ٹیگ کے محفوظات: فقیری

گدائی رات کو کرتا ہوں خجلت سے فقیری میں

دیوان پنجم غزل 1696
طلب ہے کام دل کی اس کے بالوں کی اسیری میں
گدائی رات کو کرتا ہوں خجلت سے فقیری میں
نگہ عزلت میں اس ابرو کماں کی تھی ادھر یعنی
لگا تیر اس کا چھاتی میں ہماری گوشہ گیری میں
نظیر اس کی نظر آئی نہ سیاحان عالم کو
سیاحت دور تک کی ایک ہے وہ بے نظیری میں
حزیں آواز ہے مرغ چمن کی کیا جنوں آور
نہیں خوش زمزمہ ویسا ہماری ہم صفیری میں
جوانی میں نہ رسوائی ہوئی تا میر غم کھینچا
ہوئے اطفال تہ بازار گاہک جی کے پیری میں
میر تقی میر

سب لوگوں میں ہیں لاگیں یاں محض فقیری ہے

دیوان سوم غزل 1259
اب تک تو نبھی اچھی اب دیکھیے پیری ہے
سب لوگوں میں ہیں لاگیں یاں محض فقیری ہے
کیا دھیر بندھے اس کی جو عشق کا رسوا ہو
نکلے تو کہیں لڑکے دھیری ہے بے دھیری ہے
خوں عشق کی گرمی سے سوکھا جگر و دل میں
اک بوند تھی لوہو کی اب چھاتی جو چیری ہے
ہم طائر نوپر ہیں وے جن کو بہاراں میں
گل گشت گلستاں کا ہے شوق و اسیری ہے
اس دلبر بدظن سے خوش گذرے ہے عاشق کی
نے رحم ہے خاطر میں نے عذر پذیری ہے
ہم مرثیہ دل ہی کا اکثر کہا کرتے ہیں
اب کریے تخلص تو شائستہ ضمیریؔ ہے
کیا اہل دول سے ہے اے میر مجھے نسبت
یاں عجز و فقیری ہے واں ناز امیری ہے
میر تقی میر

چھوڑ لذت کے تئیں لے تو فقیری کا مزا

دیوان اول غزل 51
گرچہ سردار مزوں کا ہے امیری کا مزا
چھوڑ لذت کے تئیں لے تو فقیری کا مزا
اے کہ آزاد ہے ٹک چکھ نمک مرغ کباب
تا تو جانے کہ یہ ہوتا ہے اسیری کا مزا
لوہو پیتے ہی مرا اشک نہ منھ کو لاگا
بوسہ جب لے ہے ترے ہونٹوں کی بیری کا مزا
ہم تو گمراہ جوانی کے مزوں پر ہیں میر
حضرت خضرؑ کو ارزانی ہو پیری کا مزا
میر تقی میر