ٹیگ کے محفوظات: غبار

کیا نہ اُس نے مرا انتطار ایک منٹ

ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹ
کیا نہ اُس نے مرا انتطار ایک منٹ
میں جانتا ہوں کہ ہے یہ خمار ایک منٹ
اِدھر بھی آئی تھی موجِ بہار ایک منٹ
پتا چلے کہ ہمیں کون کون چھوڑ گیا
ذرا چھٹے تو یہ گرد و غبار ایک منٹ
ابد تلک ہوئے ہم اُس کے وسوسوں کے اسیر
کیا تھا جس پہ کبھی اعتبار ایک منٹ
اگرچہ کچھ نہیں اوقات ایک ہفتے کی
جو سوچئے تو ہیں یہ دس ہزار ایک منٹ
پھر آج کام سے تاخیر ہو گئی باصِرؔ
کسی نے ہم سے کہا بار بار ایک منٹ
باصر کاظمی

زوالِ عمر کے دن، ٹُوٹتے خمار کے دن

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
پڑے ہیں دیکھنے کیا کربِ آشکار کے دن
زوالِ عمر کے دن، ٹُوٹتے خمار کے دن
بنامِ کم نظراں، لطفِ لمحۂ گزراں
ہمارے نام نئی رُت کے انتظار کے دن
بدن سے گردِ شرافت نہ جھاڑ دیں ہم بھی
لپک کے چھین نہ لیں ہم بھی کچھ نکھار کے دن
طویل ہوں بھی تو آخر کو مختصر ٹھہریں
چمن پہ رنگ پہ، خوشبو پہ اختیار کے دن
نئے دنوں میں وہ پہلا سا رس نہیں شاید
کہ یاد آنے لگے ہیں گئی بہار کے دن
فلک کی اوس سے ہوں گے نم آشنا کیسے
زمین پر جو دھوئیں کے ہیں اور غبار کے دن
یہ وقت بٹنے لگا ناپ تول میں کیونکر
یہ کس طرح کے ہیں ماجدؔ گِنَت شُمار کے دن
ماجد صدیقی

کسی نے آکر ہمیں ہے کب بے قرار دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
نہیں کوئی شہر زلزلے سے دوچار دیکھا
کسی نے آکر ہمیں ہے کب بے قرار دیکھا
الجھ گیا ہے جہاں بھی کانٹوں سے کوئی دامن
بچا بھی گر وہ تو پھراُسے تار تار دیکھا
جگر جو ٹکڑے ہوا تو اُس کی سلامتی کا
رضا پہ بردہ فروش کی، انحصار دیکھا
سگانِ پابند دشت میں جب کبھی کُھلے ہیں
فضا میں آندھی سا ایک اٹھتا غبار دیکھا
رقم جو شیشے پہ بس کے چڑیا ہوئی، کسی نے
کب اُس کے بچوں کا عالمِ انتظار دیکھا
نجانے کتنوں کو ہے وہ نیچا دکھا کے ابھرا
جسے بھی ماجدؔ سرِ نظر تاجدار دیکھا
ماجد صدیقی

گرد آئے جہاں غبار آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 150
اُس چمن پر کہاں نکھار آئے
گرد آئے جہاں غبار آئے
ہم ہیں محصور اُس گلستاں میں
عمر گزری جہاں بہار آئے
کس کو اپنی غرض عزیز نہیں
کس کی باتوں پہ اعتبار آئے
ایسا بگڑا نظام اعضا کا
نت کُمک کو ہمیں بخار آئے
رن میں آئین تھا وفا کا یہی
جو بھی مشکل پڑی گزار آئے
ہم ہیں وہ لوگ جو کہ شانوں پر
سر کے ہمراہ لے کے دار آئے
چھِن گئے جن سے پیرہن ماجدؔ
ایسی شاخوں کو کیا قرار آئے
ماجد صدیقی

دیا ہے بادِصبا نے مزہ خمار آسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
کرن کرن ہے سحر کی نگاہِ یار آسا
دیا ہے بادِصبا نے مزہ خمار آسا
بہ نطق و فکر ہے وہ لطفِ تازگی پیدا
نفس نفس ہے مرا اِن دنوں بہار آسا
مرے وجود سے پھوٹی وہ خَیر کی خوشبو
کہ چبھ رہا ہوں دلِ شیطنت میں خار آسا
وہ ابر ہوں کہ کھڑا ہوں تُلا برسنے کو
ہر ایک درد ہے اب سامنے غبار آسا
میں اس میں اور وہ مجھ میں ہے جسکا سودا تھا
نہیں ہے روگ کوئی دل کو انتظار آسا
سخن سے طے یہی نسبت ہے اب تری ماجدؔ
کہ ہو گیا تجھے موزوں گلے میں ہار آسا
ماجد صدیقی

یہاں بھی ہوتا تھا ایک موسم بہار کر کے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 72
کہاں نجانے چلا گیا انتظار کر کے
یہاں بھی ہوتا تھا ایک موسم بہار کر کے
جو ہم پہ ایسا نہ کارِ دنیا کا جبر ہوتا
تو ہم بھی رہتے یہاں جنوں اختیار کر کے
نجانے کس سمت جا بسی بادِ یاد پرور
ہمارے اطراف خوشبوئوں کا حصار کر کے
کٹیں گی کس دن مدار و محور کی یہ طنابیں
کہ تھک گئے ہم حسابِ لیل و نہار کر کے
تری حقیقت پسند دنیا میں آ بسے ہیں
ہم اپنے خوابوں کی ساری رونق نثار کر کے
یہ دل تو سینے میں کس قرینے سے گونجتا تھا
عجیب ہنگامہ کر دیا بے قرار کر کے
ہر ایک منظر ہر ایک خلوت گنوا چکے ہیں
ہم ایک محفل کی یاد پر انحصار کر کے
تمام لمحے وضاحتوں میں گزر گئے ہیں
ہماری آنکھوں میں اک سخن کو غبار کر کے
یہ اب کھلا ہے کہ اس میں موتی بھی ڈھونڈنے تھے
کہ ہم تو بس آ گئے ہیں دریا کو پار کر کے
بقدرِ خوابِ طلب لہو ہے نہ زندگی ہے
ادا کرو گے کہاں سے اتنا ادھار کر کے
عرفان ستار

جبر کے اختیار میں، عمر گزار دی گئی

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 55
کاوشِ روزگار میں، عمر گزار دی گئی
جبر کے اختیار میں، عمر گزار دی گئی
لمحۂ تازہ پھر کوئی آنے نہیں دیا گیا
ساعتِ انتظار میں، عمر گزار دی گئی
سوزنِ چشمِ یار سے، شوق رفو گری کا تھا
جامۂ تار تار میں، عمر گزار دی گئی
بامِ خیال پر اُسے دیکھا گیا تھا ایک شب
پھر اُسی رہ گزار میں، عمر گزار دی گئی
کھینچ رہی تھی کوئی شے ہم کو ہر ایک سمت سے
گردشِ بے مدار میں، عمر گزار دی گئی
رکھا گیا کسی سے یوں، ایک نفس کا فاصلہ
سایۂ مشک بار میں، عمر گزار دی گئی
زخمِ امید کا علاج، کوئی نہیں کیا گیا
پرسشِ نوکِ خار میں، عمر گزار دی گئی
دھول نظر میں رہ گئی، اُس کو وداع کر دیا
اور اُسی غبار میں، عمر گزار دی گئی
ساری حقیقتوں سے ہم، صرفِ نظر کیے رہے
خواب کے اعتبار میں، عمر گزار دی گئی
آیا نہیں خیال تک، شوق کے اختتام کا
خواہشِ بے کنار میں، عمر گزار دی گئی
صحبتِ تازہ کار کی، نغمہ گری تھی رایگاں
شورِ سکوتِ یار میں، عمر گزار دی گئی
وہ جو گیا تو ساتھ ہی، وقت بھی کالعدم ہوا
لمحۂ پُر بہار میں، عمر گزار دی گئی
عرفان ستار

