ٹیگ کے محفوظات: فنی

کیا محبت نے دشمنی کی ہے

دیوان ششم غزل 1877
عشق میں ہم نے جاں کنی کی ہے
کیا محبت نے دشمنی کی ہے
کیسی سرخ و سفید نکلی تھی
مے مگر دختر ارمنی کی ہے
بید سا کیوں نہ سوکھ جائوں میں
دیر مجنوں سے ہم فنی کی ہے
اس پریشان کو نشانہ کر
یار نے جمع افگنی کی ہے
کر دیا خاک آسماں نے ہمیں
یہ بھی ہمت اسی دنی کی ہے
تکیہ ویراں فقیر کا بھی ہو
یاں خرابی بہت غنی کی ہے
قافلہ لٹ گیا جو آنسو کا
عشق نے میر رہزنی کی ہے
میر تقی میر