ٹیگ کے محفوظات: فرہاد

واماندگی ہے ورثۂ اجداد کیا کہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
اِک اِک قدم پہ ہے نئی ایجاد کیا کہیں
واماندگی ہے ورثۂ اجداد کیا کہیں
صحرا میں جیسے کوئی بگولہ ہو بے مُہار
ہم آپ ہیں کُچھ ایسے ہی آزاد کیا کہیں
ہم مطمئن ہیں جس طرح اینٹوں کو جوڑ کر
یوں بھی کبھی ہوئے نگر آباد کیا کہیں
ہم نے تو کوہِ جُہل و کسالت کیا ہے زیر
کہتے ہیں لوگ کیوں ہمیں فرہاد کیا کہیں
باٹوں سے تولتے ہیں جو پھولوں کی پتّیاں
حق میں ہمارے فن کے وہ نقّاد کیا کہیں
ہم جنس اوجِ تخت سے لگتے ہیں کیوں حقیر
ماجِد یہ ہم کہ جو نہیں شہ زاد کیا کہیں
ماجد صدیقی

دکھاتا ہے چلن صّیاد کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
ستم کرنے لگا ایجاد کیا کیا
دکھاتا ہے چلن صّیاد کیا کیا
فلک کی بے کراں پہنائیوں میں
بھٹکتی ہے مری فریاد کیا کیا
زمانہ باپ ہے شیریں کا جس نے
ہٹائے راہ سے فرہاد کیا کیا
کہا جب کچھ خلافِ طبع اُس کے
کِیا اُس نے بھی پھر ارشاد کیا کیا
مجھے تشنہ سمجھ کر، خستّوں پر
اُتر آئے ہیں ابر و باد کیا کیا
جھلکتے ہیں تِرے شعروں میں ماجدؔ
نجانے مانی و بہزاد کیا کیا
ماجد صدیقی

یعنی جاناں دل کا تقاضا آہ بھی ہے فریاد بھی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 230
ہے رنگِ ایجاد بھی دل میں اور زخم ایجاد بھی ہے
یعنی جاناں دل کا تقاضا آہ بھی ہے فریاد بھی ہے
تیشہ ناز نے میری انا کے خوں کی قبا پہنائی مجھے
میں جو ہوں پرویز ہوں اک جو ظالم فرہاد بھی ہے
منحصر اس کی منشا پر ہے کس طور اس سے پیش آؤں
قید میری بانہوں میں وہ ہو کر وہ قاتل آزاد بھی ہے
جون جدا تو رہنا ہو گا تجھ کو اپنے یاروں بیچ
یار ہی تو یاروں کا نہیں ہے یاروں کا استاد بھی ہے
ساری ردیفیں بھی حاضر ہیں پھر ساری ترکیبیں بھی
اور تمہیں کیا چاہیئے یارو، حاصل میری داد بھی ہے
جون ایلیا

وہ بچھڑا اور دھیان میں اس کے سو موسم ایجاد ہوئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 164
دل کتنا آبادہوا جب دیدکے گھر برباد ہوئے
وہ بچھڑا اور دھیان میں اس کے سو موسم ایجاد ہوئے
ناموری کی بات دگر ہے ورنہ یارو سوچو تو
گلگلوں اب تک کتنے تیشے بے خونِ فرہاد ہوئے
لائیں کہاں سے بول رسیلے ہونٹوں کی ناداری میں
سمجھو ایک زمانہ گزرا بوسوں کی امداد ہوئے
تم میری اک خود مستی ہو میں ہوں تمہاری خود بینی
رشتے میں اس عشق کے ہم تم دونوں بےبنیاد ہوئے
میرا کیا اک موجِ ہوا ہوں پر یوں ہے اے غنچہ دہن
تُو نے دل کا باغ جو چھوڑا غنچے بے استاد ہوئے
عشق محلے میں اب یارو کیا کوئی معشوق نہیں
کتنے قاتل موسم گزرے شور ہوئے فریاد ہوئے
ہم نے دل کو مار رکھا ہے اور جتاتے پھرتے ہیں
ہم دل زخمی مژگاں خونیں ہم نہ ہوئے جلاد ہوئے
برق کیا ہے عکسِ بدن نے تیرے ہمیں اے تنگ قبا
تیرے بدن پر جتنے تِل ہیں سارے ہم کو یاد ہوئے
تُو نے کبھی سوچا تو ہو گا۔۔سوچا بھی اے مست ادا
تیری ادا کی آبادی پر کتنے گھر برباد ہوئے
جو کچھ بھی رودادِ سخن تھی ہونٹوں کی دُوری سے تھی
جب ہونٹوں سے ہونٹ ملے تو یکدم بے رُوداد ہوئے
خاک نشینوں سے کوچے کے کیا کیا نخوت کرتے ہیں
جاناں جان! ترے درباں تو فرعون و شدّاد ہوئے
شہروں میں ہی خاک اُڑالو شور مچالو بے حالو
جن دَشتوں کی سوچ رہے ہو وہ کب کے برباد ہوئے
سمتوں میں بکھری وہ خلوت۔۔وہ دل کی رنگ آبادی
یعنی وہ جو بام و دَر تھے یکسر گردوباد ہوئے
تُو نے رندوں کا حق مارا مے خانے میں رات گئے
شیخ!! کھرے سیّد ہیں ہم تو ہم نے سُنا ناشاد ہوئے
جون ایلیا

