ٹیگ کے محفوظات: قربانی

بگولوں سے ہماری قبر پہچانی نہیں جاتی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 88
نشاں کیونکر مٹا دیں یہ پریشانی نہیں جاتی
بگولوں سے ہماری قبر پہچانی نہیں جاتی
خدائی کی ہے یہ ضد اے بت یہ نادانی نہیں جاتی
زبردستی کی منوائی ہوئی مانی نہیں جاتی
ہزاروں بار مانی حسن نے ان کی وفاداری
مگر اہلِ محبت ہیں کہ قربانی نہیں جاتی
سحر کے وقت منہ کلیوں نے کھولا ہے پئے شبنم
ہوا ٹھنڈی ہے مگر پیاس بے پانی نہیں جاتی
قمر کل ان کے ہونے سے ستارے کتنے روشن تھے
وہی یہ رات ہے جو آج پہچانی نہیں جاتی
قمر جلالوی

پھر بھی محبت صرف مسلسل ملنے کی آسانی تھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 153
ہر دھڑکن ہیجانی تھی ہر خاموشی طوفانی تھی
پھر بھی محبت صرف مسلسل ملنے کی آسانی تھی
جس دن اُس سے بات ہوئی تھی اس دن بھی بےکیف تھا میں
جس دن اُس کا خط آیا ہے اُس دن بھی ویرانی تھی
جب اُس نے مجھ سے کہا تھا عشق رفاقت ہی تو نہیں
تب میں نے ہر شخص کی صورت مشکل سے پہچانی تھی
جس دن وہ ملنے آئی ہے اس دن کی رُوداد یہ ہے
اس کا بلاؤز نارنجی تھا اس کی ساری دھانی تھی
اُلجھن سی ہونے لگتی تھی مجھ کو اکثر اور وہ یوں
میرا مزاجِ عشق تھا شہری اس کی وفا دہقانی تھی
اب تو اس کے بارے میں تم جو چاہو وہ کہہ ڈالو
وہ انگڑائی میرے کمرے تک تو بڑی روحانی تھی
نام پہ ہم قربان تھے اس کے لیکن پھر یہ طور ہوا
اس کو دیکھ کے رُک جانا بھی سب سے بڑی قربانی تھی
مجھ سے بچھڑ کر بھی وہ لڑکی کتنی خوش خوش رہتی ہے
اس لڑکی نے مجھ سے بچھڑ کر مر جانے کی ٹھانی تھی
عشق کی حالت کچھ بھی نہیں تھی بات بڑھانے کا فن تھا
لمحے لافانی ٹھیرے تھے قطروں کی طغیانی تھی
جس کو خود میں نے بھی اپنی روح کا عرفان سمجھا تھا
وہ تو شاید میرے پیاسے ہونٹوں کی شیطانی تھی
تھا دربارِ کلاں بھی اس کا نوبت خانہ اس کا تھا
تھی میرے دل کی جو رانی امروہے کی رانی تھی
جون ایلیا

ان نے جو اس طول سے کھینچا پریشانی کے تیں

دیوان دوم غزل 869
کن نے لپٹے بال دکھلائے ترے مانی کے تیں
ان نے جو اس طول سے کھینچا پریشانی کے تیں
کشتۂ انداز کس کا تھا نہ جانا وہ جواں
لے رہے تھے کچھ ملک اک نعش قربانی کے تیں
چشم کم سے اشک خونیں کو نہ دیکھو زینہار
ڈھونڈتے ہیں مردم اس یاقوت سیلانی کے تیں
طائران خوش معاش اس باغ کے ہم تھے کبھو
اب ترستے ہیں قفس میں اک پر افشانی کے تیں
ہے جہان تنگ سے جانا بعینہ اس طرح
قتل کرنے لے چلیں ہیں جیسے زندانی کے تیں
یہ کہاں بنت العنب سے اٹھتی ہیں کیفیتیں
ہونٹوں سے کیا اس کے نسبت ایسی مستانی کے تیں
دل جو پانی ہو تو آئینہ ہے روے یار کا
خانہ آبادی سمجھ اس خانہ ویرانی کے تیں
فہم میں میرے نہ آیا پردہ در ہے طفل اشک
روئوں کیا اے ہم نشیں میں اپنی نادانی کے تیں
کچھ نظر میں نے نہ کی جی کے زیاں پر اپنے ہائے
دوست میں رکھے گیا اس دشمن جانی کے تیں
جب جلے چھاتی بہت تب اشک افشاں ہو نہ میر
کیا جو چھڑکا اس دہکتی آگ پر پانی کے تیں
میر تقی میر