ٹیگ کے محفوظات: فروشاں

کہ بھر جھولی نہ یاں سے لے گئی گل ہاے حرماں کو

دیوان اول غزل 378
نسیم مصر کب آئی سواد شہر کنعاں کو
کہ بھر جھولی نہ یاں سے لے گئی گل ہاے حرماں کو
زبان نوحہ گر ہوں میں قضا نے کیا ملایا تھا
مری طینت میں یارب سودئہ دل ہاے نالاں کو
کوئی کانٹا سررہ کا ہماری خاک پر بس ہے
گل گلزار کیا درکار ہے گور غریباں کو
یہ کیا جانوں ہوا سینے میں کیا اس دل کو اب ناصح
سحر خوں بستہ تو دیکھا تھا میں نے اپنی مژگاں کو
گل و سنبل ہیں نیرنگ قضا مت سرسری گذرے
کہ بگڑے زلف و رخ کیا کیا بناتے اس گلستاں کو
صداے آہ جیسے تیرجی کے پار ہوتی ہے
کسو بیدرد نے کھینچا کسو کے دل سے پیکاں کو
کریں بال ملک فرش رہ اس ساعت کہ محشر میں
لہو ڈوبا کفن لاویں شہید ناز خوباں کو
کیا سیر اس خرابے کا بہت اب چل کے سو رہیے
کسو دیوار کے سائے میں منھ پر لے کے داماں کو
بہاے سہل پر دیتے ہیں کس محبوب کو کف سے
قلم اس جرم پر کرنا ہے دست گل فروشاں کو
تری ہی جستجو میں گم ہوا ہے کہہ کہاں کھویا
جگر خوں گشتہ دل آزردہ میر اس خانہ ویراں کو
میر تقی میر