ٹیگ کے محفوظات: قادر

پہ فرط شوق سے مجھ کو ملال خاطر ہے

دیوان چہارم غزل 1517
جو بحث جی سے وفا میں ہے سو تو حاضر ہے
پہ فرط شوق سے مجھ کو ملال خاطر ہے
وصال ہووے تو قدرت نما ہے قدرت کا
نہ ہم کو قدر نہ قدرت خدا ہی قادر ہے
مسافرانہ ملے تو کہا شرارت سے
غریب کہتے ہیں لوگ ان کو یہ بھی نادر ہے
کسو سیاق سے تحریر طول شوق نہ ہو
زبان خامۂ لسّان اس میں قاصر ہے
بہم رکھا کرو شطرنج ہی کی بازی کاش
نہ میر بار ہے خاطر کا یار شاطر ہے
میر تقی میر

تیرے بن باسیوں کا یہ گھر تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 81
ہجر تھل ریت کا سمندر تھا
تیرے بن باسیوں کا یہ گھر تھا
آدھے حصے میں رنگ تھے موجود
آدھا خالی گلی کا منظر تھا
چھت بھی بیٹھی ہوئی تھی کمرے کی
اور دل کا گرا ہوا در تھا
اک سلگتی سڑک پہ بچے کے
پاؤں میں ایک ہی سلیپر تھا
مملکت کی خراب حالت تھی
میں اکیلا وہاں قلندر تھا
وہ تھی یونان کی کوئی دیوی
اور قسمت کا میں سکندر تھا
ایک بس وہ خدا نہ تھا منصور
ورنہ ہر چیز پہ وہ قادر تھا
منصور آفاق