ٹیگ کے محفوظات: قبر

قبر

شہزادہ لپٹتا ہے مجھ سے اور

دور کہیں

چڑیا کو سانپ نگلتا ہے

سانسوں میں گھلتی ہیں سانسیں

اور زہر اترتا جاتا ہے

لمحات کے نیلے قطروں میں

کانوں میں مرے رس گھولتا ہے شبدوں کا ملن اور ۔۔۔ من بھیتر

اک چیخ سنائی دیتی ہے

جلتی پوروں میں کانپتی ہے

بے مایہ لمس کی خاموشی

اس کے ہاتھوں سے لکھتی ہوں میں عشق بدن کی مٹی پر

اس کی آنکھوں کے گورستاں میں دیکھتی ہوں اک قبر نئی

اور شہزادے کے سینے پر سر رکھ کر سو جاتی ہوں

نینا عادل

کہ بیتاب دل کی بنا صبر ہے

دیوان پنجم غزل 1748
کوئی نام اس کا نہ لو جبر ہے
کہ بیتاب دل کی بنا صبر ہے
نہ سوز جگر خاک میں بھی گڑا
موئے پر پرآتش مری قبر ہے
گلستاں کے ہیں دونوں پلے بھرے
بہار اس طرف اس طرف ابر ہے
جو درویش پہنے ہے ببری لباس
تو پھر عینہٖ شیر ہے ببر ہے
در کعبہ پر کفر بکتا ہے میر
مسلماں نہیں وہ کہن گبر ہے
میر تقی میر