ٹیگ کے محفوظات: غلو

لے جاتے دل کو خاک میں اس آرزو کے ساتھ

دیوان پنجم غزل 1720
ہم جانتے تو عشق نہ کرتے کسو کے ساتھ
لے جاتے دل کو خاک میں اس آرزو کے ساتھ
مستی میں شیخ شہر سے صحبت عجب رہی
سر پھوڑتے رہا کیے اکثر سبو کے ساتھ
تھا عکس اس کی قامت دلکش کا باغ میں
آنکھیں چلی گئیں ہیں لگی آب جو کے ساتھ
نازاں ہو اس کے سامنے کیا گل کھلا ہوا
رکھتا ہے لطف ناز بھی روے نکو کے ساتھ
ہم زرد کاہ خشک سے نکلے ہیں خاک سے
بالیدگی نہ خلق ہوئی اس نمو کے ساتھ
گردن بلند کرتے ہی ضربت اٹھا گئے
خنجر رکھے ہے اس کا علاقہ گلو کے ساتھ
ہنگامے جیسے رہتے ہیں اس کوچے میں سدا
ظاہر ہے حشر ہو گی نہ ایسے غلو کے ساتھ
مجروح اپنی چھاتی کو بخیہ کیا بہت
سینہ گتھا ہے میر ہمارا رفو کے ساتھ
میر تقی میر