خون کسو کا کوئی کرے واں داد نہیں فریاد نہیں

دیوان پنجم غزل 1700
حاکم شہر حسن کے ظالم کیونکے ستم ایجاد نہیں
خون کسو کا کوئی کرے واں داد نہیں فریاد نہیں
یاری ہماری یک باری خاطر سے فراموش ان نے کی
ذکر ہمارا اس سے کیا سو کہنے لگا کچھ یاد نہیں
کیا کیا مردم خوش ظاہر ہیں عالم حسن میں نام خدا
عالم عشق خرابہ ہے واں کوئی گھر آباد نہیں
عشق کوئی ہمدرد کہیں مدت میں پیدا کرتا ہے
کوہ رہیں گو نالاں برسوں لیکن اب فرہاد نہیں
لڑنا کاواکی سے فلک کا پیش پا افتادہ ہے
میر طلسم غبار جو یہ ہے کچھ اس کی بنیاد نہیں
میر تقی میر

ظلم صریح عشق کی امداد سے ہوا

دیوان چہارم غزل 1345
نے ہم سے کچھ نہ اس ستم ایجاد سے ہوا
ظلم صریح عشق کی امداد سے ہوا
شیریں کا حسن ایسا تھا جو خستہ جان دیں
جو کچھ ہوا سو خواہش فرہاد سے ہوا
خوش زمزمہ طیور ہی ہوتے ہیں میر اسیر
ہم پر ستم یہ صبح کی فریاد سے ہوا
میر تقی میر

ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

دیوان سوم غزل 1230
بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو
ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو
عشق پیچے کی طرح حسن گرفتاری ہے
لطف کیا سرو کی مانند گر آزاد رہو
ہم کو دیوانگی شہروں ہی میں خوش آتی ہے
دشت میں قیس رہو کوہ میں فرہاد رہو
وہ گراں خواب جو ہے ناز کا اپنے سو ہے
داد بے داد رہو شب کو کہ فریاد رہو
میر ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے
اس خرابے میں مری جان تم آباد رہو
میر تقی میر

سو غزل پڑھتے پھرے ہیں لوگ فیض آباد میں

دیوان سوم غزل 1183
شعر کچھ میں نے کہے بالوں کی اس کے یاد میں
سو غزل پڑھتے پھرے ہیں لوگ فیض آباد میں
سرخ آنکھیں خشم سے کیں ان نے مجھ پر صبح کو
دیکھی یہ تاثیر شب کی خوں چکاں فریاد میں
یہ تصرف عشق کا ہے سب وگرنہ ظرف کیا
ایک عالم غم سمایا خاطر ناشاد میں
عشق کی دیوانگی لائی ہمیں جنگل کی اور
ورنہ ہم پھرتے بگولے سے نہ خاک و باد میں
دیر لگتا ہے گلے تلوار پر وہ رکھ کے ہاتھ
خوبیاں بھی تو بہت ہیں اس ستم ایجاد میں
یہ بنا رہتی سی آتی ہے نظر کچھ یاں مجھے
اچھی ہے تعمیر دل کی اس خراب آباد میں
میر ہم جبہہ خراشوں سے کسو کا ذکر کیا
وے ہنر ہم میں ہیں جو تھے تیشۂ فرہاد میں
میر تقی میر

