ٹیگ کے محفوظات: فضاؤں

آشناؤں نے مل کے لوٹ لیا

ہم نواؤں نے مل کے لوٹ لیا
آشناؤں نے مل کے لوٹ لیا
ہم اصولاً تو بچ ہی نکلے تھے
التجاؤں نے مل کے لوٹ لیا
رہزنوں کا نصیب کیا کہیے
رہ نماؤں نے مل کے لوٹ لیا
اک بہانہ تھی شورشِ طوفاں
ناخداؤں نے مل کے لوٹ لیا
کج کُلاہوں سے ہوشیار تھے ہم
خوش اداؤں نے مل کے لوٹ لیا
ہم زَباں دیکھتے رہے چپ چاپ
بے نواؤں نے مل کے لوٹ لیا
راہ زنِ ہوش کچھ تو غم زدہ تھے
کچھ جفاؤں نے مل کے لوٹ لیا
جو امینِ جمالِ یزداں ہیں
ان خداؤں نے مل کے لوٹ لیا
جو کبھی وجہِ عشرتِ دل تھیں
ان فضاؤں نے مل کے لوٹ لیا
شکیب جلالی

بجلی کے ہیں چراغ، ہواؤں کا خوف ختم

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 217
اب آسماں نژاد بلاؤں کا خوف ختم
بجلی کے ہیں چراغ، ہواؤں کا خوف ختم
تلووں تلے لگا لیے سیارے وقت نے
ہر لمحہ سوچتے ہوئے پاؤں کا خوف ختم
بادل بڑے گرجتے ہیں باراں بکف مگر
سینہ نہیں دھڑکتا، خداؤں کا خوف ختم
اک چشمہء شعور پہ اپنی رگوں کے بیچ
ہم شیر مار آئے ہیں ، گاؤں کا خوف ختم
سورج تراش لائے ہیں صحنِ علوم سے
سہمی ہوئی سیاہ فضاؤں کا خوف ختم
ہم نے طلسم توڑ لیا ہے نصیب کا
جادو نگر کی زرد دعاؤں کا خوف ختم
اب شرم سار ہوتی نہیں ہے سنہری دھوپ
پلکوں پہ سرسراتی گھٹاؤں کا خوف ختم
میلوں تلک زمیں میں آنکھیں اتر گئیں
اندھے کنووں میں لٹکی سزاؤں کا خوف ختم
کوہ ندا کے کھل گئے اسرار آنکھ پر
آسیبِ آسماں کی صداؤں کا خوف ختم
اپنالی اپنے عہد نے تہذیب جین کی
اکڑی ہوئی قدیم قباؤں کا خوف ختم
ہم رقص کائنات ہے منصور ذات سے
اندر کے بے کنار خلاؤں کا خوف ختم
منصور آفاق

اداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 114
خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں
اداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میں
نظر نظر سے نکلتی ہیں درد کی ٹیسیں
قدم قدم پہ وہ کانٹے چبھے ہیں پاؤں میں
ہرایک سمت سے اڑ اڑ کے ریت آتی ہے
ابھی ہے زور وہی دشت کی ہواؤں میں
غموں کی بھیڑ میں امید کا وہ عالم ہے
کہ جیسے ایک سخی ہو کئی گداؤں میں
ابھی ہے گوش بر آواز گھر کا سناٹا
ابھی کشش ہے بڑی دور کی صداؤں میں
چلے تو ہیں کسی آہٹ کا آسرا لے کر
بھٹک نہ جائیں کہیں اجنبی فضاؤں میں
دھواں دھواں سی ہے کھیتوں کی چاندنی باقیؔ
کہ آگ شہر کی اب آ گئی ہے گاؤں میں
باقی صدیقی