ٹیگ کے محفوظات: فن

کہاں کھپائیں گے اب جان فکر و فن میں لوگ

مگن ہوئے ہیں کسی اور ہی لگن میں لوگ
کہاں کھپائیں گے اب جان فکر و فن میں لوگ
وہی ہیں رنگ خزاں اور بہار کے لیکن
کچھ اور دیکھنے جاتے ہیں اب چمن میں لوگ
بدل دیے ہیں زمانے نے عشق کے انداز
سو دیکھ پائیں گے کیا قیس و کوہکن میں لوگ
ترس گئے ہیں مرے کان حرفِ شیریں کو
لیے ہوئے ہیں بڑی تلخیاں دہن میں لوگ
اگرچہ نعمتیں حاصل ہیں دو جہاں کی اِنہیں
اداس رہتے ہیں یارب مرے وطن میں لوگ
کہی تھی تو نے تو ہر بات صاف صاف مگر
نجانے سمجھے ہیں کیا اپنے بھولپن میں لوگ
میں کیا بتاؤں تجھے خوب جانتا ہے تو
شریک ہوتے ہیں کیوں تیری انجمن میں لوگ
دکھائی دی تھی جو اِتنی طویل رات کے بعد
تلاش کرتے رہے مہر اُس کرن میں لوگ
مرے سُخن میں سُخن بولتا ہے ناصِر کا
مجھے بھی پائیں گے ہر محفلِ سخن میں لوگ
باصر کاظمی

پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو

دل لگا لیتے ہیں اہلِ دل وطن کوئی بھی ہو
پھول کو کھِلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو
صورتِ حالات ہی پر بات کرنی ہے اگر
پھر مخاطَب ہو کوئی بھی انجمن کوئی بھی ہو
تارِ گیسو یا رگِ گُل سے ہوئے ہم بے نیاز
دار تک جب آ گئے عاشق رسن کوئی بھی ہو
ہے وہی لا حاصلی دستِ ہنر کی منتظر
آخرش سر پھوڑتا ہے کوہکن کوئی بھی ہو
ہیں جو پُر از آرزو ہوتے نہیں محتاجِ مے
رات دن مخمور رکھتی ہے لگن کوئی بھی ہو
ہے کسی محبوب کی مانند اُس کا انتظار
دیدہ و دل فرشِ رہ مشتاقِ فن کوئی بھی ہو
شاعری میں آج بھی ملتا ہے ناصِر کا نشاں
ڈھونڈتے ہیں ہم اُسے بزمِ سخن کوئی بھی ہو
عادتیں اور حاجتیں باصرِؔ بدلتی ہیں کہاں
رقص بِن رہتا نہیں طاؤس بَن کوئی بھی ہو
باصر کاظمی

رہتی ہے مری بات بہت عرصہ دہن میں

مِلتا ہے عجب لطف مجھے ضبطِ سخن میں
رہتی ہے مری بات بہت عرصہ دہن میں
اُبھرے وہ کہاں جھیل سی آنکھوں میں جو ڈوبے
نکلے نہ کبھی گِر گئے جو چاہِ ذقن میں
لے جانے لگی پستی کی جانب ہمیں اب زیست
ہونے لگی محسوس کشش دار و رسن میں
کیا جانیے کس لمحے چلا جائے تہِ خاک
انسان تو جیتا بھی ہے گویا کہ کفن میں
نامے کی ضرورت ہے نہ محتاجیِ قاصد
تُو یاد تو کر آؤں گا میں چشم زدن میں
اب موسمِ گُل آپ نمٹ لے گا خزاں سے
ہم چین سے بیٹھیں گے کسی کُنجِ چمن میں
تم قدر تو کرتے نہیں اربابِ ہُنر کی
کیوں جان کھپائے بھلا کوئی کسی فن میں
اورں کی زمیں راس نہیں آئے گی باصرؔ
آرام ملے گا تمہیں اپنے ہی وطن میں
باصر کاظمی