سخت بے تاب ہیں مزار میں ہم

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 66
مر گئے ہیں جو ہجرِ یار میں ہم
سخت بے تاب ہیں مزار میں ہم
تا دلِ کینہ ور میں پائیں جگہ
خاک ہو کر ملے غبار میں ہم
وہ تو سو بار اختیار میں آئے
پر نہیں اپنے اختیار میں ہم
کب ہوئے خارِ راہِ غیر بھلا
کیوں کھٹکتے ہیں چشمِ یار میں ہم
کوئے دشمن میں ہو گئے پامال
آمد و رفتِ بار بار میں ہم
نعش پر تو خدا کے واسطے آ
مر گئے تیرے انتظار میں ہم
گر نہیں شیفتہ خیالِ فراق
کیوں تڑپتے ہیں وصلِ یار میں ہم
مصطفٰی خان شیفتہ

تمام رات قیامت کا انتظار کیا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 25
غضب کیا تیرے وعدے کا اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا
مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا
وہ دل کو تاب کہاں ہے کہ ہو مال اندیش
انہوں نے وعدہ کیا اس نے اعتبار کیا
نہ اس کے دل سے مٹایا کہ صاف ہو جاتا
صبا نے خاک پریشاں مرا غبار کیا
تری نگاہ کے تصور میں ہم نے اے قاتل
لگا لگا کے گلے سے چھری کو پیار کیا
ہوا ہے کوئی مگر اس کا چاہنے والا
کہ آسماں نے ترا شیوہ اختیار کیا
نہ پوچھ دل کی حقیقت مگر یہ کہتے ہیں
وہ بے قرار رہے جس نے بے قرار کیا
وہ بات کر جو کبھی آسماں سے ہو نہ سکے
ستم کیا تو بڑا تو نے افتخار کیا
داغ دہلوی

پستی سے ہم کنار ملے کوہسار بھی؟

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 56
آتا ہے ہر چڑھائی کے بعد اک اتار بھی؟
پستی سے ہم کنار ملے کوہسار بھی؟
دل کیوں دھڑکنے لگتا ہے ابھرے جو کوئی چاپ
اب تو نہیں کسی کا مجھے انتظار بھی!
جب بھی سکوتِ شام میں آیا ترا خیال
کچھ دیر کو ٹھہر سا گیا آبشار بھی
کچھ ہو گیا ہے دھوپ سے خاکستری بدن
کچھ جم گیا ہے راہ کا مجھ پر غبار بھی
اس فاصلوں کے دشت میں رہبر وہی بنے
جس کی نگاہ دیکھ لے صدیوں کے پار بھی
اے دوست، پہلے قرب کا نشّہ عجیب تھا
میں سن سکا نہ اپنے بدن کی پکار بھی
رستہ بھی واپسی کا کہیں بن میں کھو گیا
اوجھل ہوئی نگاہ سے ہرنوں کی ڈار بھی
کچھ عقل بھی ہے باعثٕ توقیر اے شکیبؔ
کچھ آ گئے ہیں بالوں میں چاندی کے تار بھی
شکیب جلالی

اگر ہو اہلِ نگاہ یارو، چٹان کے آر پار دیکھو

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 35
ملا نہیں اذان رقص جن کو، کبھی تو وہ بھی شرار دیکھو
اگر ہو اہلِ نگاہ یارو، چٹان کے آر پار دیکھو
یہ جان لینا وہاں بھی کوئی کسی کی آمد کا منتظر تھا
کسی مکاں کے جو بام و در پر بجھے دیوں کی قطار دیکھو
اگر چہ بے خانماں ہیں لیکن ہمارا ملنا نہیں ہے مشکل
ادھر ہی صحرا میں دوڑ پڑنا، جدھر سے اٹھتا غبار دیکھو
عجب نہیں ہے پہاڑیوں پر شفق کا سونا پگھل رہا ہو
مکانِ تیرہ کے روزنوں میں یہ نور کے آبشار دیکھو
جو ابرِ رحمت سے ہو نہ پایا کیا ہے وہ کام آندھیوں نے
نہیں ہے خار و گیاہ باقی، چمک اٹھا رہگزر دیکھو
وہ راگ خاموش ہو چکا ہے سنانے والا بھی سو چکا ہے
لرز رہے ہیں مگر ابھی تک شکستہ بربط کے تار دیکھو
اک آہ بھرنا شکیبؔ ہم سے خزاں نصیبوں کو یاد کر کے
کلائیوں میں جو ٹہنیوں کی مہکتی کلیوں کے ہار دیکھو
شکیب جلالی

خزاں سے کچھ نہیں ہوتا ، بہار دل میں رہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 235
فراق کیا ہے اگر ، یادِ یار دل میں رہے
خزاں سے کچھ نہیں ہوتا ، بہار دل میں رہے
گزار روز و شبِ وصل اک نگار کے ساتھ
وہ ہے ایک شبِ انتظار ،دل میں رہے
تو اپنی ذات کے باہر نہ بکھریو زنہار
فضا کو صاف رکھیو ، غبار دل میں رہے
نہ ہو اگر نہیں دیوار ہائے نقش و نگار
خیالِ پرتوِ نقش و نگار ، دل میں رہے
لبوں کا یہ ہے کہ رشتہ سبھی سے ہے انکا
بنے نہ جس سے لبوں کی وہ خار دل میں رہے
تو بیچ دے سرِ بازار ہوش دل اپنا
ہو اک خیال جو دیوانہ وار دل میں رہے
جون ایلیا

میرے دل سے غبار اٹھتا ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 211
بزم سے جب نگار اٹھتا ہے
میرے دل سے غبار اٹھتا ہے
میں جو بیٹھا ہوں تو وہ خوش قامت
دیکھ لو! بار بار اٹھتا ہے
تیری صورت کو دیکھ کر مری جاں
خود بخود دل میں پیار اٹھتا ہے
اس کی گُل گشت سے روش بہ روش
رنگ ہی رنگ یار اٹھتا ہے
تیرے جاتے ہی اس خرابے سے
شورِ گریہ ہزار اٹھتا ہے
کون ہے جس کو جاں عزیز نہیں؟
لے ترا جاں نثار اٹھتا ہے
صف بہ صف آ کھڑے ہوئے ہیں غزال
دشت سے خاکسار اٹھتا ہے
ہے یہ تیشہ کہ ایک شعلہ سا
بر سرِ کوہسار اٹھتا ہے
کربِ تنہائی ہے وہ شے کہ خدا
آدمی کو پکار اٹھتا ہے
تو نے پھر کَسبِ زَر کا ذکر کیا
کہیں ہم سے یہ بار اٹھتا ہے
لو وہ مجبورِ شہر صحرا سے
آج دیوانہ وار اٹھتا ہے
اپنے ہاں تو زمانے والوں کا
روز ہی اعتبار اٹھتا ہے
جون اٹھتا ہے، یوں کہو، یعنی
میر و غالب کا یار اٹھتا ہے
جون ایلیا

ترا انتظار بہت کیا ترا انتظار بھی اب نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 133
نہ ہوا نصیب قرار جاں ہوس قرار بھی اب نہیں
ترا انتظار بہت کیا ترا انتظار بھی اب نہیں
تجھے کیا خبر مہ و سال نے ہمیں کیسے غم دیئے یہاں
تری یادگار تھی اک خلش تری یادگار بھی اب نہیں
نہ گلے رہے نہ گماں ہے نہ گزارشیں ہیں نہ گفتگو
وہ نشاط وعدہ ءِ وصل کیا ہمیں اعتبار بھی اب نہیں
رہے نام رشتہ رفتگاں نہ شکایتیں ہیں نہ شوخیاں
کوئی عذر خواہ تو اب کہاں کوئی عذردار بھی اب نہیں
کسے نذر دیں دل و جاں بہم کہ نہیں وہ کاکل خم بہ خم
کسے ہر نفس کا حساب دیں کہ شمیم یار بھی اب نہیں
وہ ہجوم دل زدگاں کہ تھا تجھے مژدہ ہو کہ بکھر گیا
ترے آستانے کی خیرہو، سر رہ غبار بھی اب نہیں
وہ جو اپنی جاں سے گزر گئے انہیں کیا خبر ہے کہ شہر میں
کسی جاں نثار کا ذکر کیا کوئی سوگوار بھی اب نہیں
نہیں اب تو اہل جنوں میں بھی وہ جو شوق شہر میں عام تھا
وہ جو رنگ تھا کبھی کو بہ کو سرکوئے یار بھی اب نہیں
جون ایلیا

