ٹیگ کے محفوظات: قرینے

بلندیوں کے امین زینے کو ڈھونڈتا ہوں

عمارتوں میں نہاں دفینے کو ڈھونڈتا ہوں
بلندیوں کے امین زینے کو ڈھونڈتا ہوں
وہ جس کی خاطر ہمارے آبا نے کی تھی ہجرت
میں اپنے شہروں میں اُس مدینے کو ڈھونڈتا ہوں
جو لائے گھر میں مرے گہر ہائے رزقِ طیب
ہمیشہ محنت کے اُس پسینے کو ڈھونڈتا ہوں
دُکھے نہ دشمن کا دل بھی میرے سخن سے باصِرؔ
میں بات کرنے کے اُس قرینے کو ڈھونڈتا ہوں
باصر کاظمی

مرے ضمیر! کرم کر مجھے بھی جینے دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
فضا کا زہر ہی تریاق ہے تو پینے دے
مرے ضمیر! کرم کر مجھے بھی جینے دے
یہ ہم کہ غیر ہیں باوصفِ دعویٰٔ وحدت
جو رازدان ہوں باہم، ہمیں وہ سِینے دے
ہوس سے دُور ہو، اندر ہو پُرسکوں اُس کا
کوئی جو دے تو مری قوم کو دفینے دے
رہِ جنون بس اِتنی سی ڈھیل مانگتا ہوں
ہوئے ہیں زخم جو سینے میں، اُن کو سِینے دے
جو وصف، خاص ہے تجھ سے بروئے کار بھی لا
لغت کو لفظ کو ماجدؔ نئے قرینے دے
ماجد صدیقی

خود کو کبھی بوذر کے مدینے سے نکالوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 270
مرنے سے نکالوں کبھی جینے سے نکالوں ؟
خود کو کبھی بوذر کے مدینے سے نکالوں
کچھ دھوپ چراؤں میں کسی گرم بدن کی
کمرے کو دسمبر کے مہینے سے نکالوں
جراح بلاؤں یا کوئی سنت سپیرا
کس طرح ترے درد کو سینے سے نکالوں
آ پھر ترے گیسو کی شبِ تار اٹھا کر
مہتاب سا بالی کے نگینے سے نکالوں
صحرا سا سمندر کی رگ و پے میں بچھا دوں
لیکن میں سفر کیسے سفینے سے نکالوں
ہے تیر جو سینے میں ترازو کئی دن سے
میں چاہتا ہوں اس کو قرینے سے نکالوں
افلاک سے بھی لوگ جنہیں دیکھنے آئیں
وہ خواب خیالوں کے خزینے سے نکالوں
ہر چیز سے آتی ہے کسی اور کی خوشبو
پوشاک سے کھینچوں کہ پسینے سے نکالوں
ہونٹوں کی تپش نے جو ہتھیلی پہ رکھا ہے
سورج میں اُسی آبلہ گینے سے نکالوں
ممکن ہی نہیں پاؤں ، بلندی پہ میں اتنی
تقویم کے ٹوٹے ہوئے زینے سے نکالوں
نیکی ! تجھے کیا علم کہ کیا لطف ہے اس میں
دل کیسے سیہ کار کمینے سے نکالوں
منصور دہکتے ہوئے سورج کی مدد سے
دریا کو سمندر کے دفینے سے نکالوں
منصور آفاق