ٹیگ کے محفوظات: غرقاب

ابکے یُوں بھی کھیتیاں سیراب ہونے لگ پڑیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
خونِ مظلوماں سے ہیں شاداب ہونے لگ پڑیں
ابکے یُوں بھی کھیتیاں سیراب ہونے لگ پڑیں
غاصبانِ تخت کی خود ساختہ آفات سے
جانے کیا کیا ہستیاں، غرقاب ہونے لگ پڑیں
حق طلب ہیں جس قدر خاموش رکھنے کو اُنہیں
اجتماع گاہیں تلک برقاب ہونے لگ پڑیں
حرص زادوں کے تدّبر کی تہِ شیریں لئے
گالیاں بھی شاملِ آداب ہونے لگ پڑیں
جب سے ماجدؔ مکر کا غلبہ مناصب پر ہُوا
دیکھ کیا کیا حرمتیں بے آب ہونے لگ پڑیں
ماجد صدیقی

اِس اماوس کی گھنی رات میں مہتاب کہاں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 50
نیند تو خواب ہے اور ہجر کی شب خواب کہاں
اِس اماوس کی گھنی رات میں مہتاب کہاں
رنج سہنے کی مرے دل میں تب و تاب کہاں
اور یہ بھی ہے کہ پہلے سے وہ اعصاب کہاں
مَیں بھنور سے تو نکل آئی،اور اب سوچتی ہوں
موجِ ساحل نے کیا ہے مجھے غرقاب کہاں
مَیں نے سونپی تھی تجھے آخری پُونجی اپنی
چھوڑ آیا ہے مری ناؤ تہہِ آب کہاں
ہے رواں آگ کا دریا مری شریانوں میں
موت کے بعد بھی ہو پائے گا پایاب کہاں
بند باندھا ہے سَروں کا مرے دہقانوں نے
اب مری فصل کو لے جائے گا سیلاب کہاں
پروین شاکر

جنس نایاب ہو گئی شاید

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 37
نیند تو خواب ہو گئی شاید
جنس نایاب ہو گئی شاید
اپنے گھر کی طرح وہ لڑکی بھی
نذرِ سیلاب ہو گئی شاید
تجھ کو سوچوں تو روشنی دیکھوں
یاد ، مہتاب ہو گئی شاید
ایک مدت سے آنکھ روئی نہیں
جھیل پایاب ہو گئی شاید
ہجر کے پانیوں میں عشق کی ناؤ
کہیں غرقاب ہو گئی شاید
چند لوگوں کی دسترس میں ہے
زیست کم خواب ہو گئی شاید
پروین شاکر

کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 353
اٹھو یہ منظرِ شب تاب دیکھنے کے لیے
کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے
عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے
وہ مرحلہ ہے کہ اب سیلِ خوں پہ راضی ہیں
ہم اس زمین کو شاداب دیکھنے کے لیے
جو ہو سکے تو ذرا شہ سوار لوٹ کے آئیں
پیادگاں کو ظفریاب دیکھنے کے لیے
کہاں ہے تو کہ یہاں جل رہے ہیں صدیوں سے
چراغ‘ دیدہ و محراب دیکھنے کے لیے
عرفان صدیقی