سب یہ ہنر ہے دید کا، نقش و نگار کیا بھلا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 11
رنگ ہے رنگ سے تہی، اس کا شمار کیا بھلا
سب یہ ہنر ہے دید کا، نقش و نگار کیا بھلا
دائرہ ءِ نگاہ میں تُو کہ ہے میرے رُو برُو
ہے تری رو بروئی، دائرہ وار کیا بھلا
دل کی یہ ہار بھی تو ایک طور ہے زندگی کا یار
یوں بھی ہے دل، خود اپنی ہار، ہار کی ہار کیا بھلا
ہے یہ قرار گاہِ بود، ایک فرارِ صد نمود
اس میں فرار کیا بھلا، اس سے فرار کیا بھلا
یوں تو سو طرح میں خود اپنی پہنچ سے پار ہوں
وہ جو پہنچ کے پار ہے، اس کے ہے پار کیا بھلا
ہے یہ غبار روشنی، نسل و نژاد تیرگی
جیبِ غبار میں بجز، موجِ غبار کیا بھلا
عرصہ ءِ دو نفس کے بیچ، کون تھا میں، میں کون ہوں؟
تو بھی وہی ہے وہ جو تھا، اے مرے یار کیا بھلا؟
کیف بہ کیف، کم بہ کم، دور بدور، دم بدم
حالتِ رم بہ رم یں ہے، قرب و جوار کیا بھلا
جون ایلیا

طاقتِ بیدادِ انتظار نہیں ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 279
آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
طاقتِ بیدادِ انتظار نہیں ہے
دیتے ہیں جنّت حیاتِ دہر کے بدلے
نشّہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے
گِریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو
ہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے
ہم سے عبث ہے گمانِ رنجشِ خاطر
خاک میں عشّاق کی غبار نہیں ہے
دل سے اٹھا لطفِ جلوہہائے معانی
غیرِ گل آئینۂ بہار نہیں ہے
قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے
وائے اگر عہد استوار نہیں ہے
تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالب
تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہ دیکھا جب تجھے تب جی کو مار مار رہے

دیوان ششم غزل 1883
کہو تو کب تئیں یوں ساتھ تیرے پیار رہے
کہ دیکھا جب تجھے تب جی کو مار مار رہے
ادا و ناز سے دل لے چلا تو ہنس کے کہا
کہ میرے پاس تمھارا بھی یادگار رہے
ہم آپ سے جو گئے ہیں گئے ہیں مدت کے
الٰہی اپنا ہمیں کب تک انتظار رہے
ہوس اسیروں کے ٹک دل کی نکلے کچھ شاید
کوئی دن اور اگر موسم بہار رہے
اٹھا جو باغ سے میں بے دماغ تو نہ پھرا
ہزار مرغ گلستاں مجھے پکار رہے
لیا تو جاوے بھلا نام منھ سے یاری کا
جو ہم ستم زدوں سے یار کچھ بھی یار رہے
وصال ہجر ٹھہر جاوے کچھ نہ کچھ آخر
جو بیقرار مرے دل کو بھی قرار رہے
کریں گے چھاتی کو گلزار ہم جلاکر داغ
جو گل کے سینے میں ایسا ہی خار خار رہے
تکوں ہوں ایک سا میں گرد راہ کو اس کی
نہ کیونکے دونوں مری آنکھوں میں غبار رہے
نہ کریے گریۂ بے اختیار ہرگز میر
جو عشق کرنے میں دل پر کچھ اختیار رہے
میر تقی میر

تو کیا رہیں گے جیتے ہم اس روزگار میں

دیوان ششم غزل 1856
گر روزگار ہے یہی ہجران یار میں
تو کیا رہیں گے جیتے ہم اس روزگار میں
کچھ ڈر نہیں جو داغ جنوں ہو گئے سیاہ
ڈر دل کے اضطراب کا ہے اس بہار میں
کیا بیقرار دل کی تسلی کرے کوئی
کچھ بھی ثبات ہے ترے عہد و قرار میں
بیتاب دل نہ دفن ہو اے کاش میرے ساتھ
رہنے نہ دے گا لاش کوئی دن مزار میں
وہ سنگ دل نہ آیا بہت دیکھی اس کی راہ
پتھرا چلی ہیں آنکھیں مری انتظار میں
تھمتا نہیں ہے رونا علی الاتصال کا
کیا اختیار گریۂ بے اختیار میں
مربوط کیسے کیسے کہے ریختے ولے
سمجھا نہ کوئی میری زباں اس دیار میں
تھی بزم شعر رات کو شاعر بہت تھے جمع
دو باتیں ہم نے ایسے نہ کیں چار چار میں
دنبالہ گردی قیس نے بہتیری کی ولے
آیا نظر نہ محمل لیلیٰ غبار میں
اب ذوق صید اس کو نہیں ورنہ پیش ازیں
اودھم تھا وحش و طیر سے اس کے شکار میں
منھ چاہیے جو کوئی کسو سے حساب لے
ناکس سے گفتگو نہیں روز شمار میں
گنتی کے لوگوں کی وہاں صف ہووے گی کھڑی
تو میر کس شمار میں ہے کس قطار میں
میر تقی میر

دور سے دیکھتے ہی پیار آیا

دیوان ششم غزل 1799
دیر بدعہد وہ جو یار آیا
دور سے دیکھتے ہی پیار آیا
بیقراری نے مار رکھا ہمیں
اب تو اس کے تئیں قرار آیا
گرد رہ اس کی اب اٹھو نہ اٹھو
میری آنکھوں ہی پر غبار آیا
اک خزاں میں نہ طیر بھی بولا
میں چمن میں بہت پکار آیا
ہار کر میں تو کاٹتا تھا گلا
وہ قماری گلے کا ہار آیا
طائر عمر کو نظر میں رکھ
غیب سے ہاتھ یہ شکار آیا
موسم آیا تو نخل دار میں میر
سر منصور ہی کا بار آیا
میر تقی میر

جان عزیز گئی ہوتی کاش اب کے سال بہار کے ساتھ

دیوان پنجم غزل 1718
ہائے ستم ناچار معیشت کرنی پڑی ہر خار کے ساتھ
جان عزیز گئی ہوتی کاش اب کے سال بہار کے ساتھ
کس آوارئہ عشق و جنوں کی اک مٹھی اب خاک اڑی
اڑتی پھرے ہے پس محمل جو راہ کے گرد و غبار کے ساتھ
وہ لحظہ نہیں جاتا جی سے آنکھ لڑی تھی جب اس سے
چاہ نکلتی تھی باتوں سے چتون بھی تھی پیار کے ساتھ
جی مارے شب مہ میں ہمارے قہر کیا مشاطہ نے
بل کھائے بالوں کو دیے بل اس کے گلے کے ہار کے ساتھ
کیا دن تھے جو ہم کو تنہا کہیں کہیں مل جاتا تھا
اب تو لگے ہی رہتے ہیں اغیار ہمارے یار کے ساتھ
ہم ہیں مریض عشق و جنوں سختی سے دل کو مت توڑو
نرم کرے ہیں حرف و حکایت اہل خرد بیمار کے ساتھ
دیدئہ تر سے چشمۂ جوشاں ہیں جو قریب اپنے واقع
تو ہی رود چلے جاتے ہیں لگ کر جیب و کنار کے ساتھ
دیر سے ہیں بیمار محبت ہم سے قطع امید کرو
جانیں ہی جاتی دیکھی ہیں ہم نے آخر اس آزار کے ساتھ
رونے سے سب سر بر آئے خاک ہمارے سر پر میر
مدت میں ہم ٹک لگ بیٹھے تھے اس کی دیوار کے ساتھ
میر تقی میر

