ٹیگ کے محفوظات: غرارے

آئینہ دیکھیں تو لگتا ہے تمہارے جیسا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 32
ہم میں رہتا ہے کوئی شخص ہمارے جیسا
آئینہ دیکھیں تو لگتا ہے تمہارے جیسا
بجھ بجھا جاتا ہے یہ بجھتی ہوئی رات کے ساتھ
دل ہمارا بھی ہے قسمت کے ستارے جیسا
شام کا وقت فقط بھاری نہیں ہے ہم پر
پھول کا چہرہ بھی ہے درد کے مارے جیسا
لے گئی ساتھ اڑا کر جسے ساحل کی ہوا
ایک دن تھا کسی بچے کے غبارے جیسا
قوس در قوس کوئی گھوم رہا ہے کیا ہے
رقص کرتی کسی لڑکی کے غرارے جیسا
شکر ہے ہم نے کما لی تھی اداسی ورنہ
ہے محبت میں منافع تو خسارے جیسا
کشتیاں بیچ میں چلتی ہی نہیں ہیں منصور
اک تعلق ہے کنارے سے کنارے جیسا
منصور آفاق