ٹیگ کے محفوظات: غذا

کیا جانیے کہ کیا ہے یارو خدا کی خواہش

دیوان دوم غزل 827
مطلق نہیں ہے ایدھر اس دلربا کی خواہش
کیا جانیے کہ کیا ہے یارو خدا کی خواہش
دیکھیں تو تیغ اس کی اب کس کے سر چڑھے ہے
رکھتے ہیں یار جی میں اس کی جفا کی خواہش
لعل خموش اپنے دیکھو ہو آرسی میں
پھر پوچھتے ہو ہنس کر مجھ بے نوا کی خواہش
اقلیم حسن سے ہم دل پھیر لے چلے ہیں
کیا کریے یاں نہیں ہے جنس وفا کی خواہش
خون جگر ہی کھانا آغاز عشق میں ہے
رہتی ہے اس مرض میں پھر کب غذا کی خواہش
وہ شوخ دشمن جاں اے دل تو اس کا خواہاں
کرتا ہے کوئی ظالم ایسی بلا کی خواہش
میرے بھی حق میں کر ٹک ہاتھوں کو میر اونچا
رکھتا ہے اہل دل سے ہر اک دعا کی خواہش
میر تقی میر