ٹیگ کے محفوظات: قصب

مجلس میں بہت وجد کی حالت رہی سب کو

دیوان دوم غزل 930
مطرب نے پڑھی تھی غزل اک میر کی شب کو
مجلس میں بہت وجد کی حالت رہی سب کو
پھرتے ہیں چنانچہ لیے خدام سلاتے
درویشوں کے پیراہن صد چاک قصب کو
کیا وجہ کہیں خوں شدن دل کی پیارے
دیکھو تو ہو آئینے میں تم جنبش لب کو
برسوں تئیں جب ہم نے تردد کیے ہیں تب
پہنچایا ہے آدم تئیں واعظ کے نسب کو
ہے رحم کو بھی راہ دل یار میں بارے
جاگہ نہیں یاں ورنہ کہیں اس کے غضب کو
کیا ہم سے گنہگار ہیں یہ سب جو موئے ہیں
کچھ پوچھو نہ اس شوخ کی رنجش کے سبب کو
دل دینے سے اس طرح کے جی کاش کے دیتے
یوں کھینچے کوئی کب تئیں اس رنج و تعب کو
حیرت ہے کہ ہے مدعی معرفت اک خلق
کچھ ہم نے تو پایا نہیں اب تک ترے ڈھب کو
ہو گا کسو دیوار کے سائے میں پڑا میر
کیا ربط محبت سے اس آرام طلب کو
میر تقی میر