ٹیگ کے محفوظات: غیظ

ہم وفا کے برگزیدہ فیض کے پیچھے رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 643
لوگ موسیٰ جیسے دستِبیض کے پیچھے رہے
ہم وفا کے برگزیدہ فیض کے پیچھے رہے
زندگی کے اونٹ صحرائے بدن آباد میں
موت کے وحشی غضب کے غیظ کے پیچھے رہے
انگلیاں لیکن برابر ہو سکیں نہ ہاتھ کی
ہم تفاوت کی گلی میں ایض کے پیچھے رہے
جس کی آنکھیں برکتوں کی گہری نیلی جھیلیں ہیں
زندگی بھربس اُسی بے فیض کے پیچھے رہے
عمر بھر منصور دنیا دار ،کتوں کی طرح
مال کے ناپاک مردہ حیض کے پیچھے رہے
منصور آفاق