ٹیگ کے محفوظات: فقیرصاحب

آنا ہوا کہاں سے کہیے فقیرصاحب

دیوان سوم غزل 1106
بولا جو موپریشاں آ نکلے میرصاحب
آنا ہوا کہاں سے کہیے فقیرصاحب
ہر لحظہ اک شرارت ہر دم ہے یک اشارت
اس عمر میں قیامت تم ہو شریر صاحب
بندے پہ اب نوازش کیجے تو کیجے ورنہ
کیا لطف ہے جو آئے وقت اخیر صاحب
دل کا الجھنا اپنے ایسا نہیں کہ سلجھے
ہیں دام زلف میں ہم اس کے اسیر صاحب
فکرجگر رہے ہے اس دم غلام کو بھی
جس دم لگو ہو کرنے تم مشق تیر صاحب
میر تقی میر