ٹیگ کے محفوظات: غزالوں

دھجی دھجی برگ و شجر ہیں، حال بُرا ہے نہالوں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 57
اب کی بہار بھی چلتے دیکھا زور چمن پہ وہ ژالوں کا
دھجی دھجی برگ و شجر ہیں، حال بُرا ہے نہالوں کا
جبر کے ہاتھوں جسم تلک وہ سادہ منش کٹوا بیٹھے
تیغ زنی سے بھی کچھ بڑھ کر زعم جنہیں تھا ڈھالوں کا
دشت و دمن میں ایسا تو دہلاتی چپ کا راج نہ تھا
لفظ و معانی تک پہ گماں ہے ٹھٹھکے ہوئے غزالوں کا
اِتنے چلے پر بھی نہیں پہنچے جس کی خنک فضاؤں میں
اُس بگیا تک اور سفر ہے جانے کتنے سالوں کا
ماجد اب دُرّوں کی جگہ وہ ہاتھ میں پرچم رکھتے ہیں
دھندا راس جنہیں آیا جسموں سے اتری کھالوں کا
ماجد صدیقی

ورنہ، اور گماں تھا سب کا، بھیس بدلنے والوں پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 85
ایک ہمیں نے شور مچایا گِرگٹ جیسی چالوں پر
ورنہ، اور گماں تھا سب کا، بھیس بدلنے والوں پر
پنگھٹ پنگھٹ پانی جیسے جال بچھے اَن دیکھے سے
کون کہے پڑ جانے کو ہے کیا اُفتاد غزالوں پر
کام میں لا کر عمریں بھی اب کون سمیٹے گا اُس کو
پھیل چکی ہے جو بے سمتی نصف صدی کے سالوں پر
کب تک وقت کے ننگے سچ کو ڈھانپو گے نادانی سے
کب تک لیپ چڑھاؤ گے تم چاندی جیسے بالوں پر
پہلے جو اعصاب میں تھا، اُترا وُہ زور زبانوں میں
راہزنوں کے چرچے ہی باقی ہیں اَب چوپالوں پر
عزم نہ ہو تو لوہا بھی کب کاٹے ماجدؔ لوہے کو
ہاتھ نہیں اُٹھ پاتے اپنے اور الزام ہے ڈھالوں پر
ماجد صدیقی

کھلانا کھولنا مشکل بہت ہے ایسے کالوں کو

دیوان سوم غزل 1235
رکھو مت سر چڑھائے دلبروں کے گوندھے بالوں کو
کھلانا کھولنا مشکل بہت ہے ایسے کالوں کو
اڑایا غم نے ان کے سوکھے پتوں کی روش ہم کو
الٰہی سبز رکھیو باغ خوبی کے نہالوں کو
جہاں دیکھو کہا کرتے ہیں اس کے عشق کے غم میں
نہ ہم دوچار بیٹھے دل شکستے اپنے حالوں کو
نہ چشم کم سے مجھ درویش کی آوارگی دیکھو
تبرک کرتے ہیں کانٹے مرے پائوں کے چھالوں کو
کرے ہے جس پہ بلبل غش سو یہ اس جنس کی قیمت
نہیں افسوس آنکھیں بے حقیقت پھول والوں کو
دل عاشق کو رو کیا جانوں خوباں کیوں نہیں دیتے
بہت آئینے سے تو ربط ہے صاحب جمالوں کو
یہی کچھ وہم سی ہے سہل کب آئے قیاسوں میں
تفکر اس کمر کا کھا گیا نازک خیالوں کو
نہ ایسی طرز دیدن ہے نہ ہرنوں کی یہ چتون ہے
کبھو جنگل میں لے چلیے گا ان شہری غزالوں کو
کوئی بھی اس طرح سے اپنے جی پر کھیل جاتا ہے
مگر بازیچہ سمجھے میر عشق خوردسالوں کو
میر تقی میر

بھرا ہوا ہوں سلگتے ہوئے سوالوں سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 540
یہ سچ کی آگ پرے رکھ مرے خیالوں سے
بھرا ہوا ہوں سلگتے ہوئے سوالوں سے
مکانِ ذات کے دیمک زدہ کواڑ کھلے
بھری ہوئی ہیں چھتیں مکڑیوں کے جالوں سے
مجھے پسند ہے عورت، نماز اور خوشبو
انہی کو چھینا گیا ہے مرے حوالوں سے
عمل کے اسم سے بابِ طلسم کھلنا ہے
اتار رینگتی صدیوں کا زنگ تالوں سے
بھٹک رہا ہے سرابوں کی شکل میں پانی
قضا ہوا کوئی چشمہ کہیں غزالوں سے
نہ مانگ وقت کی باریش چھاؤں سے دانش
لٹکتے کب ہیں ثمر برگدوں کے بالوں سے
منصور آفاق