ٹیگ کے محفوظات: غریب

جس آدمی کے دوش پہ اپنی صلیب ہے

تائید زندگی کی اُسی کو نصیب ہے
جس آدمی کے دوش پہ اپنی صلیب ہے
مڑ مڑ کے دیکھتے ہو چراغانِ نقشِ پا
یہ بھی خبر ہے! آمدِ طوفاں قریب ہے
ہر تازہ انکشاف لیے ہے ہزار بھید
یا رب ترے جہاں کی پہیلی عجیب ہے
مُڈبھیڑ ہو گئی ترے کوچے میں آج بھی
پونم کا چاند میرا پرانا رقیب ہے
پھر کیا ہے، میں جو ڈر گیا پتّوں کے شور سے
سُنسان جنگلوں کا سفر ہی مُہیب ہے
رکھنا چھپا کے درہم و دینارِ داغِ دل
یاں پر کسی کسی کو یہ دولت نصیب ہے
اس کو حُدودِ باغ سے باہر نہ پھینکیے
یہ برگِ زرد موسمِ گل کا نقیب ہے
اک سر پھرے کی رائے خریدی نہ جا سکی
دولت سرائے دہر بھی کتنی غریب ہے
آنکھوں کے آئنوں میں چمک آ گئی، شکیبؔ
شاید طلوعِ شعر کی ساعت قریب ہے
شکیب جلالی

گیرا مگر نہیں ہے نفس عندلیب کا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 10
ہم پر ہے التفات ہمارے حبیب کا
گیرا مگر نہیں ہے نفس عندلیب کا
اب وہ ہے جلوہ ریز لباسِ سپاس میں
جو عہدِ کودکی میں گلہ تھا ادیب کا
اچھا جو اس کو سونگھے تو آ جائے اس کو غش
اچھا اثر ہے زلفِ معنبر کی طیب کا
تیری گلی سے آگے نہ ہرگز ہوا چلے
کوچے سے تیرے پاؤں نہ اٹھے غریب کا
مصروف ہے بہت وہ ہمارے علاج میں
ہم بھی ذرا علاج کریں گے طبیب کا
تسلیم سے وفاق، رضا سے ہے اتفاق
نے چرخ کا گلہ، نہ گلہ ہے نصیب کا
ہم پاؤں پھونک پھونک کے رکھتے ہیں کیا کریں
اس بزم میں ہے دخل سراسر رقیب کا
ہو جائے کاسہ لیس شگرفانِ میکدہ
جس کو کہ اشتیاق ہے حالِ عجیب کا
سنتے ہی نام دشمنِ صد سالہ ہو گیا
پوچھا جو مجھ سے نام کسی نے حبیب کا
اس رشکِ گل نے لی ہے جو بلبل تو شیفتہ
دیکھے چمن میں شور کوئی عندلیب کا
مصطفٰی خان شیفتہ

اس ستمگر کے ہم ہیں شہر غریب

دیوان چہارم غزل 1360
کوئی اپنا نہ یار ہے نہ حبیب
اس ستمگر کے ہم ہیں شہر غریب
سر رگڑتے اس آستاں پر میر
یاری کرتے اگر ہمارے نصیب
میر تقی میر

سوراخ پڑ گئے جگر عندلیب میں

دیوان سوم غزل 1211
میں نالہ کش تھا صبح کو یادحبیب میں
سوراخ پڑ گئے جگر عندلیب میں
سر مارتے ہیں سنگ سے فرہاد کے سے رنگ
دیکھیں تو ہم بھی کیا ہے ہمارے نصیب میں
جانے کو سوے دوست مسافر ہوئے ہیں ہم
ڈر ہر قدم ہے عشق کی راہ غریب میں
کیا رفتگاں کے ہاتھ سے ہو کتنے ان کے پائوں
اکثر جنھوں کا ہاتھ ہے دست طبیب میں
دل خستہ چشم بستہ و رو زرد تس پہ گرد
حیرت ہے ہم کو میر کے حال عجیب میں
میر تقی میر