ٹیگ کے محفوظات: فرید

وہ جان دے کے اپنی کسی نے ہے عید کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 462
قربانی کر قبول، اے مولا شہید کی
وہ جان دے کے اپنی کسی نے ہے عید کی
اب تو معاف امتِ وسطی کا جرم کر
کر دے جہاں میں ختم حکومت یزید کی
روہی کی ایک صبح کا درشن سا ہو گیا
میں سن رہا تھا رات کو کافی فرید کی
آتی ہوئی رتوں کا کسی کو نہیں خیال
کرتے ہیں گفتگو سبھی ماضی بعید کی
لعنت ہزار ایسی حکومت پہ بار بار
جمہوریت کی اس نے ہے مٹی پلید کیٍ
لے کر ہوا اڑے گی کسی روز تو اسے
میں نے تمام عمر جو خوشبو کشید کی
میں پڑھ رہا ہوں پچھلے زمانے کی سرگزشت
میں نے مگرکتاب غزل کی خرید کی
منصور بے چراغ مکانوں کی سمت دیکھ
وہ سو گئی ہے آخری بستی امید کی
منصور آفاق

قسم خدا کی ۔۔ جہنم رسید ہوتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 388
یہ مسجدوں میں جوخود کُش شہید ہوتے ہیں
قسم خدا کی ۔۔ جہنم رسید ہوتے ہیں
طلب بھی پاتی ہے ترتیب ٹیلی ویژ ن سے
جہاں کو دیکھ کے ہم بھی جدید ہوتے ہیں
ہر اک دور کا اک شاہ حسین ہوتا ہے
ہرایک دور میں خواجہ فرید ہوتے ہیں
نکل کے گھر سے یونہی رات رات چلتا ہوں
بڑے ہی یا د کے حملے شدید ہوتے ہیں
یزید کوئی بھی ہوتا نہیں حسین مزاج
حسین نام کے لیکن یزید ہوتے ہیں
میں جتنی کرتا ہوں کوشش درست کرنے کی
خراب اتنے مسائل مزید ہوتے ہیں
نکلتی ہے یہ مصائب سے شاعری منصور
یہ مصرعے خونِ جگرسے کشید ہوتے ہیں
منصور آفاق