زبان سرخ سرِسبز دیتی ہے برباد

دیوان سوم غزل 1127
ہماری بات کو اے شمع بزم کریو یاد
زبان سرخ سرِسبز دیتی ہے برباد
ہمیں اسیر تو ہونا ہے اپنا اچھا یاد
کشش نہ دام کی دیکھی نہ کوشش صیاد
نہ دردمندی سے یہ راہ تم چلے ورنہ
قدم قدم پہ تھی یاں جاے نالہ و فریاد
ہزار فاختہ گردن میں طوق پہنے پھرے
اسے خیال نہیں کچھ وہ سرو ہے آزاد
جہاں میں اتنے ہی آشوب کیا رہیں گے بس
ابھی پڑے گا مرے خون بے گنہ سے زیاد
چمن میں اٹھتے ہیں سنّاہٹے سے اے بلبل
جگرخراش یہ نالے ہیں تیرے منھ سے زیاد
ثبات قصر و در و بام و خشت و گل کتنا
عمارت دل درویش کی رکھو بنیاد
چمن میں یار ہمیں لے گئے تھے وا نہ ہوئے
ہمارے ساتھ یہی غم یہی دل ناشاد
ہمیں تو مرنے کا طور اس کے خوش بہت آیا
طواف کریے جو ہو نخل ماتم فرہاد
نظر نہ کرنی طرف صید کے دم بسمل
یہ ظلم تازہ ہوا اس کشندے سے ایجاد
چلے نہ تیغ اگر ہم نگاہ عجز کریں
ہماری اور نہ دیکھے خدا کرے جلاد
کب ان نے دل میں کر انصاف ہم پہ لطف کیا
وہی ہے خشم وہی یاں سے جا وہی بیداد
تمام ریجھ پچائو ہیں اب تو پھر پس مرگ
کہا کنھوں نے تو کیا عزّاسمہٗ استاد
اگرچہ گنج بھی ہے پر خرابیاں ہیں بہت
نہ پھر خرابے میں اے میر خانماں برباد
میر تقی میر

کوئی ایسا ستم دنیا میں اے صیاد کرتا ہے

دیوان دوم غزل 1022
چمن کو یاد کر مرغ قفس فریاد کرتا ہے
کوئی ایسا ستم دنیا میں اے صیاد کرتا ہے
ہوا خانہ خراب آنکھوں کا اشکوں سے تو برجا ہے
رہ سیلاب میں کوئی بھی گھر بنیاد کرتا ہے
ملایا خاک کر دامن سے اشکوں میں ڈبایا پھر
مرے ہاتھوں کی تردستی گریباں یاد کرتا ہے
ابھر اے نقش شیریں بے ستوں اوپر تماشا کر
کہ کارستانیاں تیرے لیے فرہاد کرتا ہے
میر تقی میر

دیکھے سے طور اس کے خدا یاد آگیا

دیوان دوم غزل 708
ناگہ جو وہ صنم ستم ایجاد آگیا
دیکھے سے طور اس کے خدا یاد آگیا
پھوڑا تھا سر تو ہم نے بھی پر اس کو کیا کریں
جو چشم روزگار میں فرہاد آگیا
اپنا بھی قصد تھا سردیوار باغ کا
توڑا ہی تھا قفس کو پہ صیاد آگیا
جور و ستم اٹھانے ہی اس سے بنیں گے شیخ
مسجد میں گر وہ عاشق بیداد آگیا
دیکھیں گے آدمی کی روش میر ہم تری
گر سامنے سے ٹک وہ پری زاد آگیا
میر تقی میر

