ٹیگ کے محفوظات: قافلے

شہر کی سیر کے لیے نکلا

پاؤں میں آبلے لیے نکلا
شہر کی سیر کے لیے نکلا
گھپ اندھیرا تھا اور اک جگنو
نور کے قافلے لیے نکلا
ڈھل گئی انتظار کی ظلمت
آج سورج کسے لیے نکلا
گھومتی کائنات میں یاؔور
پاؤں کے دائرے لیے نکلا
یاور ماجد

کس درجہ سست گام ہیں پھولوں کے قافلے

بعد از خزاں بھی خشک بگولوں کے سلسلے
کس درجہ سست گام ہیں پھولوں کے قافلے
کیوں کر بڑھائیں ربط کسی اجنبی کے ساتھ
ساتھی تھے عمر بھر کے جو غیروں سے جا ملے
جو کائناتِ درد سے مانوس ہی نہیں
وہ کر رہے ہیں پیار کی دنیا کے فیصلے
اے پیکرِ غرور کہ ہم بھی ہیں بااصول
طے ہوسکیں گے کیا یہ پُراَسرار فاصلے
ایثار کے دیار سے نفرت کے شہر تک
ہیں کس قدر طویل محبت کے سلسلے
افسانہِ بہار پھر ان کی زبان سے
خوشبو اُڑی، نسیم چلی، پھول سے کھلے
گہنا گئے بوقتِ سَحر دل کے وَلولے
کیا کچھ نہ حال ہو گا اُمنگوں کا، دن ڈھلے
تیری شبیہ کا ہے خلاؤں میں رقص پھر
محرابِ زندگی میں ہزاروں دیے جلے
اُس کو یقین کیا دلِ اخلاص کِیش کا
مایوسیوں کی گود میں جو زندگی پَلے
آساں بنا رہا تھا جنھیں احتیاط سے
دشوار ہو گئے وہی نازک سے مرحلے
آئے تھے وہ وفا کی نمایش کے واسطے
میرے تعلّقات کو آلودہ کر چلے
مسمار ہو سکے نہ گھروندے وفاؤں کے
آتے رہے پیار کی بستی میں زلزلے
شعلوں کے رنگ میں، کہیں شبنم کے روپ میں
منظوم ہیں، شکیبؔ، مرے دل کے وَلولے
شکیب جلالی

بھُلا ہی دیں گے اگر دل میں کچھ گِلے ہوئے بھی

اب آ بھی جاؤ ، بہت دن ہوئے مِلے ہوئے بھی
بھُلا ہی دیں گے اگر دل میں کچھ گِلے ہوئے بھی
ہماری راہ الگ ہے، ہمارے خواب جُدا
ہم اُن کے ساتھ نہ ہوں گے، جو قافلے ہوئے بھی
ہجومِ شہرِ خرد میں بھی ہم سے اہلِ جنوں
الگ دِکھیں گے، گریباں جو ہوں سِلے ہوئے بھی
ہمیں نہ یاد دلاؤ ہمارے خوابِ سخن
کہ ایک عُمر ہوئے ہونٹ تک ہِلے ہوئے بھی
نظر کی، اور مناظر کی بات اپنی جگہ
ہمارے دل کے کہاں اب، جو سلسلے ہوئے بھی
یہاں ہے چاکِ قفس سے اُدھر اک اور قفس
سو ہم کو کیا، جو چمن میں ہوں گُل کھِلے ہوئے بھی
ہمیں تو اپنے اُصولوں کی جنگ جیتنی ہے
کسے غرض، جو کوئی فتح کے صِلے ہوئے بھی
عرفان ستار

بہاروں میں اب کی نئے گل کھلے

نہ آنکھیں ہی برسیں نہ تم ہی ملے
بہاروں میں اب کی نئے گل کھلے
نہ جانے کہاں لے گئے قافلے
مسافر بڑی دور جا کر ملے
وہی وقت کی قید ہے درمیاں
وہی منزلیں اور وہی فاصلے
جہاں کوئی بستی نظر آ گئی
وہیں رُک گئے اجنبی قافلے
تمھیں دل گرفتہ نہیں دوستو
ہمیں بھی زمانے سے ہیں کچھ گلے
ہمیں بھی کریں یاد اہلِ چمن
چمن میں اگر کوئی غنچہ کھلے
ابھی اور کتنی ہے میعادِ غم
کہاں تک ملیں گے وفا کے صلے
ناصر کاظمی

