ٹیگ کے محفوظات: غور

ہر گلی کوچے میں تیرا اک دعا گو اور ہے

دیوان پنجم غزل 1777
اے پریشاں ربط دیکھیں کب تلک یہ دور ہے
ہر گلی کوچے میں تیرا اک دعا گو اور ہے
بال بل کھائے ہوئے پیچوں سے پگڑی کے گتھے
طرز کیں چتون کی پائی سر میں شور جور ہے
ہم سے یہ انداز اوباشانہ کرنا کیا ضرور
آنکھ ٹیڑھی خم ہے ابرو طور کچھ بے طور ہے
طبع درہم وضع برہم زخم غائر چشم تر
حال بد میں بیکسوں کے کچھ تمھیں بھی غور ہے
کیا شکایت کریے اس خورشید چہرہ یار کی
مہر وہ برسوں نہیں کرتا ستم فی الفور ہے
وصل کی دولت گئی ہوں تنگ فقر ہجر میں
یا الٰہی فضل کر یہ حور بعد الکور ہے
اس کے دیوانے کے سر پر داغ سودا ہے جو میر
وہ مخبط عاشقوں کا اس سبب سرمور ہے
میر تقی میر

ہم کھڑے تلواریں کھاویں نقش ماریں اور لوگ

دیوان سوم غزل 1161
قتل گہ میں دست بوس اس کا کریں فی الفور لوگ
ہم کھڑے تلواریں کھاویں نقش ماریں اور لوگ
کج روی ہم عاشقوں سے اس کی بس اب جا چکی
ایک تو ناساز پھر اس سے ملے بے طور لوگ
زخم تیغ یار غائر ہو کے پہنچا دل تلک
حیف میرے حال پر کرتے نہیں ٹک غور لوگ
جاکے دنیا سے تجھے یاد آئوں گا میں بھی بہت
بعد میرے کب اٹھاویں گے ترے یہ جور لوگ
رسم و عادت ہے کہ ہر یک وقت کا ہوتا ہے ذکر
میر بارے یاد کر روویں گے کیا یہ دور لوگ
میر تقی میر

دیکھیے کیا گل کھلے ہے اور اب

دیوان دوم غزل 769
داغ ہوں جلتا ہے دل بے طور اب
دیکھیے کیا گل کھلے ہے اور اب
زخم دل غائر ہو پہنچا تا جگر
تم لگے کرنے ہماری غور اب
شعر پڑھتے پھرتے ہیں سب میر کے
اس قلمرو میں ہے ان کا دور اب
میر تقی میر