ٹیگ کے محفوظات: غزلخواں

موجیں سمجھ رہی ہیں کہ طوفاں نہیں ہیں ہم

ظاہر میں چونکہ حشر بہ داماں نہیں ہیں ہم
موجیں سمجھ رہی ہیں کہ طوفاں نہیں ہیں ہم
ہمّت بھی ہے نظر بھی ہے قصدِ سفر بھی ہے
ایسے بھی کوئی بے سر و ساماں نہیں ہیں ہم
موجیں تَو مطمئن ہیں ہمیں جانتی ہیں وہ
طوفاں کو فکر ہے کہ پریشاں نہیں ہیں ہم
شعلے لَرَز رہے ہیں تَو اُس کا سبب یہ ہے
آثار کہہ رہے ہیں کہ آساں نہیں ہیں ہم
آنکھیں ہیں اشک اشک جگر ہے لہو لہو
پھر بھی وہ کہہ رہے ہیں غزلخواں نہیں ہیں ہم
ضامنؔ ہماری راہ میں کانٹے بِچھا کے وہ
حیران رہ گئے ہیں کہ حیراں نہیں ہیں ہم
ضامن جعفری

چنگاری کو رقصاں دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 71
اُس کا حسنِ درخشاں دیکھا
چنگاری کو رقصاں دیکھا
تھوڑ ہی تھوڑ رہی خوشیوں کی
رنج ہی رنج فراواں دیکھا
چاند اُسے ہی رگیدنے آیا
جو تارا بھی نمایاں دیکھا
جسم پگھل کے چٹختا لاگے
روح کو جب سے پرِیشاں دیکھا
گل پہ نجانے اوس پڑی کیا
صبح اسے بھی گریاں دیکھا
بام و افق سے ہم نے اکثر
حسن کو آنکھ پہ عریاں دیکھا
وجد سے پھر نکلا نہ وہ جس نے
ماجد! تجھ کو غزلخواں دیکھا
ماجد صدیقی