آزردہ دل ستم زدہ و بے قرار دل

دیوان پنجم غزل 1675
مدت سے اب وہی ہے مرا ہم کنار دل
آزردہ دل ستم زدہ و بے قرار دل
جو کہیے ہے فسردہ و مردہ ضعیف و زار
ناچار دیر ہم رہے ہیں مار مار دل
دو چار دل سے راضی نہیں ہوتے دلبراں
شاید تسلی ان کی ہو جو لیں ہزار دل
خود گم ہے ناشکیب و مکدر ہے مضطرب
کب تک رکھوں گا ہاتھ تلے پر غبار دل
ہے میر عشق حسن کے بھی جاذبے کے تیں
کھنچتا ہے سوے یار ہی بے اختیار دل
میر تقی میر

آندھی سی آوے نکلے کبھو جو غبار دل

دیوان پنجم غزل 1673
ہر لحظہ ہے کدورت خاطر سے بار دل
آندھی سی آوے نکلے کبھو جو غبار دل
تربندی خشک بندی نمک بندی ہوچکی
بے ڈول پھیلتا سا چلا ہے فگار دل
جوں رنگ لائے سیب ذقن باغ حسن میں
ووں ہیں ریاض عشق میں صد چاک انار دل
باہر ہیں حد و حصر سے کھینچے جو غم الم
کیا ہوسکے حساب غم بے شمار دل
لاکھوں جتن کیے نہ نبھی دل سے یار کے
اس کا جفا شعار وفا ہے شعار دل
اس کی گلی میں صبح دلوں کا شکار تھا
نکلا ہزار ناز سے بہر شکار دل
کیا میر پھر ثبات سے رو سوے دل کریں
ایسے نہیں گئے ہیں سکون و قرار دل
میر تقی میر

کرتے ہیں دوڑ نت ہی تماشاے یار الگ

دیوان پنجم غزل 1667
رہتے ہیں اس سے لاگ پہ ہم بے قرار الگ
کرتے ہیں دوڑ نت ہی تماشاے یار الگ
تھا گرد بوے گل سے بھی دامن ہوا کا پاک
کیا اب کے اس چمن سے گئی ہے بہار الگ
پاس اس کا بعد مرگ ہے آداب عشق سے
بیٹھا ہے میری خاک سے اٹھ کر غبار الگ
ناگاہ اس نگاہ سے میں بھی ہوا نہاں
جاتا ہے جوں نکل کے کسو کا شکار الگ
خونباری سے نہیں پڑی لوہو کی چھینٹ بھی
اب تک تو بارے اپنے ہیں جیب و کنار الگ
تا جانیں لوگ کشتۂ ہجراں ہیں یہ غریب
کریو تمام گوروں سے میری مزار الگ
بچتے نہیں ہیں بوزدگی سے گلوں کی میر
گو طائران خستہ جگر ہوں ہزار الگ
میر تقی میر

شور پڑا ہے قیامت کا سا چار طرف گلزار کے بیچ

دیوان پنجم غزل 1595
اس کے رنگ کھلا ہے شاید کوئی پھول بہار کے بیچ
شور پڑا ہے قیامت کا سا چار طرف گلزار کے بیچ
رحم کرے وہ ذرا ذرا تو دیکھنے آوے دم بھر یاں
اب تو دم بھی باقی نہیں ہے اس کے کسو بیمار کے بیچ
چین نہ دے گا خاک کے نیچے ہرگز عشق کے ماروں کو
دل تو ساتھ اے کاش نہ گاڑیں ان لوگوں کے مزار کے بیچ
چشم شوخ سے اس کی یارو کیا نسبت ہے غزالوں کو
دیکھتے ہیں ہم بڑا تفاوت شہری اور گنوار کے بیچ
کون شکار رم خوردہ سے جاکے کہے ٹک پھر کر دیکھ
کوئی سوار ہے تیرے پیچھے گرد و خاک و غبار کے بیچ
رونے سے جو رود بہا تو اس کا کیا ہے یارو عجب
جذب ہوئے ہیں کیا کیا دریا اپنے جیب و کنار کے بیچ
چشمک غمزہ عشوہ کرشمہ آن انداز و ناز و ادا
حسن سواے حسن ظاہر میر بہت ہیں یار کے بیچ
میر تقی میر

جو اس چمن میں یہ اک طرفہ انتشار ہے آج

دیوان پنجم غزل 1592
کہوں سو کیا کہوں نے صبر نے قرار ہے آج
جو اس چمن میں یہ اک طرفہ انتشار ہے آج
سر اپنا عشق میں ہم نے بھی یوں تو پھوڑا تھا
پر اس کو کیا کریں اوروں کا اعتبار ہے آج
گیا ہے جانب وادی سوار ہوکر یار
غبار گرد پھرے ہے بہت شکار ہے آج
جہاں کے لوگوں میں جس کی تھی کل تئیں عزت
اسی عزیز کو دیکھا ذلیل و خوار ہے آج
سحر سواد میں چل زور پھولی ہے سرسوں
ہوا ہے عشق سے کل زرد کیا بہار ہے آج
سواری اس کی ہے سرگرم گشت دشت مگر
کہ خیرہ تیرہ نمودار یک غبار ہے آج
سپہر چھڑیوں میں کل تک پھرے تھا ساتھ اپنے
عجب ہے سب کا اسی سفلے پر مدار ہے آج
بخار دل کا نکالا تھا درد دل کہہ کر
سو درد سر ہے بدن گرم ہے بخار ہے آج
کسو کے آنے سے کیا اب کہ غش ہے کل دن سے
ہمیں تو اپنا ہی اے میر انتظار ہے آج
میر تقی میر

یا تجھ کو دل شکستوں سے اخلاص پیار ہو

دیوان چہارم غزل 1471
تو وہ نہیں کسو کا تہ دل سے یار ہو
یا تجھ کو دل شکستوں سے اخلاص پیار ہو
کیا فکر میں ہو اپنی طرحداری ہی کی تم
ہم دردمند لوگوں کے بیمار دار ہو
مصروف احتیاط رہا کرتے رات دن
دینے میں دل کے اپنا جو کچھ اختیار ہو
دل میں کدر سے آندھی سی اٹھنے لگی ہے اب
نکلے گلے کی راہ تو رفع غبار ہو
کھا زہر مر رہیں کہیں کیا زندگی ہے یہ
زلفیں تنک چھوئیں تو ہمیں مار مار ہو
اے آہوان کعبہ نہ اینڈو حرم کے گرد
کھائو کسو کی تیغ کسو کے شکار ہو
منھ سے لگی گلابی ہوا کچھ شگفتہ تو
تھوڑی شراب اور بھی پی جو بہار ہو
بہتی ہے تیز جدول تیغ جفاے یار
یعنی کہ اک ہی وار لگے کام پار ہو
چھڑیوں سے کر قرار مدار اس کو لایئے
جو میر پھر لڑا نہ کریں بے قرار ہو
میر تقی میر

دل کا بیٹھا نہیں غبار ہنوز

دیوان چہارم غزل 1398
خاک ہوکر اڑیں ہیں یار ہنوز
دل کا بیٹھا نہیں غبار ہنوز
نہ جگر میں ہے خوں نہ دل میں خوں
درپئے خوں ہے روزگار ہنوز
دست بر دل ہوں مدتوں سے میر
دل ہے ویسا ہی بے قرار ہنوز
میر تقی میر

نہ گیا دل سے روے یار ہنوز

دیوان چہارم غزل 1396
گرچہ آتے ہیں گل ہزار ہنوز
نہ گیا دل سے روے یار ہنوز
بے قراری میں ساری عمر گئی
دل کو آتا نہیں قرار ہنوز
خاک مجنوں جہاں ہے صحرا میں
واں سے اٹھتا ہے اک غبار ہنوز
کب سے ہے وہ خلاف وعدہ ولے
دل کو اس کا ہے اعتبار ہنوز
قیس و فرہاد پر نہیں موقوف
عشق لاتا ہے مردکار ہنوز
برسوں گذرے ہیں اس سے ملتے ولے
صحبت اس سے نہیں برآر ہنوز
عشق کرتے ہوئے تھے بے خود میر
اپنا ان کو ہے انتظار ہنوز
میر تقی میر