وقت ہی سب کا محرم وقت ہی دشمن بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 59
جس سے بن بھی آئے، رہے ہے ان بن بھی
وقت ہی سب کا محرم وقت ہی دشمن بھی
ناداری دکھلائے سگی ماؤں میں بھی
اپنائیت بھی اور سوتیلا پن بھی
اپنے عزیز و اقارب راضی رکھنے کو
تن من بھی لگتا ہے، لگتا ہے دھن بھی
جیسے ہو بھونچال کا شور فضاؤں میں
گُونجے ہے یوں گاہے دل کی دھڑکن بھی
سب سے بڑا ہے داعیٔ امن بھی انساں ہی
اور انسانوں میں پڑتے ہیں رَن بھی
ناآگاہ ترے اخلاص سے اہلِ جہاں
کُھلا نہیں ماجِد اِن سب پہ ترا فن بھی
ماجد صدیقی

بارش کی ہَوا میں بن سمیٹے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 107
من تھکنے لگا ہے تن سمیٹے
بارش کی ہَوا میں بن سمیٹے
ایسا نہ ہو ، چاند بھید پا لے
پیراہنِ گُل شِکن سمیٹے
سوتی رہی آنکھ دن چڑھے تک
دُلہن کی طرح تھکن سمیٹے
گُزرا ہے چمن سے کون ایسا
بیٹھی ہے ہوا بدن سمیٹے
شاخوں نے کلی کو بد دُعا دی
بارش ترا بھولپن سمیٹے
آنکھوں کے طویل رتجگوں پر
چاند آیا بھی تو گہن سمیٹے
احوال مرا وہ پوچھتا تھا
لہجے میں بڑی چبھن سمیٹے
اندر سے شکست وہ بھی نکلا
لیکن وہی بانکپن سمیٹے
شام آئے تو ہم بھی گھر کو لوٹیں
چڑیوں کی طرح تھکن سمیٹے
خود جنگ سے دست کش تھے ہم لوگ
جذبات میں ایک رن سمیٹے
آنکھوں کے چراغ ہم بجھا دیں
سُورج بھی مگر کرن سمیٹے
بس پیار سے مِل رہے ہیں کچھ لوگ
چمکیلے بدن میں پھن سمیٹے
پھر ہونے لگی ہوں ریزہ ریزہ
آئے…۔۔مجھے میرا فن سمیٹے
غیروں کے لیے بکھر گئی ہوں
اب مجھ کو مِرا وطن سمیٹے
پروین شاکر

دشمن کو اور دوست نے دشمن بنا دیا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 31
اپنے جوار میں ہمیں مسکن بنا دیا
دشمن کو اور دوست نے دشمن بنا دیا
مشاطہ نے مگر عملِ سیمیا کیا
گل برگ کو جو غنچۂ سوسن بنا دیا
دامن تک اس کے ہائے نہ پہنچا کبھی وہ ہاتھ
جس ہاتھ نے کہ جیب کو دامن بنا دیا
دیکھا نہ ہو گا خواب میں بھی یہ فروغِ حسن
پردے کو اس کے جلوے نے چلمن بنا دیا
تم لوگ بھی غضب ہو کہ دل پر یہ اختیار
شب موم کر لیا، سحر آہن بنا دیا
پروانہ ہے خموش کہ حکمِ سخن نہیں
بلبل ہے نغمہ گر کہ نوا زن بنا دیا
صحرا بنا رہا ہے وہ افسوس شہر کو
صحرا کو جس کے جلوے نے گلشن بنا دیا
مشاطہ کا قصور سہی سب بناؤ میں
اس نے ہی کیا نگہ کو بھی پر فن بنا دیا
اظہارِ عشق اس سے نہ کرنا تھا شیفتہ
یہ کیا کیا کہ دوست کو دشمن بنا دیا
مصطفٰی خان شیفتہ

وہ حالت سکوت جو اس کے سخن میں تھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 7
رامش گروں سے داد طلب انجمن میں تھی
وہ حالت سکوت جو اس کے سخن میں تھی
تھے دن عجب وہ کشمکش انتخاب کے
اک بات یاسمیں میں تھی اک یاسمن میں تھی
رم خوردگی میں اپنے غزال ختن تھے ہم
یہ جب کا ذکر ہے کہ غزالہ ختم میں تھی
محمل کے ساتھ ساتھ میں آ تو گیا مگر
وہ بات شہر میں تو نہیں ہے جو بن میں تھی
کیوں کہ سماعتوں کو خنک عیش کر گئی
وہ تند شعلگی جو نوا کے بدن میں تھی
خوباں کہاں تھے نکتہ خوبی سے با خبر
یہ اہلِ فن کی بات تھی اور اہلِ فن میں تھی
یاد آ رہی ہے پھر تری فرمائشِ سخن
وہ نغمگی کہاں مری عرضِ سخن میں تھی
آشوبناک تھی نگہِ اوّلینِ شوق
صبحِ وصال کی سی تھکن اس بدن میں تھی
پہنچی ہے جب ہماری تباہی کی داستاں
عذرا وطن میں تھی نہ عنیزہ وطن میں تھی
میں اور پاسِ وضعِ خرد، کیا ہوا مجھے؟
میری تو آن ہی مرے دیوانہ پن میں تھی
انکار ہے تو قیمتِ انکار کچھ بھی ہو
یزداں سے پوچھنا یہ ادا اہرمن میں تھی
جون ایلیا

