ٹیگ کے محفوظات: غمخوار

دیکھو تو بدن ہم دونوں کے کیسے باہم دوچار ہوئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
کس اَن ہونی کے ہونے سے یُوں مطلعِٔ صدا انورا ہوئے
دیکھو تو بدن ہم دونوں کے کیسے باہم دوچار ہوئے
کمیاب تھی ساعتِ قرب تری کیا کُچھ نہ ہُوا جب دَر آئی
ہم چاند بنے ہم مہر ہوئے ہم نُور بنے ہم نار ہوئے
سادہ سا وُہ حرفِ اذن ترا اور مہلت پھر یکجائی کی
فرصت تو فقط اِک شب کی تھی پر دور بڑے آزار ہوئے
باوصفِ کرم، جو الجھن تھی وُہ اور کسی ڈھب جا نہ سکی
آخر کچھ وحشی جذبے ہی ہم دونوں کے غمخوار ہوئے
کیا چیت کی رُت اور کیا ساون جب سے دیکھا ہے اساڑھ ترا
سُونا ہے نگاہوں کا آنگن سب موسم اِس پر بار ہوئے
مُدّت سے ترستے تھے دِل میں جو لذّتِ یکدم کو ماجدؔ
تسکین ملے پر وُہ جذبے آخر کیُوں پُراسرار ہوئے
ماجد صدیقی

لطف مشکل ہی سے پاؤ گے یہ دو چار کے پاس

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
جتنا کچھ بھی ہے ہمارے لب اظہار کے پاس
لطف مشکل ہی سے پاؤ گے یہ دو چار کے پاس
ہم کہ آدابِ جنوں سے بھی تھے واقف لیکن
کیوں کھڑے رہ گئے اُس شوخ کی دیوار کے پاس
وہ بھی محتاجِ سکوں ہے اُسے کیا عرض کروں
کیا ہے جُز حرفِ تسلی مرے غمخوار کے پاس
مان لیتے ہیں کہ دیوارِ قفس سخت سہی
سر تو تھا پھوڑنے کو مرغِ گرفتار کے پاس
تھے کبھی برگ و ثمر پوشش گلشن ماجدؔ
پیرہن گرد کا اب رہ گیا اشجار کے پاس
ماجد صدیقی

چارہ گر روئینگے اور غمخوار بن جائیں گے ہم

احمد فراز ۔ غزل نمبر 42
یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم
چارہ گر روئینگے اور غمخوار بن جائیں گے ہم
ہم سرِ چاکِ وفا ہیں اور ترا دستِ ہنر
جو بنا دے گا ہمیں اے یار بن جائیں گے ہم
کیا خبر تھی اے نگارِ شہر تیرے عشق میں
دلبرانِ شہر کے دلدار بن جائیں گے ہم
سخت جاں ہیں پر ہماری استواری پر نہ جا
ایسے ٹوٹیں گے ترا اقرار بن جائیں گے ہم
اور کچھ دن بیٹھنے دو کوئے جاناں میں ہمیں
رفتہ رفتہ سایۂ دیوار بن جائیں گے ہم
اس قدر آساں نہ ہو گی ہر کسی سے دوستی
آشنائی میں ترا معیار بن جائیں گے ہم
میر و غالب کیا کہ بن پائے نہیں فیض و فراق
زعم یہ تھا رومی و عطار بن جائیں گے ہم
دیکھنے میں شاخِ گل لگتے ہیں لیکن دیکھنا
دستِ گلچیں کے لئے تلوار بن جائیں گے ہم
ہم چراغوں کو تو تاریکی سے لڑنا ہے فراز
گل ہوئے پر صبح کے آثار بن جائیں گے ہم
احمد فراز

دامِ خالی ، قفَسِ مُرغِ گِرفتار کے پاس

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 129
مُژدہ ، اے ذَوقِ اسیری ! کہ نظر آتا ہے
دامِ خالی ، قفَسِ مُرغِ گِرفتار کے پاس
جگرِ تشنۂ آزار ، تسلی نہ ہوا
جُوئے خُوں ہم نے بہائی بُنِ ہر خار کے پاس
مُند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں ہَے ہَے!
خُوب وقت آئے تم اِس عاشقِ بیمار کے پاس
مَیں بھی رُک رُک کے نہ مرتا ، جو زباں کے بدلے
دشنہ اِک تیز سا ہوتا مِرے غمخوار کے پاس
دَہَنِ شیر میں جا بیٹھیے ، لیکن اے دل
نہ کھڑے ہوجیے خُوبانِ دل آزار کے پاس
دیکھ کر تجھ کو ، چمن بسکہ نُمو کرتا ہے
خُود بخود پہنچے ہے گُل گوشۂ دستار کے پاس
مر گیا پھوڑ کے سر غالب وحشی ، ہَے ہَے !
بیٹھنا اُس کا وہ ، آ کر ، تری دِیوار کے پاس
مرزا اسد اللہ خان غالب

امید عیادت پر بیمار رہا کیجے

دیوان اول غزل 530
تاچند ترے غم میں یوں زار رہا کیجے
امید عیادت پر بیمار رہا کیجے
نے اب ہے جگرکاوی نے سینہ خراشی ہے
کچھ جی میں یہ آئے ہے بیکار رہا کیجے
کیفیت چشماں اب معلوم ہوئی اس کی
یہ مست ہیں وہ خونی ہشیار رہا کیجے
دل جائو تو اب جائو ہو خوں تو جگر ہووے
اک جان ہے کس کس کے غمخوار رہا کیجے
ہے زیست کوئی یہ بھی جو میر کرے ہے تو
ہر آن میں مرنے کو تیار رہا کیجے
میر تقی میر