بھول تو ہم کو گئے ہو یہ تمھیں یاد رہے

دیوان اول غزل 536
مر ہی جاویں گے بہت ہجر میں ناشاد رہے
بھول تو ہم کو گئے ہو یہ تمھیں یاد رہے
ہم سے دیوانے رہیں شہر میں سبحان اللہ
دشت میں قیس رہے کوہ میں فرہاد رہے
کچھ بھی نسبت نہ تھی جب دیر سے تب کیا تھا شیخ
ہم حرم میں بھی رہے تو ترے داماد رہے
دور اتنی تو نہیں شام اجل دوری میں
تا سحر ایسی ہی جو زاری و فریاد رہے
سر تو کٹوا ہی چکے میر تڑپ سے تو بچیں
جو ٹک اک پائوں رکھے چھاتی پہ جلاد رہے
میر تقی میر

پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کروگے

دیوان اول غزل 516
اب کرکے فراموش تو ناشاد کروگے
پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کروگے
زنہار اگر خستہ دلاں بے ستوں جائو
ٹک پاس ہنرمندی فرہاد کروگے
غیروں پہ اگر کھینچوگے شمشیر تو خوباں
اک اور مری جان پہ بیداد کروگے
جاگہ نہیں یاں رویئے جس پر نہ کھڑے ہو
کچھ شور ہی شر پر تو مجھے یاد کروگے
اس دشت میں اے راہرواں ہر قدم اوپر
مانند جرس نالہ و فریاد کروگے
گر دیکھوگے تم طرز کلام اس کی نظر کر
اے اہل سخن میر کو استاد کروگے
میر تقی میر

ٹک اک خاطر خواب صیاد کیجو

دیوان اول غزل 412
نہ آ دام میں مرغ فریاد کیجو
ٹک اک خاطر خواب صیاد کیجو
یہ تہمت بڑی ہے کہ مر گئی ہے شیریں
تحمل ٹک اے مرگ فرہاد کیجو
غم گل میں مرتا ہوں اے ہم صفیرو
چمن میں جو جائو مجھے یاد کیجو
رہائی مری مدعی ضعف سے ہے
تو صیاد مجھ کو نہ آزاد کیجو
مرے روبرو آئینہ لے کے ظالم
دم واپسیں میں تو تو شاد کیجو
جدا تن سے کرتے ہی پامال کرنا
یہ احساں مرے سر پہ جلاد کیجو
میر تقی میر

ہم فراموش ہوؤں کو بھی کبھو یاد کرو

ؤدیوان اول غزل 395
کون کہتا ہے نہ غیروں پہ تم امداد کرو
ہم فراموش ہوؤں کو بھی کبھو یاد کرو
ہیں کہاں مجھ سے وفا پیشہ نہ بیداد کرو
نہ کرو ایسا کہ پھر میرے تئیں یاد کرو
ایسے ہم پیشہ کہاں ہوتے ہیں اے غم زدگاں
مرگ مجنوں پہ کڑھو ماتم فرہاد کرو
اے اسیران تہ دام نہ تڑپو اتنا
تا نہ بدنام کہیں چنگل صیاد کرو
گوکہ حیرانی دیدار ہے اے آہ و سرشک
کوئی روشن کرو آنکھیں کوئی دل شاد کرو
زاہداں دیتے نشاں ان بتوں کا ڈرتا ہوں
توڑ کر کعبہ کہیں دیر نہ آباد کرو
کیا ہوا ہے ابھی تو ہستی ہی کو بھولے ہو
آخرکار محبت کو ٹک اک یاد کرو
اول عشق ہی میں میر جی تم رونے لگے
خاک ابھی منھ کو ملو نالہ و فریاد کرو
میر تقی میر

ورنہ یہ کنج قفس بیضۂ فولاد نہیں

دیوان اول غزل 345
ایک پرواز کو بھی رخصت صیاد نہیں
ورنہ یہ کنج قفس بیضۂ فولاد نہیں
شیخ عزلت تو تہ خاک بھی پہنچے گی بہم
مفت ہے سیر کہ یہ عالم ایجاد نہیں
داد لے چھوڑوں میں صیاد سے اپنی لیکن
ضعف سے میرے تئیں طاقت فریاد نہیں
کیوں ہی معذور بھی رکھ یوں تو سمجھ دل میں شیخ
یہ قدح خوار مرے قابل ارشاد نہیں
بے ستوں بھی ہے وہی اور وہی جوے شیر
تھا نمک شہرت شیریں کا سو فرہاد نہیں
کیا کہوں میر فراموش کیا ان نے تجھے
میں تو تقریب بھی کی پر تو اسے یاد نہیں
میر تقی میر