ہے داغِ عشق، زینتِ جیبِ کفن ہنوز

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 127
فارغ مجھے نہ جان کہ مانندِ صبح و مہر
ہے داغِ عشق، زینتِ جیبِ کفن ہنوز
ہے نازِ مفلساں "زرِ ا ز دست رفتہ” پر
ہوں "گل فروِشِ شوخئ داغِ کہن” ہنوز
مے خانۂ جگر میں یہاں خاک بھی نہیں
خمیازہ کھینچے ہے بتِ بیدادِ فن ہنوز
مرزا اسد اللہ خان غالب

کیا خاک میں ملا ہے افسوس فن ہمارا

دیوان پنجم غزل 1539
رسواے شہر ہے یاں حرف و سخن ہمارا
کیا خاک میں ملا ہے افسوس فن ہمارا
دل خون ہو گیا تھا غم لکھتے سو رہے ہے
شنگرف کے قلم سا پرخوں دہن ہمارا
ظل ریاض میں شب مہتاب کے نہیں گل
انگاروں سے بھرا ہے اس بن چمن ہمارا
میدان عشق میں تو قیمہ بدن ہوا ہے
تہ کرکے خاک ہی میں رکھ دیں کفن ہمارا
میر اس کی آنکھیں دیکھیں ہم نے سفر کو جاتے
عین بلا ہوا ہے سو اب وطن ہمارا
میر تقی میر

مشبک کر گیا ہے تن ہمارا

دیوان اول غزل 68
ادھر آکر شکار افگن ہمارا
مشبک کر گیا ہے تن ہمارا
گریباں سے رہا کوتہ تو پھر ہے
ہمارے ہاتھ میں دامن ہمارا
گئے جوں شمع اس مجلس میں جتنے
سبھوں پر حال ہے روشن ہمارا
بلا جس چشم کو کہتے ہیں مردم
وہ ہے عین بلا مسکن ہمارا
ہوا رونے سے راز دوستی فاش
ہمارا گریہ تھا دشمن ہمارا
بہت چاہا تھا ابر تر نے لیکن
نہ منت کش ہوا گلشن ہمارا
چمن میں ہم بھی زنجیری رہے ہیں
سنا ہو گا کبھو شیون ہمارا
کیا تھا ریختہ پردہ سخن کا
سو ٹھہرا ہے یہی اب فن ہمارا
نہ بہکے میکدے میں میر کیونکر
گرو سو جا ہے پیراہن ہمارا
میر تقی میر

اور سچ پوچھو تو سرمایۂ فن وہ بھی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 346
ہائے وہ جسم کہ اِک جی کی جلن وہ بھی ہے
اور سچ پوچھو تو سرمایۂ فن وہ بھی ہے
اُس کو بانہوں میں گرفتار کرو تو جانیں
تم شکاری ہو تو رَم خوردہ ہرن وہ بھی ہے
ایک دِن تو بھی مری فکر کے تاتار میں آ
تیرا گھر اَے مرے آہوئے ختن، وہ بھی ہے
اُس کی آنکھوں میں بھی رقصاں ہے وہی گرمئ شوق
غالباً محرمِ اَسرارِ بدن وہ بھی ہے
لاؤ کچھ دیر کو پہلوئے بتاں میں رُک جائیں
ہم مسافر ہیں، ہمارا تو وطن وہ بھی ہے
اور کچھ راز نہیں راتوں کی بیداری کا
ہم بھی ہیں شیفتۂ شعر و سخن، وہ بھی ہے
عرفان صدیقی