کہ زندگی تو کروں جب تلک کہ یار آوے

دیوان سوم غزل 1305
خدا کرے مرے دل کو ٹک اک قرار آوے
کہ زندگی تو کروں جب تلک کہ یار آوے
کمانیں اس کی بھووں کی چڑھی ہی رہتی ہیں
نہ جب تلک سرتیرستم شکار آوے
ہمیں تو ایک گھڑی گل بغیر دوبھر ہے
خدا ہی جانے کہ اب کب تلک بہار آوے
اٹھی بھی گرد رہ اس کی کہیں تو لطف ہے کیا
جب انتظار میں آنکھوں ہی پر غبار آوے
ہر ایک شے کا ہے موسم نہ جانے تھا منصور
کہ نخل دار میں حلق بریدہ بار آوے
تمھارے جوروں سے اب حال جاے عبرت ہے
کسو سے کہیے تو اس کو نہ اعتبار آوے
نہیں ہے چاہ بھلی اتنی بھی دعا کر میر
کہ اب جو دیکھوں اسے میں بہت نہ پیار آوے
میر تقی میر

چشم پرخوں فگار کے سے رنگ

دیوان سوم غزل 1162
چاک دل ہے انار کے سے رنگ
چشم پرخوں فگار کے سے رنگ
کام میں ہے ہواے گل کی موج
تیغ خوں ریز یار کے سے رنگ
تاب ہی میں رہے ہے اس کی زلف
افعی پیچ دار کے سے رنگ
کیا جو افسردگی کے ساتھ کھلا
دل گل بے بہار کے سے رنگ
برق ابر بہار نے بھی لیے
اب دل بے قرار کے سے رنگ
کنج نخچیرگہ میں ہیں مامون
ہم بھی لاغر شکار کے سے رنگ
عمر کا بھی سرنگ جاتا ہے
ابلق روزگار کے سے رنگ
برگ گل میں نہ دل کشی ہو گی
کف پاے نگار کے سے رنگ
اس بیاباں میں میر محو ہوئے
ناتواں اک غبار کے سے رنگ
میر تقی میر

میں اور یار اور مرا کاروبار اور

دیوان سوم غزل 1137
مذہب سے میرے کیا تجھے میرا دیار اور
میں اور یار اور مرا کاروبار اور
چلتا ہے کام مرگ کا خوب اس کے دور میں
ہوتی ہے گرد شہر کے روز اک مزار اور
بندے کو ان فقیروں میں گنیے نہ شہر کے
صاحب نے میرے مجھ کو دیا اعتبار اور
دل کو تو لاگ ہی ہے تکوں راہ کب تلک
اس پر ہے یک عذاب شدید انتظار اور
بسمل پسند کر کے تڑپنا نہ دیکھنا
ہے میرے صیدپیشہ کا طور شکار اور
میں اس کی گرد رہ کا رہا منتظر بہت
سو آنکھیں دونوں لائیں مری اک غبار اور
درد سر اب جو عشق کا ہے گور تک ہے ساتھ
کچھ یہ نشہ ہی اور ہے اس کا خمار اور
کاہے کو اس قرار سے تھا اضطراب قلب
ہوتا ہے ہاتھ رکھنے سے دل بے قرار اور
کس کو فقیری میں سر و دل حرف کا ہے میر
کرتے ہیں اس دماغ پہ ہم انکسار اور
میر تقی میر

کوئی دل کا بخار نکلے گا

دیوان سوم غزل 1066
چشم سے خوں ہزار نکلے گا
کوئی دل کا بخار نکلے گا
اس کی نخچیرگہ سے روح الامیں
ہو کے آخر شکار نکلے گا
آندھیوں سے سیاہ ہو گا چرخ
دل کا تب کچھ غبار نکلے گا
ہوئے رے لاگ تیر مژگاں کی
کس کے سینے کے پار نکلے گا
ناز خورشید کب تلک کھینچیں
گھر سے کب اپنے یار نکلے گا
خون ہی آئے گا تو آنکھوں سے
ایک سیل بہار نکلے گا
عزلت میر عشق میں کب تک
ہو کے بے اختیار نکلے گا
میر تقی میر

پر جانیں جو گئی ہیں سو رہ پر غبار ہے

دیوان دوم غزل 1034
جانے میں قتل گہ سے ترا اختیار ہے
پر جانیں جو گئی ہیں سو رہ پر غبار ہے
ہم آپ سے گئے سو الٰہی کہاں گئے
مدت ہوئی کہ اپنا ہمیں انتظار ہے
بس وعدئہ وصال سے کم دے مجھے فریب
آگے ہی مجھ کو تیرا بہت اعتبار ہے
سرتابی اس سے طائر قدسی نہ کر سکے
اس ترک صید بند کا وہ تو شکار ہے
مائل نہیں ہے سرو ہی تنہا تری طرف
گل کو بھی تیرے دیکھنے کا خار خار ہے
پیوند میں زمیں کا ہوا اس گلی میں لیک
یوں بھی کہا نہ ان نے یہ کس کا مزار ہے
کل سرو ناز باغ میں آیا نظر مجھے
میں نے فریب شوق سے جانا کہ یار ہے
اب دیکھ کر قرار کیا کر وصال کا
دل کو بغیر تیرے تنک بھی قرار ہے
مت فکر خانہ سازی میں منعم ہلاک ہو
بنیاد زندگانی کی ناپائدار ہے
کب تک ستم کبھو تو دلاسا بھی دیجیے
بالفرض میر ایسا ہی تقصیروار ہے
میر تقی میر

صورت اک اعتبار سا ہے کچھ

دیوان دوم غزل 944
بود نقش و نگار سا ہے کچھ
صورت اک اعتبار سا ہے کچھ
یہ جو مہلت جسے کہیں ہیں عمر
دیکھو تو انتظار سا ہے کچھ
منھ نہ ہم جبریوں کا کھلوائو
کہنے کو اختیار سا ہے کچھ
منتظر اس کی گرد راہ کے تھے
آنکھوں میں سو غبار سا ہے کچھ
ضعف پیری میں زندگانی بھی
دوش پر اپنے بار سا ہے کچھ
کیا ہے دیکھو ہو جو ادھر ہر دم
اور چتون میں پیار سا ہے کچھ
اس کی برہم زنی مژگاں سے
دل میں اب خار خار سا ہے کچھ
جیسے عنقا کہاں ہیں ہم اے میر
شہروں میں اشتہار سا ہے کچھ
میر تقی میر

اب جو کھلا سو جیسے گل بے بہار دل

دیوان دوم غزل 852
مدت تو وا ہوا ہی نہ یہ غنچہ وار دل
اب جو کھلا سو جیسے گل بے بہار دل
ہے غم میں یاد کس کو فراموش کار دل
اب آ بنی ہے جی پہ رہا درکنار دل
دشوار ہے ثبات بہت ہجر یار میں
یاں چاہیے ہے دل سو کہاں میرے یار دل
وہ کون سی امید برآئی ہے عشق میں
رہتا ہے کس امید پہ امیدوار دل
ظالم بہت ضرور ہے ان بیکسوں کا پاس
ناچار اپنے رہتے ہیں جو مار مار دل
تم پر تو صاف میری کدورت کھلی ہے آج
مدت سے ہے ملال کے زیر غبار دل
مائل ادھر کے ہونے میں مجبور ہیں سبھی
کھنچتا ہے اس کی اور کو بے اختیار دل
حد ہے گی دلبری کی بھی اے غیرت چمن
ہو آدمی صنوبر اگر لاوے بار دل
داخل یہ اضطراب تنک آبیوں میں ہے
رکھتی نہیں ہے برق ہی کچھ بے قرار دل
کیا ہیں گرسنہ چشم دل اب کے یہ دلبراں
تسکین ان کی ہو نہ جو لیویں ہزار دل
جوں سیب ہیں ذقن کے چمن زار حسن میں
یوں باغ حسن میں بھی ہیں رنگیں انار دل
ہم سے جو عشق کشتہ جئیں تو عجب ہے میر
چھاتی ہے داغ ٹکڑے جگر کے فگار دل
میر تقی میر

