ٹیگ کے محفوظات: قصاص

یہ ہمارا ہے ثمرہ اخلاص

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 2
اُن کو دسشمن سے ہے محبت خاص
یہ ہمارا ہے ثمرہ اخلاص
وجد میں لائے اہلِ درد ہمیں
باد کے ساتھ خاک ہے رقاص
دل کے ٹکڑے اُڑا، نہیں ہے گناہ
نفس کو قتل کر، نہیں ہے قصاص
حسنِ باطن، زبونیِ ظاہر
ہے مئے ناب اور جامِ رصاص
کیا مزا تم سے آشنائی کا
ما شربتم مدامۃ الاخلاص
ہجر زہر اور وصل ہے تریاق
زہر و تریاق کا جدا ہے خواص
قسمت اُس کی، خبر نہ ہو جس کو
عام اس دور میں ہے بادہ خاص
دام سے تیرے موسمِ گل میں
بلبلوں کو نہیں ہوائے خلاص
شیفتہ نے ہماری داد نہ دی
سچ ہے القاص لا یحب القاص
مصطفٰی خان شیفتہ

آسماں کے مگر ہے پاس ملا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 36
خاک کا ایک اقتباس ملا
آسماں کے مگر ہے پاس ملا
اپنی تاریخ کے وہ ہیرو ہیں
جن کو وکٹوریہ کراس ملا
دیکھتے کیا ہو زر کہ یہ مجھ کو
اپنے ہی قتل کا قصاص ملا
جلوہ بس آئینے نے دیکھا ہے
ہم کو تو حسنِ انعکاس ملا
میز پر اہلِ علم و دانش کی
اپنے بھائی کا صرف ماس ملا
کتنے جلدی پلٹ کے آئے ہو
کیا نگر کا نگر خلاص ملا
اس میں خود میں سما نہیں سکتا
کیسا یہ دامنِ حواس ملا
چاند پر رات بھی بسر کی ہے
ہر طرف آسمانِ یاس ملا
زخم چنگاریوں بھرا منصور
وہ جو چنتے ہوئے کپاس ملا
منصور آفاق