ٹیگ کے محفوظات: فتادہ

اس میں آسودگی زیادہ تھی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 101
جب ملاقات بے ارادہ تھی
اس میں آسودگی زیادہ تھی
نہ توقع نہ انتظار نہ رنج
صبحِ ہجراں نہ شامِ وعدہ تھی
نہ تکلف نہ احتیاط نہ زعم
دوستی کی زبان سادہ تھی
جب بھی چاہا کہ گنگناؤں اسے
شاعری پیش پا فتادہ تھی
لعل سے لب چراغ سی آنکھیں
ناک ستواں جبیں کشادہ تھی
حدتِ جاں سے رنگ تانبا سا
ساغر افروز موجِ بادہ تھی
زلف کو ہمسری کا دعویٰ تھا
پھر بھی خوش قامتی زیادہ تھی
کچھ تو پیکر میں‌ تھی بلا کی تلاش
کچھ وہ کافر تنک لبادہ تھی
اپسرا تھی نہ حور تھی نہ پری
دلبری میں مگر زیادہ تھی
جتنی بے مہر، مہرباں اتنی
جتنی دشوار، اتنی سادہ تھی
اک زمانہ جسے کہے قاتل
میرے شانے پہ سر نہادہ تھی
یہ غزل دین اس غزال کی ہے
جس میں‌ہم سے وفا زیادہ تھی
وہ بھی کیا دن تھے جب فراز اس سے
عشق کم عاشقی زیادہ تھی
احمد فراز

کیا شوخ طبع ہے وہ پرکار سادہ سادہ

دیوان ششم غزل 1874
مکتوب دیر پہنچا پر دو طرف سے سادہ
کیا شوخ طبع ہے وہ پرکار سادہ سادہ
جب میکدے گئے ہیں پابوس ہی کیا ہے
ہے مغبچہ ہمارا گویا کہ پیرزادہ
سائے میں تاک کے ہم خوش بیٹھے ہیں اب اپنا
اس سلسلے میں بیعت کرنے کا ہے ارادہ
دل اس قدر نہ رکتا گھبراتا جی نہ اپنا
چھاتی لگا جو رہتا وہ سینۂ کشادہ
شیشہ کنار جو ہے پنبہ دہان و رعنا
میناے مے چمن میں اک سرو ہے پیادہ
پڑتی ہیں اس کی آنکھیں چاروں طرف نشے میں
جوں راہ میں بہکتے ہوں ترک مست بادہ
جو شہرہ نامور تھے یارب کہاں گئے وے
آباد کم رہا ہے یاں کوئی خانوادہ
مت دم کشی کر اتنی ہنگام صبح بلبل
فریاد خونچکاں ہے منھ سے ترے زیادہ
کیا خاک سے اٹھوں میں نقش قدم سا بیٹھا
اب مٹ ہی جانا میرا ہے پیش پا فتادہ
حالات عشق رنج و درد و بلا مصیبت
دل دادہ میر جانے کیا جانے کوئی ندادہ
میر تقی میر

جو دل دکھا ہے بہت زیادہ

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 18
تجھے پکارا ہے بے ارادہ
جو دل دکھا ہے بہت زیادہ
ندیم ہو تیرا حرفِ شیریں
تو رنگ پر آئے رنگِ بادہ
عطا کرو اک ادائے دیریں
تو اشک سے تر کریں لبادہ
نہ جانے کس دن سے منتظِر ہے
دلِ سرِ رہ گزر فتادہ
کہ ایک دن پھر نظر میں آئے
وہ بامِ روشن، وہ در کشادہ
وہ آئے پُرسش کو پھر سجائے
قبائے رنگیں، ادائے سادہ
فیض احمد فیض