کہیو ہم صحرانوردوں کا تمامی حال زار

دیوان دوم غزل 804
اے صبا گر شہر کے لوگوں میں ہو تیرا گذار
کہیو ہم صحرانوردوں کا تمامی حال زار
خاک دہلی سے جدا ہم کو کیا یک بارگی
آسماں کو تھی کدورت سو نکالا یوں غبار
منصب بلبل غزل خوانی تھا سو تو ہے اسیر
شاعری زاغ و زغن کا کیوں نہ ہووے اب شعار
طائر خوش زمزمہ کنج قفس میں ہے خموش
چہچہے چہیاں کریں ہیں صحن گلشن میں ہزار
برگ گل سے بھی کیا نہ ایک نے ٹک ہم کو یاد
نامہ و پیغام و پرسش بے مراتب درکنار
بے خلش کیونکر نہ ہو گرم سخن گلزار میں
میں قفس میں ہوں کہ میرا تھا دلوں میں خارخار
بلبل خوش لہجہ کے جائے پہ گو غوغائیاں
طرح غوغا کی چمن میں ڈالیں پر کیا اعتبار
طائران خوش لب و لہجہ نہیں رہتے چھپے
شور سے ان کے بھرے ہیں قریہ و شہر و دیار
شہر کے کیا ایک دو کوچوں میں تھی شہرت رہی
شہروں شہروں ملکوں ملکوں ہے انھوں کا اشتہار
کیا کہوں سوے چمن ہوتا جو میں سرگرم گشت
پھول گل جب کھلنے لگتے جوش زن ہوتی بہار
شور سن سن کر غزل خوانی کا میری ہم صفیر
غنچہ ہو آتے جو ہوتا آب و رنگ شاخسار
خوش نوائی کا جنھیں دعویٰ تھا رہ جاتے خموش
جن کو میں کرتا مخاطب ان کو ہوتا افتخار
بعضوں کو رشک قبول خاطر و لطف سخن
بعضوں کا سینہ فگار و بعضوں کا دل داغدار
ایکوں کے ہونٹوں کے اوپر آفریں استاد تھا
ایک کہتے تھے رسوخ دل ہے اپنا استوار
ربط کا دعویٰ تھا جن کو کہتے تھے مخلص ہیں ہم
جانتے ہیں ذات سامی ہی کو ہم سب خاکسار
نقل کرتے کیا یہ صحبت منعقد جب ہوتی بزم
بیٹھ کر کہتے تھے منھ پر میرے بعضے بعضے یار
بندگی ہے خدمت عالی میں ہم کو دیر سے
کر رکھی ہے جان اپنی ہم نے حضرت پر نثار
سو نہ خط ان کا نہ کوئی پرچہ پہنچا مجھ تلک
واہ وا ہے رابطہ رحمت ہے یہ اخلاص و پیار
رفتہ رفتہ ہو گئیں آنکھیں مری دونوں سفید
بسکہ نامے کا کیا یاروں کے میں نے انتظار
لکھتے گر دو حرف لطف آمیز بعد از چند روز
تو بھی ہوتا اس دل بے تاب و طاقت کو قرار
سو تو یک ننوشتہ کاغذ بھی نہ آیا میرے پاس
ان ہم آوازوں سے جن کا میں کیا ربط آشکار
خط کتابت سے یہ کہتے تھے نہ بھولیں گے تجھے
آویں گے گھر بار کی تیرے خبر کو بار بار
جب گیا میں یاد سے تب کس کا گھر کاہے کا پاس
آفریں صد آفریں اے مردمان روزگار
اب بیاباں در بیاباں ہے مرا شور و فغاں
گو چمن میں خوش کی تم نے میری جاے نالہ وار
ہے مثل مشہور یہ عمر سفر کوتاہ ہے
طالع برگشتہ بھی کرتے ہیں اب امداد کار
اک پر افشانی میں بھی ہے یہ وطن گلزار سا
سامعوں کی چھاتیاں نالوں سے ہوویں گی فگار
منھ پہ آویں گے سخن آلودئہ خون جگر
کیونکہ یاران زماں سے چاک ہے دل جوں انار
لب سے لے کر تا سخن ہیں خونچکاں شکوے بھرے
لیک ہے اظہار ہر ناکس سے اپنا ننگ و عار
چپ بھلی گو تلخ کامی کھینچنی اس میں پڑے
بیت بحثی طبع نازک پر ہے اپنی ناگوار
آج سے کچھ بے حسابی جور کن مردم نہیں
ان سے اہل دل سدا کھینچے ہیں رنج بے شمار
بس قلم رکھ ہاتھ سے جانے بھی دے یہ حرف میر
کاہ کے چاہے نہیں کہسار ہوتے بے وقار
کام کے جو لوگ صاحب فن ہیں سو محسود ہیں
بے تہی کرتے رہیں گے حاسدان نابکار
میر تقی میر

چاک ہے دل انار کے مانند

دیوان دوم غزل 797
تجھ بن اے نوبہار کے مانند
چاک ہے دل انار کے مانند
پہنچی شاید جگر تک آتش عشق
اشک ہیں سب شرار کے مانند
کو دماغ اس کی رہ سے اٹھنے کا
بیٹھے اب ہم غبار کے مانند
کوئی نکلے کلی تو لالے کی
اس دل داغدار کے مانند
سرو کو دیکھ غش کیا ہم نے
تھا چمن میں وہ یار کے مانند
ہار کر شب گلے پڑے اس کے
ہم بھی پھولوں کے ہار کے مانند
برق تڑپی بہت ولے نہ ہوئی
اس دل بے قرار کے مانند
ان نے کھینچی تھی صیدگہ میں تیغ
برق ابر بہار کے مانند
اس کے گھوڑے کے آگے سے نہ ٹلے
ہم بھی دبلے شکار کے مانند
زخم کھا بیٹھیو جگر پر مت
تو بھی مجھ دل فگار کے مانند
اس کی سرتیز ہر پلک ہے میر
خنجر آبدار کے مانند
میر تقی میر

ہوا وہ بے مروت بے وفا ہرگز نہ یار اپنا

دیوان دوم غزل 747
ہوئیں رسوائیاں جس کے لیے چھوٹا دیار اپنا
ہوا وہ بے مروت بے وفا ہرگز نہ یار اپنا
خدا جانے ہمیں اس بے خودی نے کس طرف پھینکا
کہ مدت ہو گئی ہم کھینچتے ہیں انتظار اپنا
ذلیل اس کی گلی میں ہوں تو ہوں آزردگی کیسی
کہ رنجش اس جگہ ہووے جہاں ہو اعتبار اپنا
اگرچہ خاک اڑائی دیدئہ تر نے بیاباں کی
ولے نکلا نہ خاطر خواہ رونے سے غبار اپنا
کہا بد وضع لوگوں نے جو دیکھا رات کو ملتے
ہوا صحبت میں ان لڑکوں کی ضائع روزگار اپنا
کریں جو ترک عزلت واسطے مشہور ہونے کے
مگر شہروں میں کم ہے جیسے عنقا اشتہار اپنا
دل بے تاب و بے طاقت سے کچھ چلتا نہیں ورنہ
کھڑا بھی واں نہ جاکر ہوں اگر ہو اختیار اپنا
عجب ہم بے بصیرت ہیں کہاں کھولا ہے بار آکر
جہاں سے لوگ سب رخت سفر کرتے ہیں بار اپنا
نہ ہو یوں میکدہ مسجد سا پر واں ہوش جاتے ہیں
ہوا ہے دونوں جاگہ ایک دو باری گذار اپنا
سراپا آرزو ہم لوگ ہیں کاہے کو رندوں میں
رہے ہیں اب تلک جیتے ولے دل مار مار اپنا
گیا وہ بوجھ سب ہلکے ہوئے ہم میر آخر کو
مناسب تھا نہ جانا اس گلی میں بار بار اپنا
میر تقی میر

شاعری تو شعار ہے اپنا

دیوان دوم غزل 724
نکتہ مشتاق و یار ہے اپنا
شاعری تو شعار ہے اپنا
بے خودی لے گئی کہاں ہم کو
دیر سے انتظار ہے اپنا
روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات
اب یہی روزگار ہے اپنا
دے کے دل ہم جو ہو گئے مجبور
اس میں کیا اختیار ہے اپنا
کچھ نہیں ہم مثال عنقا لیک
شہر شہر اشتہار ہے اپنا
جس کو تم آسمان کہتے ہو
سو دلوں کا غبار ہے اپنا
صرفہ آزار میر میں نہ کرو
خستہ اپنا ہے زار ہے اپنا
میر تقی میر

