ٹیگ کے محفوظات: لئے

شکم کی پرورش میں دیکھیئے مجرم ہوئے ہم بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
طلب پر مُنصفوں کی لو، عدالت میں چلے ہم بھی
شکم کی پرورش میں دیکھیئے مجرم ہوئے ہم بھی
بس اِتنی سی خطا پر، کھوجتے ہیں رزق کیوں اپنا
نگاہوں میں خداوندوں کی کیا کیا کچھ گرے ہم بھی
رگڑتے ایڑیاں، عزّت کی روزی تک پہنچنے میں
نہیں کیا کیا کہیں روکے، کہیں نوچے گئے ہم بھی
پرندوں سا یہ بّچے پالنا بھی، عیب ٹھہرا ہے
بنائیں دشت میں جا کر کہیں اَب گھونسلے ہم بھی
کہیں بے روزگاری پر وظیفے، اور کہیں دیکھو
یہ ہم جو خود کماؤُ ہیں، گئے ہیں دھر لئے ہم بھی
اَب اِس سے بڑھ کے ماجدؔ اور دوزخ دیکھنا کیسا
کہ ادراکِ حقائق سے نہیں کیا کچھ جلے ہم بھی
ماجد صدیقی

کربلا کی رات ہے اور مرثیے ممنوع ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 369
اک بلیک آوٹ ہے روشن دئیے ممنوع ہیں
کربلا کی رات ہے اور مرثیے ممنوع ہیں
ہم محبت کی ریاضی پاس کر سکتے نہیں
اک مثلت لازمی ہے زاویے ممنوع ہیں
کوئی تحفہ تو کجا خط بھی پہنچ سکتا نہیں
اُس گلی میں ہر طرح کے ڈاکیے ممنوع ہیں
ہجر میں ممکن نہیں ہے استراحت کا خیال
راحتوں کے سلسلے میرے لئے ممنوع ہیں
بارشیں منصور برسانے کا آڈر ہے مگر
آسماں پر بادلوں کے حاشیے ممنوع ہیں
منصور آفاق