ٹیگ کے محفوظات: فرار

سب یہ ہنر ہے دید کا، نقش و نگار کیا بھلا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 11
رنگ ہے رنگ سے تہی، اس کا شمار کیا بھلا
سب یہ ہنر ہے دید کا، نقش و نگار کیا بھلا
دائرہ ءِ نگاہ میں تُو کہ ہے میرے رُو برُو
ہے تری رو بروئی، دائرہ وار کیا بھلا
دل کی یہ ہار بھی تو ایک طور ہے زندگی کا یار
یوں بھی ہے دل، خود اپنی ہار، ہار کی ہار کیا بھلا
ہے یہ قرار گاہِ بود، ایک فرارِ صد نمود
اس میں فرار کیا بھلا، اس سے فرار کیا بھلا
یوں تو سو طرح میں خود اپنی پہنچ سے پار ہوں
وہ جو پہنچ کے پار ہے، اس کے ہے پار کیا بھلا
ہے یہ غبار روشنی، نسل و نژاد تیرگی
جیبِ غبار میں بجز، موجِ غبار کیا بھلا
عرصہ ءِ دو نفس کے بیچ، کون تھا میں، میں کون ہوں؟
تو بھی وہی ہے وہ جو تھا، اے مرے یار کیا بھلا؟
کیف بہ کیف، کم بہ کم، دور بدور، دم بدم
حالتِ رم بہ رم یں ہے، قرب و جوار کیا بھلا
جون ایلیا

گاڑی مسافروں کے پھر انتظار میں ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 623
لوگوں کی بے وفائی کب اختیار میں ہے
گاڑی مسافروں کے پھر انتظار میں ہے
اعلان جا کے کردومسجد کی چھت پہ چڑھ کر
میں چاہتاہوں جس کو وہ میری کار میں ہے
اک کونج رو رہی ہے سوکھی ہوئی ندی پر
سہمی ہوئی سی لرزش اس کی پکار میں ہے
میں چاہتا ہوں اس سے وعدہ نبھانا لیکن
غم سے نجات جو ہے خود سے فرار میں ہے
بے شک ہزاروں میں نے اشعار کہہ دئیے ہیں
سچ پوچھ تو ابھی تک بات اختصار میں ہے
میرے یہ لفظ بھی تو کرلاہٹیں ہیں میری
میرا وجود شامل کونجوں کی ڈار میں ہے
تقدیر کے طلسم سے سورج نکل گیا
دیکھو کئی دنوں سے راتوں کے غار میں ہے
اٹھ چل کنارِ سندھ پہ کرتے ہیں کچھ شکار
مچھلی کی بھی ضرورت منصور جار میں ہے
منصور آفاق

سنائی دیتا ہے اب تک گٹار کمرے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 345
کھلا گیا کوئی آسیب زار کمرے میں
سنائی دیتا ہے اب تک گٹار کمرے میں
یہ شیمپین یہ کینڈل یہ بے شکن بستر
پڑا ہوا ہے ترا انتظار کمرے میں
یہ رات کتنے نصیبوں کے بعد آئی ہے
ذرا ذرا اسے دن بھر گزار کمرے میں
دکھائی دی تھی مجھے ایک بار پرچھائیں
پلٹ پلٹ کے گیا بار بار کمرے میں
جو میں نے کروٹیں قالین پر بچھائی تھیں
وہ کر رہی ہے انہیں بھی شمار کمرے میں
تمام رات تعاقب کریں گی دیواریں
نہیں ہے قید سے ممکن فرار کمرے میں
چھپا رہا تھا کسی سے دھویں میں اپنا آپ
میں پی رہا تھا مسلسل سگار کمرے میں
منصور آفاق