اس وہم کی نمود کا ہے اعتبار کیا

دیوان دوم غزل 698
پھرتا ہے زندگی کے لیے آہ خوار کیا
اس وہم کی نمود کا ہے اعتبار کیا
کیا جانیں ہم اسیر قفس زاد اے نسیم
گل کیسے باغ کہتے ہیں کس کو بہار کیا
آنکھیں برنگ نقش قدم ہو گئیں سفید
پھر اور کوئی اس کا کرے انتظار کیا
سیکھی ہے طرح سینہ فگاری کی سب مری
لائے تھے ساتھ چاک دل ایسا انار کیا
سرکش کسو سے ایسی کدورت رکھے وہ شوخ
ہم اس کی خاک راہ ہیں ہم سے غبار کیا
نے وہ نگہ چبھی ہے نہ وے پلکیں گڑ گئیں
کیا جانیے کہ دل کو ہے یہ خار خار کیا
لیتا ہے ابر اب تئیں اس ناحیے سے آب
روئے ہیں ہم بھی برسوں تئیں زار زار کیا
عاشق کے دل سے رکھ نہ تسلی کی چشم داشت
ہے برق پارہ یہ اسے آوے قرار کیا
صحبت رہی بگڑتی ہی اس کینہ ور سے آہ
ہم جانتے نہیں ہیں کہ ہوتا ہے پیار کیا
مارا ہو ایک دو کو تو ہو مدعی کوئی
کشتوں کا اس کے روز جزا میں شمار کیا
مدت سے جرگہ جرگہ سرتیر ہیں غزال
کم ہو گیا ہے یاروں کا ذوق شکار کیا
پاتے ہیں اپنے حال میں مجبور سب کو ہم
کہنے کو اختیار ہے پر اختیار کیا
آخر زمانہ سازی سے کھویا نہ وقر میر
یہ اختیار تم نے کیا روزگار کیا
میر تقی میر

آج کل مجھ کو مار رہتا ہے

دیوان اول غزل 600
دل جو پر بے قرار رہتا ہے
آج کل مجھ کو مار رہتا ہے
تیرے بن دیکھے میں مکدر ہوں
آنکھوں پر اب غبار رہتا ہے
جبر یہ ہے کہ تیری خاطر دل
روز بے اختیار رہتا ہے
دل کو مت بھول جانا میرے بعد
مجھ سے یہ یادگار رہتا ہے
دور میں چشم مست کے تیری
فتنہ بھی ہوشیار رہتا ہے
بسکہ تیرا ہوا بلا گرداں
سر کو میرے دوار رہتا ہے
ہر گھڑی رنجش ایسی باتوں میں
کوئی اخلاص و پیار رہتا ہے
تجھ بن آئے ہیں تنگ جینے سے
مرنے کا انتظار رہتا ہے
دل کو گو ہاتھ میں رکھو اب تم
کوئی یہ بے قرار رہتا ہے
غیر مت کھا فریب خلق اس کا
کوئی دم میں وہ مار رہتا ہے
پی نہ ہرگز شراب جیسا چاہ
اس کے نشے کا تار رہتا ہے
پر ہو پیمانہ عمر کا جب تک
تب تلک یہ خمار رہتا ہے
دلبرو دل چراتے ہو ہر دم
یوں کہیں اعتبار رہتا ہے
کیوں نہ ہووے عزیز دلہا میر
کس کے کوچے میں خوار رہتا ہے
میر تقی میر

رکھے خدا جہاں میں دل بے قرار کو

دیوان اول غزل 385
آرام ہوچکا مرے جسم نزار کو
رکھے خدا جہاں میں دل بے قرار کو
پانی پہ جیسے غنچۂ لالہ پھرے بہا
دیکھا میں آنسوئوں میں دل داغدار کو
برسا تو میرے دیدئہ خوں بار کے حضور
پر اب تک انفعال ہے ابربہار کو
ہنستا ہی میں پھروں جو مرا کچھ ہو اختیار
پر کیا کروں میں دیدئہ بے اختیار کو
آیا جہاں میں دوست بھی ہوتے ہیں یک دگر
مجھ سے جو دشمنی ہی رہی میرے یار کو
سو باریوں تو غیروں سے کرتے ہو ہنس کے بات
کچھ منھ بنا رہو ہو ہماری ہی بار کو
سر گشتگی سوائے نہ دیکھا جہاں میں کچھ
اک عمر خضر سیر کیا اس دیار کو
کس کس کی خاک اب کی ملانی ہے خاک میں
جاتی ہے پھر نسیم اسی رہگذار کو
اے وہ کوئی جو آج پیے ہے شراب عیش
خاطر میں رکھیو کل کے بھی رنج و خمار کو
خوباں کا کیا جگر جو کریں مجھ کو اپنا صید
پہچانتا ہے سب کوئی تیرے شکار کو
جیتے جی فکر خوب ہے ورنہ یہ بدبلا
رکھے گا حشر تک تہ و بالا مزار کو
گر ساتھ لے گڑا تو دل مضطرب تو میر
آرام ہوچکا ترے مشت غبار کو
میر تقی میر

وہ کوئی اور ہیں جو اعتبار پاتے ہیں

دیوان اول غزل 323
بہت ہی اپنے تئیں ہم تو خوار پاتے ہیں
وہ کوئی اور ہیں جو اعتبار پاتے ہیں
تری گلی میں میں رویا تھا دل جلا یک شب
ہنوز واں سے دل داغدار پاتے ہیں
نہ ہوویں شیفتہ کیوں اضطراب پر عاشق
کہ جی کو کھوکے دل بے قرار پاتے ہیں
گلہ عبث ہے تری آستانہ بوسی کا
مسیح و خضر بھی واں کم ہی بار پاتے ہیں
تڑپ ہے قیس کے دل میں تہ زمیں اس سے
غزال دشت نشان مزار پاتے ہیں
وگرنہ خاک ہوئے کتنے ہی محبت میں
کسی کا بھی کہیں مشت غبار پاتے ہیں
شتابی آوے اجل میر جاوے یہ رونا
کہ میرے شور سے تصدیع یار پاتے ہیں
میر تقی میر

ہاتھ سے جائے گا سررشتۂ کار آخرکار

دیوان اول غزل 221
رہنے کا پاس نہیں ایک بھی تار آخرکار
ہاتھ سے جائے گا سررشتۂ کار آخرکار
لوح تربت پہ مری پہلے یہ لکھیو کہ اسے
یار دشمن ہو گیا جان سے مار آخرکار
مشت خاک اپنی جو پامال ہے یاں اس پہ نہ جا
سر کو کھینچے گا فلک تک یہ غبار آخرکار
سیر کر کثرت عالم کی مری جان کہ پھر
تن تنہا ہے تو اور کنج مزار آخرکار
چشم وا دیکھ کے اس باغ میں کیجو نرگس
آنکھوں سے جاتی رہے گی یہ بہار آخرکار
ابتدا ہی میں محبت کی ہوئے ہم تو تمام
ہوتا ہو گا یہی کچھ عشق میں یار آخرکار
اول کار محبت تو بہت سہل ہے میر
جی سے جاتا ہے ولے صبر و قرار آخرکار
میر تقی میر

اے انتظار تجھ کو کسی کا ہو انتظار

دیوان اول غزل 207
دیکھوں میں اپنی آنکھوں سے آوے مجھے قرار
اے انتظار تجھ کو کسی کا ہو انتظار
ساقی تو ایک بار تو توبہ مری تڑا
توبہ کروں جو پھر تو ہے توبہ ہزار بار
کیا زمزمہ کروں ہوں خوشی تجھ سے ہم صفیر
آیا جو میں چمن میں تو جاتی رہی بہار
کس ڈھب سے راہ عشق چلوں ہے یہ ڈر مجھے
پھوٹیں کہیں نہ آبلے ٹوٹیں کہیں نہ خار
کوچے کی اس کے راہ نہ بتلائی بعد مرگ
دل میں صبا رکھے تھی مری خاک سے غبار
اے پاے خم کہ گردش ساغر ہو دستگیر
مرہون درد سر ہو کہاں تک مرا خمار
وسعت جہاں کی چھوڑ جو آرام چاہے میر
آسودگی رکھے ہے بہت گوشۂ مزار
میر تقی میر

