ٹیگ کے محفوظات: فرمانے

اس گھر میں کوئی بھی نہ تھا شرمندہ ہوئے ہم جانے سے

دیوان پنجم غزل 1757
کیسی سعی و کشش کوشش سے کعبے گئے بت خانے سے
اس گھر میں کوئی بھی نہ تھا شرمندہ ہوئے ہم جانے سے
دامن پر فانوس کے تھا کچھ یوں ہی نشاں خاکستر کا
شوق کی میں جو نہایت پوچھی جان جلے پروانے سے
ننگے سامنے آتے تھے تو کیا کیا زجر اٹھاتے تھے
ننگ لگا ہے لگنے انھیں اب بات ہماری مانے سے
پاس غیرت تم کو نہیں کچھ دریا پرسن غیر کو تم
گھر سے اٹھ کے چلے جاتے ہو نہانے کے بھی بہانے سے
تم نے کہا مر رہ بھی جاکر بندہ جاکر مر ہی رہا
کس دن میں نے عدول کیا ہے صاحب کے فرمانے سے
سوکھ کے ہوں لکڑی سے کیوں نہ زرد و زبوں ہم عاشق زار
کچھ نہیں رہتا انساں میں ہر لحظہ غم کے کھانے سے
جب دیکھو تب تربت عاشق جھکڑ سے ہے تزلزل میں
عشق ہے باد صرصر کو یاں ان کی خاک اڑانے سے
برسوں میں پہچان ہوئی تھی سو تم صورت بھول گئے
یہ بھی شرارت یاد رہے گی ہم کو نہ جانا جانے سے
سنی سنائی بات سے واں کی کب چیتے ہیں ہم غافل
دونوں کان بھرے ہیں اپنے بے تہ یاں کے فسانے سے
میر کی تیری کیا سلجھے گی حرف و سخن میں گنجلک ہے
کوئی بھی عاقل الجھ پڑے ہے ناصح ایسے دوانے سے
میر تقی میر

کچھ دیر میں ہم مرجھانے کو ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 174
تم بادِ صبا کہلاؤ تو کیا
کچھ دیر میں ہم مرجھانے کو ہیں
کوئی آکے ہمیں زنجیر کرے
ہم رقصِ جنوں فرمانے کو ہیں
جو بادل بستی چھوڑ گئے
کسی بن پہ بھرن برسانے کو ہیں
اب جاؤ ہمارے دھیان سے تم
ہم پل بھر جی بہلانے کو ہیں
جس شہر سے اس نے کوچ کیا
ہم کون وہاں رہ جانے کو ہیں
دل کیسے ریت میں ڈوب گیا
آنکھیں تو دھوکا کھانے کو ہیں
اب ہونٹوں پر کوئی ہاتھ نہیں
ہم دل کی بات بتانے کو ہیں
عرفان صدیقی

کہاں ہیں زمانے کا غم کھانے والے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 211
تباہی کے بادل ہیں لہرانے والے
کہاں ہیں زمانے کا غم کھانے والے
غم زندگی سے نظر تو ملائیں
غم عشق پر ناز فرمانے والے
زمانہ کسی کا ہوا ہے نہ ہو گا
ارے او فریب وفا کھانے والے
نظر اے فقیر سر راہ پر بھی
طواف حرم کے لئے جانے والے
چلو جام اک اور پی آئیں باقیؔ
ابھی جاگتے ہوں گے میخانے والے
باقی صدیقی