ٹیگ کے محفوظات: فراز

ناچار ہوں کہ حکم نہیں کشفِ راز کا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 9
کچھ امتیاز مجھ کو نہ مے کا نہ سارکا
ناچار ہوں کہ حکم نہیں کشفِ راز کا
لگتی نہیں پلک سے پلک جو تمام شب
ہے ایک شعبدہ مژہِ نیم باز کا
دشمن پئے صبوح جگاتے ہیں یار کو
یہ وقت ہے نسیمِ سحر اھتزاز کا
ایمن ہیں اہلِ جذبہ کہ رہبر ہے ان کے ساتھ
سالک کو ہے خیال نشیب و فراز کا
پھنسنے کے بعد بھی ہے وہی دل شگفتگی
کیا خوب جال ہے نگہِ جاں نواز کا
تقویٰ مرا شعار ہے ، عصمت سرشتِ دوست
پھر مجھ سے کون سا ہے سبب احتراز کا
بارے عجیب بات تو پھیلی جہان میں
پایا کسی نے گو ثمر افشائے راز کا
ساقی کے ہیں اگر یہی الطاف، کیا عجب
ارض و سما میں ہوش نہ ہو امتیاز کا
پیرِ مغاں نے رات کو وہ کچھ دکھا دیا
ہرگز رہا نہ دھیان بھی حسنِ مجاز کا
دیتا ہے داغِ رشک پرندِ سپہر کو
جلوہ تمہاری معجزِ گوہر طراز کا
پانی وضو کو لاؤ، رخِ شمع زرد ہے
مینا اٹھاؤ وقت اب آیا نماز کا
یکتا کسی کو ہم نے نہ دیکھا جہان میں
طولِ امل جواب ہے زلفِ دراز کا
جورِ اجل کو شوخیِ بے جا کہا کیا
تھا مست شیفتہ جو کسی مستِ ناز کا
مصطفٰی خان شیفتہ

ناز والے نیاز کیا جانیں

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 35
ساز، یہ کینہ ساز کیا جانیں
ناز والے نیاز کیا جانیں
کب کسی در کی جُبّہ سائی کی
شیخ صاحب نماز کیا جانیں
جو رہِ عشق میں قدم رکھیں
وہ نشیب و فراز کیا جانیں
پوچھئے مے کشوں سے لطفِ شراب
یہ مزہ پاک باز کیا جانیں
حضرتِ خضر جب شہید نہ ہوں
لطفِ عمرِ دراز کیا جانیں
جو گزرتے ہیں داغ پر صدمے
آپ بندہ نواز کیا جانیں
داغ دہلوی

دعا قبول ہو یا رب کہ عمرِ خضر دراز

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 16
حریفِ مطلبِ مشکل نہیں فسونِ نیاز
دعا قبول ہو یا رب کہ عمرِ خضر دراز
نہ ہو بہ ہرزہ، بیاباں نوردِ وہمِ وجود
ہنوز تیرے تصوّر میں ہےنشیب و فراز
وصالِ جلوہ تماشا ہے پر دماغ کہاں!
کہ دیجئے آئینۂ انتظار کو پرواز
ہر ایک ذرّۂ عاشق ہے آفتاب پرست
گئی نہ خاک ہوئے پر ہوائے جلوۂ ناز
نہ پوچھ وسعتِ مے خانۂ جنوں غالب
جہاں یہ کاسۂ گردوں ہے ایک خاک انداز
مرزا اسد اللہ خان غالب

آئے نہیں دعائے تہجد کے بعض لوگ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 262
شب زندہ دار خواب، عشائے نماز لوگ
آئے نہیں دعائے تہجد کے بعض لوگ
کھلنے لگے تھے پھول گریباں کے چاک سے
لوٹ آئے دشتِ یاد سے ہم بے نیاز لوگ
دونوں کا ایک بیج ہے دونوں کی اک نمو
یونہی یہ خار و گل میں کریں امتیاز لوگ
کیسی عجیب چیز ہیں چہرے کے خال و خد
دل میں بسے ہوئے ہیں کئی بد لحاظ لوگ
پہلے پہل تھے میرے اجالے سے منحرف
کرتے ہیں آفتاب پہ اب اعتراض لوگ
ہر شخص بانس باندھ کے پھرتا ہے پاؤں سے
نکلیں گھروں سے کس طرح قامت دراز لوگ
صبحوں کو ڈھانپتے پھریں خوفِ صلیب سے
کالک پرست عہد میں سورج نواز لوگ
پتھر نژاد شہر! غنیمت سمجھ ہمیں
ملتے کہاں ہیں ہم سے سراپا گداز لوگ
منصور اب کہاں ہیں ہم ایسے ، دیار میں
غالب مثال آدمی، احمد فراز لوگ
منصور آفاق