ہر خوں گرفتہ جائے ہے جلاد کی طرف

دیوان اول غزل 250
غالب ہے تیرے عہد میں بیداد کی طرف
ہر خوں گرفتہ جائے ہے جلاد کی طرف
کن نے لیا ہے تم سے مچلکا کہ داد دو
ٹک کان ہی رکھا کرو فریاد کی طرف
ہر تار زلف قیمت فردوس ہے ترا
کرتا ہے کون طرئہ شمشاد کی طرف
ہم نے تو پرفشانی نہ جانی کہ ایک بار
پرواز کی چمن سے سو صیاد کی طرف
حیران کار عشق ہے شیریں کا نقش میر
کچھ یوں ہی دیکھتا نہیں فرہاد کی طرف
میر تقی میر

اپنے لئے فریب سا ایجاد کر لیا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 20
جب چاہا خود کو شاد یا ناشاد کر لیا
اپنے لئے فریب سا ایجاد کر لیا
کیا سوچنا کہ شوق کا انجام کیا ہوا
جب اختیار پیشۂ فرہاد کر لیا
خود سے چھپا کے خود کو زمانے کے خوف سے
ہم نے تو اپنے آپ کو برباد کر لیا
تھا عشق کا حوالہ نیا، ہم نے اس لئے
مضمونِ دل کو پھر سے طبع زاد کر لیا
یوں بھی پناہ سایہ کڑی دھوپ میں ملی
آنکھیں جھکائیں اور تجھے یاد کر لیا
آیا نیا شعور نئی اُلجھنوں کے ساتھ
سمجھے تھے ہم کہ ذہن کو آزاد کر لیا
بس کہ امامِ عصر کا فرمان تھا یہی
منہ ہم نے سوئے قبلۂ اضداد کر لیا
آفتاب اقبال شمیم

جو قاتل تھے مقتول ہوئے، جو صید تھے اب صیّاد ہوئے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 21
اب کے برس دستورِستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے
جو قاتل تھے مقتول ہوئے، جو صید تھے اب صیّاد ہوئے
پہلے بھی خزاں میں باغ اجڑے پر یوں نہیں جیسے اب کے برس
سارے بوٹے پتہ پتہ روش روش برباد ہوئے
پہلے بھی طوافِ شمعِ وفا تھی، رسم محبت والوں کی
ہم تم سے پہلے بھی یہاں منصور ہوئے، فرہاد ہوئے
اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن میں کہرام مچا
اک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے
فیض، نہ ہم یوسف نہ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے؎۱
اپنی کیا، کنعاں میں رہے یا مصر میں‌ جا آباد ہوئے
؎۱ غنی روزِ سیاہ پیرِ کنعاں را تماشا کن ۔۔۔۔ کہ نورِ دیدہ اش روشن کند چشمِ زلیخا را
فیض احمد فیض

جان اسکی ترے طوطے میں ہے، یاد سے کہنا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 51
میں دیو کا قیدی ہوں پری زاد سے کہنا
جان اسکی ترے طوطے میں ہے، یاد سے کہنا
ممکن ہے ابابیلوں کے مالک سے ملاقات
اُس ہاتھیوں کے لشکرِ برباد سے کہنا
آنا ذرا خسروسے مگرآنکھ بچا کر
شیریں نے کیا یاد ہے فرہاد سے کہنا
کوہ قاف سے آیا ہے بلاوہ کسی رُت کا
تیار رہے اشہبِ شمشاد سے کہنا
میں بادِ زمانہ کا ازل سے ہوں مخالف
اے بادِ جہاں گیر ،شہِ باد سے کہنا
معلوم ہیں اسرار ہمیں تیرے کرم کے
طیاروں پہ آتی ہوئی امداد سے کہنا
حاکم تری گلیوں میں ہیں ابلیس کے بیٹے
یہ بات مرے ملکِ خداداد سے کہنا
منصور نہیں بھولا میانوالی کی گلیاں
اے باد صبا اُس دلِ ناشاد سے کہنا
منصور آفاق