ٹیگ کے محفوظات: فضائیں

ماجِد جو لطف دیں وُہ ہوائیں تلاش کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
تازہ مہک کی لِپٹیں، رِدائیں تلاش کر
ماجِد جو لطف دیں وُہ ہوائیں تلاش کر
جن کا مزہ ہو دیکھے مناظر سے بھی سوا
چھب جن کی اور ہو وُہ فضائیں تلاش کر
ہونٹوں سے تیرے نام پہ خُوشبو سی جو اُٹھیں
اور ہوں رسا جو ایسی دُعائیں تلاش کر
خوشامدوں پہ ہو جو بہم کام پر نہیں
اوروں سا تُو بھی ایسی قبائیں تلاش کر
جو کھو چکے ہیں نقش، خط و حرف میں وُہ ڈھال
جو دُور جا چکیں وُہ صدائیں تلاش کر
ایسی کہ فیض و غالب و منٹو جو دے گئیں
ایسی کہ پِھر نہ آئیں وُہ مائیں تلاش کر
ہو کے بھسم سِدھائیں جو بگڑوں کو جِیتے جی
ہاں بہرِ گُمرہاں وُہ چِتائیں تلاش کر
ماجد صدیقی

اس چرخ نے کیاں ہیں ہم سے بہت ادائیں

دیوان اول غزل 361
کیا ظلم کیا تعدی کیا جور کیا جفائیں
اس چرخ نے کیاں ہیں ہم سے بہت ادائیں
دیکھا کہاں وہ نسخہ اک روگ میں بساہا
جی بھر کبھو نہ پنپا بہتیری کیں دوائیں
اک رنگ گل نے رہنا یاں یوں نہیں کیا ہے
اس گلشن جہاں میں ہیں مختلف ہوائیں
ہے فرش عرش تک بھی قلب حزیں کا اپنے
اس تنگ گھر میں ہم نے دیکھی ہیں کیا فضائیں
چہرے کے زخم ناخن کے سے کہاں کہ گویا
گھر سے نکلتے ہی ہم تلواریں منھ پہ کھائیں
شب نالہ آسماں تک جی سخت کرکے پہنچا
تھیں نیم کشتۂ یاس اکثر مری دعائیں
روکش تو ہو ترا پر آئینے میں کہاں یہ
رعنائیاں ادائیں رنگینیاں صفائیں
ہے امر سہل چاہت لیکن نباہ مشکل
پتھر کرے جگر کو تب تو کرے وفائیں
ناز بتان سادہ ہے اللہ اللہ اے میر
ہم خط سے مٹ گئے پر ان کے نہیں ہے بھائیں
میر تقی میر