاہتا ہوں یہیں سارے فیصلے ہوجائیں
کہ اس کے بعد یہ دُنیا کہاں سے لاؤں گا میں
عرفان صدیقی

پہلے تمثال کوئی ڈھونڈ کے لاؤں تیرا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 13
عکس کیا آئینہ داروں کو دکھاؤں تیرا
پہلے تمثال کوئی ڈھونڈ کے لاؤں تیرا
کون پاسکتا ہے کھوئی ہوئی خوشبو کا سراغ
کن ہواؤں سے پتا پوچھنے جاؤں تیرا
تو مرے عشق کی دُنیائے زیاں کا سچ ہے
کیوں کسی اور کو افسانہ سناؤں تیرا
پچھلے موسم میں تری خوش بدنی یاد کروں
راکھ کے ڈھیر میں اک پھول کھلاؤں تیرا
تو مجھے کتنے ہی چہروں میں نظر آتا ہے
کوئی پوچھے تو میں کیا نام بتاؤں تیرا
عرفان صدیقی