ٹیگ کے محفوظات: فگاروں

خونیں جگروں ، سینہ فگاروں سے گلہ ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 225
یارو نگہ یار کو ، یاروں سے گلہ ہے
خونیں جگروں ، سینہ فگاروں سے گلہ ہے
جاں سے بھی گئے ، بات بھی جاناں کی نہ سمجھی
جاناں کو بہت عشق کے ماروں سے گلہ ہے
اب وصل ہو یا ہجر ، نہ اب تک بسر آیا
اک لمحہ ، جسے لمحہ شماروں سے گلہ ہے
اڑتی ہے ہر اک شور کے سینے سے خموشی
صحراؤں پر شور دیاروں سے گلہ ہے
بیکار کی اک کارگزاری کے حسابوں
بیکار ہوں اور کار گزاروں سے گلہ ہے
میں آس کی بستی میں گیا تھا سو یہ پایا
جو بھی ہے اسے اپنے سہاروں سے گلہ ہے
بے فصل اشاروں سے ہوا خون جنوں کا
ان شوخ نگاہوں کے اشاروں سے گلہ ہے
جون ایلیا

باہر نکل کے سینہ فگاروں کا ساتھ دو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 66
مظلوم حسرتوں کے سہاروں کا ساتھ دو
باہر نکل کے سینہ فگاروں کا ساتھ دو
اک معرکہ بہار و خزاں میں ہے ان دنوں
سب کچھ نثار کر کے بہاروں کا ساتھ دو
تم کو حریمِ دیدہ و دل ہے اگر عزیز
شہروں کے ساتھ آؤ، دیاروں کا ساتھ دو
آبادیوں سے عرض ہے، شہروں سے التماس
اس وقت اپنے کارگزاروں کا ساتھ دو
زخموں سے جن کے پھوٹ رہی ہے شعاعِ رنگ
ان حسن پروروں کی قطاروں کا ساتھ دو
روشن گروں نے خوں سے جلائی ہیں مشعلیں
ان مشعلوں کے سرخ اشاروں کا ساتھ دو
بیدار رہ کے آخرِ شب کے حصار میں
خورشید کے جریدہ نگاروں کا ساتھ دو
یاروں کا اک ہجوم چلا ہے کفن بدوش
ہے آج روزِ واقعہ، یاروں کا ساتھ دو
جون ایلیا

تھا تو اک شہر خاکساروں کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 16
حال خوش تزکرہ نگاروں کا
تھا تو اک شہر خاکساروں کا
پہلے رہتے تھے کوچہء دل میں
اب پتہ کیا ہے دل فگاروں کا
کوئے جاناں کی ناکہ بندی ہے
بسترا اب کہاں ہے یاروں کا
چلتا جاتا ہے سانس کا لشکر
کون پُرساں ہے یادگاروں کا
اپنے اندر گھسٹ رہا ہوں میں
مجھ سے کیا ذکر رہ گزاروں کا
ان سے جو شہر میں ہیں بے دعویٰ
عیش مت پوچھ دعویداروں کا
کیسا یہ معرکہ ہے برپا جو
نہ پیادوں کا نہ سواروں کا
بات تشبیہہ کی نہ کیجیو تُو
دہر ہے صرف استعاروں کا
میں تو خیر اپنی جان ہی سے گیا
کیا ہوا جانے جانثاروں کا
کچھ نہیں اب سوائے خاکستر
ایک جلسہ تھا شعلہ خواروں کا
جون ایلیا

کیا کیا ان نے سلوک کیے ہیں شہر کے عزت داروں سے

دیوان چہارم غزل 1490
خوار پھرایا گلیوں گلیوں سر مارے دیواروں سے
کیا کیا ان نے سلوک کیے ہیں شہر کے عزت داروں سے
دور اس سے تو اپنے بھائیں آگ لگی ہے گلستاں میں
آنکھیں نہیں پڑتی ہیں گل پر سینکتے ہیں انگاروں سے
شور کیا جو میں نے شبانگہ بیتابی سے دل کی بہت
کہنے لگا جی تنگ آیا ان مہر و وفا کے ماروں سے
وہ جو ماہ زمیں گرد اپنا دوپہری ہے ان روزوں
شوق میں ہر شب حرف و سخن ہے ہم کو فلک کے تاروں سے
حرف شنو ساتھ اپنے نہیں ہیں ورنہ دراے قافلہ ساں
راہ میں باتیں کس کس ڈھب کی کرتے ہیں ہم یاروں سے
خستہ ہو اپنا کیسا ہی کوئی پھر بھی گلے سے لگاتے ہیں
وحشت ایک تمھیں کو دیکھی اپنے سینہ فگاروں سے
داغ جگرداری ہیں اپنے کشتے ثبات دل کے ہیں
ہم نہ گئے جاگہ سے ہرگز قیمہ ہوئے تلواروں سے
حرف کی پہچان اس کو نہ تھی تو سادہ ہی کچھ اچھا تھا
بات اگر مانے ہے کوئی سو سو اب تکراروں سے
کوہکن و مجنوں یہ دونوں دشت و کوہ میں سرماریں
شوق نہیں ملنے کا ہم کو میر ایسے آواروں سے
میر تقی میر

ہوا نہ گور گڑھا ان ستم کے ماروں کا

دیوان اول غزل 40
سنا ہے حال ترے کشتگاں بچاروں کا
ہوا نہ گور گڑھا ان ستم کے ماروں کا
ہزار رنگ کھلے گل چمن کے ہیں شاہد
کہ روزگار کے سر خون ہے ہزاروں کا
ملا ہے خاک میں کس کس طرح کا عالم یاں
نکل کے شہر سے ٹک سیر کر مزاروں کا
عرق فشانی سے اس زلف کی ہراساں ہوں
بھلا نہیں ہے بہت ٹوٹنا بھی تاروں کا
علاج کرتے ہیں سوداے عشق کا میرے
خلل پذیر ہوا ہے دماغ یاروں کا
تری ہی زلف کو محشر میں ہم دکھا دیں گے
جو کوئی مانگے گا نامہ سیاہکاروں کا
خراش سینۂ عاشق بھی دل کو لگ جائے
عجب طرح کا ہے فرقہ یہ دل فگاروں کا
نگاہ مست کے مارے تری خراب ہیں شوخ
نہ ٹھور ہے نہ ٹھکانا ہے ہوشیاروں کا
کریں ہیں دعوی خوش چشمی آہوان دشت
ٹک ایک دیکھنے چل ملک ان گنواروں کا
تڑپ کے مرنے سے دل کے کہ مغفرت ہو اسے
جہاں میں کچھ تو رہا نام بے قراروں کا
تڑپ کے خرمن گل پر کبھی گر اے بجلی
جلانا کیا ہے مرے آشیاں کے خاروں کا
تمھیں تو زہد و ورع پر بہت ہے اپنے غرور
خدا ہے شیخ جی ہم بھی گناہگاروں کا
اٹھے ہے گرد کی جا نالہ گور سے اس کی
غبار میر بھی عاشق ہے نے سواروں کا
میر تقی میر