ٹیگ کے محفوظات: فراک

سوحریر سرخ اتار دی ،ہے لباسِ خاک پہن لیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 117
کہ جو فقر نے ہے عطاکیا وہی چاک چاک پہن لیا
سوحریر سرخ اتار دی ،ہے لباسِ خاک پہن لیا
لیا ڈھانپ ننگ نصیب کا اسی جامہ ء شبِ تار سے
جو جلادیا تھا فقیر نے وہی راکھ راکھ پہن لیا
کبھی سردمہر ہوئے کہیں تو سیاہ چین زمین تھی
گریں دوپہر میں بھی بجلیاں جو کبھی تپاک پہن لیا
کبھی شہر کے کسی موڑپریونہی خالی ہاتھ بڑھا دئیے
کبھی ذکر و فکر کی غار میں ترا انہماک پہن لیا
جو مٹھائیوں کی طلب اٹھی توزمیں کی خاک ہی پھانک لی
جو سفید سوٹ کو جی کیا تو سیہ فراک پہن لیا
جہاں یاد آئیں حکومتیں وہیں ہم برہنہ ہو گئے
جہاں حرف زاد کوئی ملا وہیں ملکِ پاک پہن لیا
منصور آفاق