ٹیگ کے محفوظات: فسانہ

اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 15
اُس کو جُدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا
اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا
ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شبِ فراق
اے مرگِ ناگہاں! تیرا آنا بہت ہوا
ہم خُلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا
اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا
اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی
اُس سے ذرا سا ربط بڑھانا بہت ہوا
اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں
اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا
اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکا
مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا
کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل
اے یادِ یار تیرا ٹھکانہ بہت ہوا
کہتا تھا ناصحوں سے میرے منہ نہ آئیو
پھر کیا تھا ایک ہُو کا بہانہ بہت ہوا
لو پھر تیرے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر
احمد فراز! تجھ سے کہا نا، بہت ہوا
احمد فراز

نہ یہاں مرا ٹھکانہ نہ وہاں مرا ٹھکانہ

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 1
یہاں تنگیِ قفس ہے وہاں فکرِ آشیانہ
نہ یہاں مرا ٹھکانہ نہ وہاں مرا ٹھکانہ
مجھے یاد ہے ابھی تک ترے جور کا فسانہ
جو میں راز فاش کر دوں تجھے کیا کہے زمانہ
نہ وہ پھول ہیں چمن میں نہ وہ شاخِ آشیانہ
فقط ایک برق چمکی کہ بدل گیا زمانہ
یہ رقیب اور تم سے رہ و رسمِ دوستانہ
ابھی جس ہوا میں تم ہو وہ بدل گیا زمانہ
مرے سامنے چمن کا نہ فسانہ چھیڑ ہمدم
مجھے یاد آ نہ جائے کہیں اپنا آشیانہ
سرِ راہ کیسے سوجھی تجھے ہجوِ مئے کی واعظ
نہ یہاں ہے تیری نہ مرا شراب خانہ
کسی سر نگوں سی ڈالی پہ رکھیں گے چار تنکے
نہ بلند شاخ ہو گی نہ جلے گا آشیانہ
نہ سنا سکے مسلسل غمِ دوریِ وطن کو
کبھی رو لئے گھڑی بھر کبھی کہہ دیا فسانہ
مرے روٹھ جانے والے تجھے یوں منا رہا ہوں
کہ قضا کے واسطے بھی کوئی چاہئیے بہانہ
کہیں میکشوں سے ساقی نہ نگاہ پھیر لینا
کہ انھیں کے دم سے قائم ہے ترا شراب خانہ
قمر اپنے داغِ دل کی وہ کہانی میں نے چھیڑی
کہ سنا کیے ستارے مرا رات بھر فسانہ
قمر جلالوی

دیکھ اے مرغِ سحر غل نہ مچانا شبِ وصل

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 62
طالعِ خفتۂ دشمن نہ جگانا شبِ وصل
دیکھ اے مرغِ سحر غل نہ مچانا شبِ وصل
ان کو منظور نہیں نیند کا آنا شبِ وصل
اس لئے کہتے ہیں غیروں کا فسانہ شبِ وصل
صبر پروانے کا مجھ پر نہ پڑے ڈرتا ہوں
ماہ رو شمع کو ہرگز نہ جلانا شبِ وصل
خواہشِ کامِ دل اتنی نہ کر اے شوق کہ وہ
ڈھونڈتے ہیں چلے جانے کو بہانا شبِ وصل
آپ منت سے بلانے تجھے کیوں کر آؤں
غیر کے گھر میں ہے تیرا تو ٹھکانا شبِ وصل
شان میں صحبتِ ناکس سے خلل آتا ہے
صبحِ ہجراں کو بس اب منہ نہ لگانا شبِ وصل
تیرگی بختِ سیہ سے مرے لا جا کہ ضرور
جلوہ اس مہر لقا کا ہے چھپانا شبِ وصل
روزِ ہجراں میں اٹھے جاتے ہو کیوں دنیا سے
شیفتہ اور بھی تم لطف اٹھانا شبِ وصل
مصطفٰی خان شیفتہ

یاں ہوا راز چھپانا موقوف

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 59
واں ہوا پردہ اٹھانا موقوف
یاں ہوا راز چھپانا موقوف
غیر کو رشک سے کیا آگ لگے
کہ ہوا میرا جلانا موقوف
ذکرِ شیریں کی اگر بندی ہے
کوہ کن کا بھی فسانہ موقوف!
اب کس امید پہ واں جائے کوئی
کہ ہوا غیر کا آنا موقوف
رمِ آہو سے وہ رم یاد آیا
دشت و صحرا میں بھی جانا موقوف
بد دماغ آج ہوا وہ گُل رُو
شیفتہ عطر لگانا موقوف
مصطفٰی خان شیفتہ