بھُلا ہی دیں گے اگر دل میں کچھ گِلے ہوئے بھی

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 62
اب آ بھی جاؤ ، بہت دن ہوئے مِلے ہوئے بھی
بھُلا ہی دیں گے اگر دل میں کچھ گِلے ہوئے بھی
ہماری راہ الگ ہے، ہمارے خواب جُدا
ہم اُن کے ساتھ نہ ہوں گے، جو قافلے ہوئے بھی
ہجومِ شہرِ خرد میں بھی ہم سے اہلِ جنوں
الگ دِکھیں گے، گریباں جو ہوں سِلے ہوئے بھی
ہمیں نہ یاد دلاؤ ہمارے خوابِ سخن
کہ ایک عُمر ہوئے ہونٹ تک ہِلے ہوئے بھی
نظر کی، اور مناظر کی بات اپنی جگہ
ہمارے دل کے کہاں اب، جو سلسلے ہوئے بھی
یہاں ہے چاکِ قفس سے اُدھر اک اور قفس
سو ہم کو کیا، جو چمن میں ہوں گُل کھِلے ہوئے بھی
ہمیں تو اپنے اُصولوں کی جنگ جیتنی ہے
کسے غرض، جو کوئی فتح کے صِلے ہوئے بھی
عرفان ستار

بدوضع یاں کے لڑکے کیا خوش معاملے ہیں

دیوان دوم غزل 901
دل لے کے کیسے کیسے جھگڑے مجادلے ہیں
بدوضع یاں کے لڑکے کیا خوش معاملے ہیں
گھبرانے لگتیاں ہیں رک رک کے تن میں جانیں
کرتے ہیں جو وفائیں ان ہی کے حوصلے ہیں
کیا قدر تھی سخن کی جب یاں بھی صحبتیں تھیں
ہر بات جائزہ ہے ہر بیت پر صلے ہیں
جب کچھ تھی جہت مجھ سے تب کس سے ملتے تھے تم
اطراف کے یہ بے تہ اب تم سے آملے ہیں
تھا واجب الترحم مظلوم عشق تھا میں
اس کشتۂ ستم کو تم سے بہت گلے ہیں
سوز دروں سے کیونکر میں آگ میں نہ لوٹوں
جوں شیشۂ حبابی سب دل پر آبلے ہیں
میں جی سنبھالتا ہوں وہ ہنس کے ٹالتا ہے
یاں مشکلیں ہیں ایسی واں یہ مساہلے ہیں
اندیشہ زاد رہ کا رکھیے تو ہے مناسب
چلنے کو یاں سے اکثر تیار قافلے ہیں
پانچوں حواس گم ہیں ہر اک کے اس سمیں میں
کیا میر جی ہی تنہا ان روزوں دہ دلے ہیں
میر تقی میر

آنکھ میں گلستاں کھلے کوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 434
چاہتا ہوں کہیں ملے کوئی
آنکھ میں گلستاں کھلے کوئی
رکھ گیا ہاتھ کی لکیروں میں
راستوں کے یہ سلسلے کوئی
میرے دل کا بھی بوجھ ہلکا ہو
میرے بھی تو سنے گلے کوئی
اس لئے میں بھٹکتا پھرتا ہوں
مجھ کو گلیوں میں ڈھونڈھ لے کوئی
کیا کروں ہجر کے جزیرے میں
لے گیا ساتھ حوصلے کوئی
اس کے آنے کی صرف افواہ پر
دیکھتا دل کے ولولے کوئی
یار آتا میرے علاقے میں
خیمہ زن ہوتے قافلے کوئی
گرمیٔ لمس کے مجھے منصور
بخش دے پھر سے آ بلے کوئی
منصور آفاق

محبت کے ٹھہرے ہوئے سلسلے چل

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 212
بڑی سست رفتاریوں سے بھلے چل
محبت کے ٹھہرے ہوئے سلسلے چل
وہاں گھر ہے دریا جہاں ختم ہو گا
چلے چل کنارے کنارے چلے چل
خدا جانے کب پھر ملاقات ہو گی
ٹھہر مجھ سے جاتے ہوئے تو ملے چل
میں تیرے سہارے چلا جا رہا ہوں
ذرا اور ٹوٹے ہوئے حوصلے چل
نئے ساحلوں کے مسائل بڑے ہیں
تُو پچھلی زمیں کی دعا ساتھ لے چل
اکیلا نہ منصور رہ کیرواں میں
محبت کے چلنے لگے قافلے چل
منصور آفاق