ٹیگ کے محفوظات: قندیل

سرِ صلیب ایستادہ ہو گا خدائے انجیل، چل کے دیکھیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 51
دکھائی جائے گی شہرِ شب میں سحر کی تمثیل، چل کے دیکھیں
سرِ صلیب ایستادہ ہو گا خدائے انجیل، چل کے دیکھیں
گلوں نے بندِ قبا ہے کھولا، ہوا سے بوئے جنوں بھی آئے
کریں گے اِس موسمِ وفا میں ، ہم اپنی تکمیل، چل کے دیکھیں
خلافِ اصحاب فیل اب کے، زیاں ہوئی غیب کی بشارت
پڑا ہوا خاک پر شکستہ، پرِ ابابیل، چل کے دیکھیں
چُنے ہیں وُہ ریزہ ریزہ منظر، لہو لہو ہو گئی ہیں آنکھیں
چلو نا! اِس دکھ کے راستے پر سفر کی تفصیل چل کے دیکھیں
فضا میں اُڑتا ہوا کہیں سے، عجب نہیں عکس برگ آئے
خزاں کے بے رنگ آسماں سے اٹی ہوئی جھیل، چل کے دیکھیں
لڑھک گیا شب کا کوہ پیما، زمیں کی ہمواریوں کی جانب
کہیں ، ہوا گُل نہ کر چکی ہو انا کی قندیل، چل کے دیکھیں
آفتاب اقبال شمیم

پہاڑوں کا بھی اب جغرافیہ تبدیل ہونا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 602
فروغِ کُن کو صوتِ صورِ اسرافیل ہونا ہے
پہاڑوں کا بھی اب جغرافیہ تبدیل ہونا ہے
زمیں پر خیر و شر کے آخری ٹکراؤ تک مجھ کو
کبھی ہابیل ہونا ہے کبھی قابیل ہونا ہے
کہاں معلوم ہوتا ہے تماشا ہونے سے پہلے
کسے پردے میں رہنا ہے کسے تمثیل ہونا ہے
ابھی تعلیم لینی ہے محبت کی، ابھی میں نے
بدن کے مدرسے سے فارغ التحصیل ہونا ہے
دماغِ کوزہ گر میں ہیں ابھی تک خال وخد میرے
ابھی تک ایسا لگتاہے مجھے تشکیل ہونا ہے
کوئی ہے نوری سالوں کی طوالت پر کہیں منصور
مجھے رفتار سر کرتی ہوئی قندیل ہونا ہے
منصور آفاق

وہی فانوس مری صبح کی قندیل ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 56
تیرے ماتھے کی جو محراب سے تشکیل ہوا
وہی فانوس مری صبح کی قندیل ہوا
نامکمل تھی ابھی مرے خدا کی تخلیق
وہ ترا نام تھا جو باعث تکمیل ہوا
میرے دامن میں بکھرنے لگے لاکھوں سورج
کوئی آنسو جو تری یاد میں تحلیل ہوا
تیرے انداز تمدن بھری تاریخ ہوئے
تیرا چلنامری تہذیب میں تبدیل ہوا
تیری رحمت کی بشارت سے بھرا رہتا تھا
ایک عیسیٰ جو کبھی صاحبِ انجیل ہوا
اس کے قدموں کی کرم باری کے صدقے منصور
میرا ہر لفظ مرے دور کا جبریل ہوا
منصور آفاق