سمجھے جو گرمیِ ہنگامہ جلانا دل کا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 18
ہائے اس برقِ جہاں سوز پر آنا دل کا
سمجھے جو گرمیِ ہنگامہ جلانا دل کا
ہے ترا سلسلۂ زلف بھی کتنا دل بند
پھنسنے سے پہلے بھی مشکل تھا چھٹانا دل کا
دیکھتے ہم بھی کہ آرام سے سوتے کیوں کر
نہ سنا تم نے کبھی ہائے فسانہ دل کا
ہم سے پوچھیں کہ اسی کھیل میں کھوئی ہے عمر
کھیل جو لوگ سمجھتے ہیں لگانا دل کا
عاقبت چاہِ ذقن میں خبر اس کی پائی
مدتوں سے نہیں لگتا تھا ٹھکانا دل کا
کس طرح دردِ محبت میں جتاؤں اس کو
بھید لڑکوں سے نہیں کہتے ہیں دانا دل کا
ہم یہ سمجھے تھے کہ آرام سے تم رکھو گے
لائیے تم کو ہے منظور ستانا دل کا
ہم بھی کیا سادے ہیں کیا کیا ہے توقع اس سے
آج تک جس نے ذرا حال نہ جانا دل کا
جلوہ گاہِ غم و شادی، دل و شادی کم یاب
کیوں نہ ہو شکوہ سرا ایک زمانہ دل کا
شکل مانندِ پری اور یہ افسونِ وفا
آدمی کا نہیں مقدور بچانا دل کا
شیفتہ ضبط کرو ایسی ہے کیا بے تابی
جو کوئی ہو تمہیں احوال سنانا دل کا
مصطفٰی خان شیفتہ

یاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانہ دل کا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 17
اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا
یاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانہ دل کا
تم بھی چوم لو، بے ساختہ پیار آ جائے
میں سناؤں جو کبھی دل سے فسانہ دل کا
ان حسینوں کا لڑکپن ہی رہے یا اللہ
ہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا
پوری مہندی بھی لگانی نہیں آئی اب تک
کیوں کر آیا تجھے غیروں سے لگانا دل کا
حور کی شکل ہو تم، نور کے پتلے ہو تم
اور اس پر تمہیں آتا ہے جلانا دل کا
بعد مدت کے یہ اے داغ سمجھ میں آیا
وہی دانا ہے، کہا جس نے نہ مانا دل کا
داغ دہلوی

ہر زماں ملتے تھے باہم سو زمانہ ہو گیا

دیوان سوم غزل 1077
ہجر کی اک آن میں دل کا ٹھکانا ہو گیا
ہر زماں ملتے تھے باہم سو زمانہ ہو گیا
واں تعلل ہی تجھے کرتے گئے شام و سحر
یاں ترے مشتاق کا مرنا بہانہ ہو گیا
شیب میں بھی ہے لباس جسم کا ظاہر قماش
پر اسے اب چھوڑیے جامہ پرانا ہو گیا
کہنے تو کہہ بیٹھے مہ بہتر ہے روے یار سے
شہر میں پھر ہم کو مشکل منھ دکھانا ہو گیا
صد سخن آئے تھے لب تک پر نہ کہنے پائے ایک
ناگہاں اس کی گلی سے اپنا جانا ہو گیا
رہنے کے قابل تو ہرگز تھی نہ یہ عبرت سرائے
اتفاقاً اس طرف اپنا بھی آنا ہو گیا
سینکڑوں افسوں دنوں کو پڑھتے تھے تس پر بھی میر
بیٹھنا راتوں کو باہم اب فسانہ ہو گیا
میر تقی میر

اس جان کی جوکھوں کو اس وقت نہ جانا تھا

دیوان سوم غزل 1070
کیا کام کیا ہم نے دل یوں نہ لگانا تھا
اس جان کی جوکھوں کو اس وقت نہ جانا تھا
تھا جسم کا ترک اولیٰ ایام میں پیری کے
جاتا تھا چلا ہر دم جامہ بھی پرانا تھا
ہر آن تھی سرگوشی یا بات نہیں گاہے
اوقات ہے اک یہ بھی اک وہ بھی زمانہ تھا
پامالی عزیزوں کی رکھنی تھی نظر میں ٹک
اتنا بھی تمھیں آ کر یاں سر نہ اٹھانا تھا
اک محوتماشا ہیں اک گرم ہیں قصے کے
یاں آج جو کچھ دیکھا سو کل وہ فسانہ تھا
کیونکر گلی سے اس کی میں اٹھ کے چلا جاتا
یاں خاک میں ملنا تھا لوہو میں نہانا تھا
جو تیر چلا اس کا سو میری طرف آیا
اس عشق کے میداں میں میں ہی تو نشانہ تھا
جب تونے نظر پھیری تب جان گئی اس کی
مرنا ترے عاشق کا مرنا کہ بہانہ تھا
کہتا تھا کسو سے کچھ تکتا تھا کسو کا منھ
کل میر کھڑا تھا یاں سچ ہے کہ دوانہ تھا
کب اور غزل کہتا میں اس زمیں میں لیکن
پردے میں مجھے اپنا احوال سنانا تھا
میر تقی میر

