ٹیگ کے محفوظات: فروش

اک شمع ہے دلیلِ سحر سو خموش ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 246
ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے
اک شمع ہے دلیلِ سحر سو خموش ہے
نے مژدۂ وصال نہ نظّارۂ جمال
مدّت ہوئی کہ آشتئ چشم و گوش ہے
مے نے کِیا ہے حسنِ خود آرا کو بے حجاب
اے شوق یاں اجازتِ تسلیمِ ہوش ہے
گوہر کو عقدِ گردنِ خوباں میں دیکھنا
کیا اوج پر ستارۂ گوہر فروش ہے
دیدار بادہ، حوصلہ ساقی، نگاہ مست
بزمِ خیال مے کدۂ بے خروش ہے
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل
زنہار اگر تمہیں ہوسِ نائے و نوش ہے
دیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
ساقی بہ جلوہ دشمنِ ایمان و آگہی
مطرب بہ نغمہ رہزنِ تمکین و ہوش ہے
یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط
دامانِ باغبان و کفِ گل فروش ہے
لطفِ خرامِ ساقی و ذوقِ صدائے چنگ
یہ جنّتِ نگاہ وہ فردوسِ گوش ہے
یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں
نے وہ سرور و سوز@ نہ جوش و خروش ہے
داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
غالب صریرِ خامہ نوائے سروش ہے
@ نسخۂ آگرہ 1863ء اور نسخۂ مہر میں ’سور‘
مرزا اسد اللہ خان غالب

بیکراں دریاے غم کے ہیں بلا جوش و خروش

دیوان پنجم غزل 1636
کرکریں ہیں لجّوں لطموں کے دڑیڑے سب کے گوش
بیکراں دریاے غم کے ہیں بلا جوش و خروش
صومعے کو اس ہواے ابر میں دیتے ہیں آگ
میکدے سے باہر آتے ہی نہیں ذی عقل و ہوش
تنگ چولی سوجگہ سے کسمساتے ہی چلی
تنگ درزی سے کبھی ملتا نہیں وہ تنگ پوش
وائے رے پروانہ کیسا چپکے جل کر رہ گیا
گرمی پہنچے کیا اچھلتا ہے سپند ہرزہ کوش
کیسا خود گم سر بکھیرے میر ہے بازار میں
ایسا اب پیدا نہیں ہنگامہ آرا دل فروش
میر تقی میر

دل کے دل ہی میں کھپائے اپنے جوش

دیوان سوم غزل 1147
ہوں تو دریا پر کیا ترک خروش
دل کے دل ہی میں کھپائے اپنے جوش
مست رہتے ہیں ہم اپنے حال میں
عرض کریے حال پر یہ کس کے گوش
عاقبت تجھ کو لباس راہ راہ
لے گیا ہے راہ سے اے تنگ پوش
ہو نہ آگے میرے جوں سوسن زباں
ہوسکے تو گل کے رنگوں رہیے گوش
میر کو طفلان تہ بازار میں
دیکھو شاید ہو وہیں وہ دل فروش
میر تقی میر

کس کا ہے راز بحر میں یارب کہ یہ ہیں جوش

دیوان اول غزل 239
ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروش
کس کا ہے راز بحر میں یارب کہ یہ ہیں جوش
ابروے کج ہے موج کوئی چشم ہے حباب
موتی کسی کی بات ہے سیپی کسی کا گوش
ان مغبچوں کے کوچے ہی سے میں کیا سلام
کیا مجھ کو طوف کعبہ سے میں رند درد نوش
حیرت سے ہووے پرتو مہ نور آئینہ
تو چاندنی میں نکلے اگر ہو سفید پوش
کل ہم نے سیر باغ میں دل ہاتھ سے دیا
اک سادہ گل فروش کا آکر سبد بدوش
جاتا رہا نگاہ سے جوں موسم بہار
آج اس بغیر داغ جگر ہیں سیاہ پوش
شب اس دل گرفتہ کو وا کر بزور مے
بیٹھے تھے شیرہ خانے میں ہم کتنے ہرزہ کوش
آئی صدا کہ یاد کرو دور رفتہ کو
عبرت بھی ہے ضرور ٹک اے جمع تیز ہوش
جمشید جس نے وضع کیا جام کیا ہوا
وے صحبیتں کہاں گئیں کیدھر وے ناو نوش
جزلالہ اس کے جام سے پاتے نہیں نشاں
ہے کوکنار اس کی جگہ اب سبوبدوش
جھومے ہے بید جاے جوانان مے گسار
بالاے خم ہے خشت سر پیر مے فروش
میر اس غزل کو خوب کہا تھا ضمیر نے
پر اے زباں دراز بہت ہوچکی خموش
میر تقی میر

بڑے بڑے بریف کیس شانہء سروش پر پڑے رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 642
مراسلے دیارِ غیب کے قلی کے دوش پر پڑے رہے
بڑے بڑے بریف کیس شانہء سروش پر پڑے رہے
پیانو پہ مچلتی انگلیوں کے بولتے سروں کی یاد میں
تمام عمر سمفنی کے ہاتھ چشم و گوش پر پڑے رہے
ہزار ہا کلائیاں بہار سے بھری رہیں ہری رہیں
نصیب زرد موسموں کے دستِ گل فروش پر پڑے رہے
برہنہ رقص میں تھی موت کی کوئی گھڑی ہزار شکر ہے
کہ سات پردے میرے دیدئہ شراب نوش پر پڑے رہے
اٹھا کے لے گئی خزاں تمام رنگ صحن سے حیات کے
کسی نے جو بنائے تھے وہ پھول میز پوش پر پڑے رہے
منصور آفاق