تمہارا ذکر رہا یا مرا فسانہ رہا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 60
کوئی بھی دَور سرِ محفلِ زمانہ رہا
تمہارا ذکر رہا یا مرا فسانہ رہا
مرے نشانِ قدم دشتِ غم پہ ثبت رہے
اَبد کی لوح پہ تقدیر کا لکھا نہ رہا
وہ کوئی کنجِ سمن پوش تھا کہ تودۂ خس
اک آشیانہ بہرحال آشیانہ رہا
تم اک جزیرۂ دل میں سمٹ کے بیٹھ رہے
مری نگاہ میں طوفانِ صد زمانہ رہا
طلوعِ صبح کہاں، ہم طلوع ہوتے گئے
ہمارا قافلۂ بے درا روانہ رہا
یہ پیچ پیچ بھنور، اس کی اک گرہ تو کھلی
کوئی تڑپتا سفینہ رہا رہا نہ رہا
نہ شاخ گل پہ نشیمن نہ رازِ گل کی خبر
وہ کیا رہا جو جہاں میں قلندرانہ رہا
?1952
مجید امجد

اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 325
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے
اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے
چمک رہا ہے افق تک غبارِ تیرہ شبی
کوئی چراغ سفر پر روانہ ہو گیا ہے
ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی
ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے
غرض کہ پوچھتے کیا ہو مآلِ سوختگاں
تمام جلنا جلانا فسانہ ہو گیا ہے
فضائے شوق میں اس کی بساط ہی کیا تھی
پرند اپنے پروں کا نشانہ ہو گیا ہے
کسی نے دیکھے ہیں پت جھڑ میں پھول کھلتے ہوئے
دل اپنی خوش نظری میں دوانہ ہو گیا ہے
عرفان صدیقی

میں موت کی طرف ہوں روانہ بھی اپنے آپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 248
گزرا ہے مجھ میں ایک زمانہ بھی اپنے آپ
میں موت کی طرف ہوں روانہ بھی اپنے آپ
بے شکل صورتوں کا ٹھکانا بھی اپنے آپ
بننے لگا ہے آئینہ خانہ بھی اپنے آپ
جب دھوپ سے ہنسی ترے آنچل کی شوخ تار
روٹھا بھی اپنے آپ میں ، مانا بھی اپنے آپ
جاری ہے جس کے مرکزی کردار کی تلاش
لوگوں نے لکھ دیا وہ فسانہ بھی اپنے آپ
صرفِ نظر بھی آپ کیا بزم میں مگر
اس دلنواز شخص نے جانا بھی اپنے آپ
کتنا ابھی ابھی تر و تازہ تھا شاخ پر
یہ کیا کہ ہو گیا ہے پرانا بھی اپنے آپ
منصور کائنات کا ہم رقص کون ہے
یہ گھومنا بھی اور گھمانا بھی اپنے آپ
منصور آفاق

پھر نہ آگے ترا فسانہ چلا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 34
چال ایسی غم زمانہ چلا
پھر نہ آگے ترا فسانہ چلا
منزل زیست بے سراغ رہی
کوئی جب تک برہنہ پا نہ چلا
دل ملیں تو قدم بھی ملتے ہیں
ساتھ ورنہ کوئی چلا نہ چلا
کس طرف سے تری صدا آئی
چھوڑ کر دل ہر اک ٹھکانہ چلا
کیوں گریزاں ہیں منزلیں ہم سے
نہ چلے ہم کہ رہنما نہ چلا
آج کیسی ہوا چلی باقیؔ
ایک جھونکے میں آشیانہ چلا
باقی صدیقی

وہ دل چھوڑ کر جا رہا ہے زمانہ

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 26
ہوئی کش مکش زندگی کی فسانہ
وہ دل چھوڑ کر جا رہا ہے زمانہ
اسی میں ہے پوشیدہ راز زمانہ
فسانہ حقیقت، حقیقت فسانہ
نہ اتراؤ صیاد کی دوستی پر
اسی باغ میں تھا مرا آشیانہ
ادھر نام تک مٹ رہا ہے کسی کا
ادھر بن رہا ہے کسی کا فسانہ
نہ پوچھو محبت کی پرواز باقیؔ
بہت دور تک ساتھ آیا زمانہ
باقی صدیقی