سو جاتے ہیں ولیکن بخت کنار ہر شب

دیوان اول غزل 174
رکھتا ہے ہم سے وعدہ ملنے کا یار ہر شب
سو جاتے ہیں ولیکن بخت کنار ہر شب
مدت ہوئی کہ اب تو ہم سے جدا رکھے ہے
اس آفتاب رو کو یہ روزگار ہر شب
دیکھیں ہیں راہ کس کی یارب کہ اختروں کی
رہتی ہیں باز آنکھیں چندیں ہزار ہر شب
دھوکے ترے کسو دن میں جان دے رہوں گا
کرتا ہے ماہ میرے گھر سے گذار ہر شب
دل کی کدورت اپنی یک شب بیاں ہوئی تھی
رہتا ہے آسماں پر تب سے غبار ہر شب
کس کے لگا ہے تازہ تیر نگاہ اس کا
اک آہ میرے دل کے ہوتی ہے پار ہر شب
مجلس میں میں نے اپنا سوز جگر کہا تھا
روتی ہے شمع تب سے بے اختیار ہر شب
مایوس وصل اس کے کیا سادہ مردماں ہیں
گذرے ہے میر ان کو امیدوار ہر شب
میر تقی میر

اس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہا

دیوان اول غزل 64
موا میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا
اس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہا
جنوں میں اب کے مجھے اپنے دل کا غم ہے پہ حیف
خبر لی جب کہ نہ جامے میں ایک تار رہا
بشر ہے وہ پہ کھلا جب سے اس کا دام زلف
سر رہ اس کے فرشتے ہی کا شکار رہا
کبھو نہ آنکھوں میں آیا وہ شوخ خواب کی طرح
تمام عمر ہمیں اس کا انتظار رہا
شراب عیش میسر ہوئی جسے اک شب
پھر اس کو روز قیامت تلک خمار رہا
بتاں کے عشق نے بے اختیار کر ڈالا
وہ دل کہ جس کا خدائی میں اختیار رہا
وہ دل کہ شام و سحر جیسے پکا پھوڑا تھا
وہ دل کہ جس سے ہمیشہ جگر فگار رہا
تمام عمر گئی اس پہ ہاتھ رکھتے ہمیں
وہ دردناک علی الرغم بے قرار رہا
ستم میں غم میں سر انجام اس کا کیا کہیے
ہزاروں حسرتیں تھیں تس پہ جی کو مار رہا
بہا تو خون ہو آنکھوں کی راہ بہ نکلا
رہا جو سینۂ سوزاں میں داغ دار رہا
سو اس کو ہم سے فراموش کاریوں لے گئے
کہ اس سے قطرئہ خوں بھی نہ یادگار رہا
گلی میں اس کی گیا سو گیا نہ بولا پھر
میں میر میر کر اس کو بہت پکار رہا
میر تقی میر

کبھو درد تھا کبھو داغ تھا کبھو زخم تھا کبھو وار تھا

دیوان اول غزل 45
کئی دن سلوک وداع کا مرے درپئے دل زار تھا
کبھو درد تھا کبھو داغ تھا کبھو زخم تھا کبھو وار تھا
دم صبح بزم خوش جہاں شب غم سے کم نہ تھی مہرباں
کہ چراغ تھا سو تو دود تھا جو پتنگ تھا سو غبار تھا
دل خستہ لوہو جو ہو گیا تو بھلا ہوا کہ کہاں تلک
کبھو سوز سینہ سے داغ تھا کبھو درد و غم سے فگار تھا
دل مضطرب سے گذر گئی شب وصل اپنی ہی فکر میں
نہ دماغ تھا نہ فراغ تھا نہ شکیب تھا نہ قرار تھا
جو نگاہ کی بھی پلک اٹھا تو ہمارے دل سے لہو بہا
کہ وہیں وہ ناوک بے خطا کسو کے کلیجے کے پار تھا
یہ تمھاری ان دنوں دوستاں مژہ جس کے غم میں ہے خوں چکاں
وہی آفت دل عاشقاں کسو وقت ہم سے بھی یار تھا
نہیں تازہ دل کی شکستگی یہی درد تھا یہی خستگی
اسے جب سے ذوق شکار تھا اسے زخم سے سروکار تھا
کبھو جائے گی جو ادھر صبا تو یہ کہیو اس سے کہ بے وفا
مگر ایک میر شکستہ پا ترے باغ تازہ میں خار تھا
میر تقی میر

ایک تجھ کو ہزار میں دیکھا

دیوان اول غزل 44
گل و بلبل بہار میں دیکھا
ایک تجھ کو ہزار میں دیکھا
جل گیا دل سفید ہیں آنکھیں
یہ تو کچھ انتظار میں دیکھا
جیسا مضطر تھا زندگی میں دل
ووہیں میں نے قرار میں دیکھا
آبلے کا بھی ہونا دامن گیر
تیرے کوچے کے خار میں دیکھا
تیرہ عالم ہوا یہ روز سیاہ
اپنے دل کے غبار میں دیکھا
ذبح کر میں کہا تھا مرتا ہوں
دم نہیں مجھ شکار میں دیکھا
جن بلائوں کو میر سنتے تھے
ان کو اس روزگار میں دیکھا
میر تقی میر

القصہ میر کو ہم بے اختیار پایا

دیوان اول غزل 23
مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا
القصہ میر کو ہم بے اختیار پایا
احوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے
افسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا
چیتے جو ضعف ہوکر زخم رسا سے اس کے
سینے کو چاک دیکھا دل کو فگار پایا
شہر دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میں
آخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایا
اتنا نہ تجھ سے ملتے نے دل کو کھوکے روتے
جیسا کیا تھا ہم نے ویسا ہی یار پایا
کیا اعتبار یاں کا پھر اس کو خوار دیکھا
جس نے جہاں میں آکر کچھ اعتبار پایا
آہوں کے شعلے جس جا اٹھتے تھے میر سے شب
واں جا کے صبح دیکھا مشت غبار پایا
میر تقی میر

تا بہ روح الامیں شکار ہوا

دیوان اول غزل 22
سنیو جب وہ کبھو سوار ہوا
تا بہ روح الامیں شکار ہوا
اس فریبندہ کو نہ سمجھے آہ
ہم نے جانا کہ ہم سے یار ہوا
نالہ ہم خاکساروں کا آخر
خاطر عرش کا غبار ہوا
جو نہ کہنا تھا سو بھی میں نے کہا
دل کی بے طاقتی سے خوار ہوا
پھر گیا ہے زمانہ کیا کہ مجھے
ہوتے خوار ایک روزگار ہوا
مر چلے بے قرار ہوکر ہم
اب تو تیرے تئیں قرار ہوا
وہ جو خنجر بکف نظر آیا
میر سو جان سے نثار ہوا
میر تقی میر

مگر آج تک کوئی شہ سوار چھپا ہواہے غبار میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 155
یہ چراغ کشتہ نہ جانے کب سے پڑے ہیں راہ گزار میں
مگر آج تک کوئی شہ سوار چھپا ہواہے غبار میں
میں کہاں گلاب شجر کروں‘ میں کشادہ سینہ کدھر کروں
کوئی نیزہ میرے یمین میں‘ کوئی تیغ میرے یسار میں
مجھے اس طلسم سرائے شب میں عجیب کام دیے گئے
نہ جلوں شکستہ فصیل پر، نہ بجھوں ہوا کے حصار میں
انہیں کیا خبر کہ دلاوری کوئی شرطِ فتح و ظفر نہیں
کہ بکھرتی صف کے پیادگاں، نہ شمار میں، نہ قطار میں
عرفان صدیقی

بھر گیا ہے مری آنکھوں میں غبار دنیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 69
اب کہیں اور چل اے ناقہ سوار دنیا
بھر گیا ہے مری آنکھوں میں غبار دنیا
مجھ کو مل جائے اگر سلطنت تکیہ دل
میں تو پل بھر نہ رہوں باج گزار دنیا
بے دلی پھر ہوس تازہ میں ڈھل جاتی ہے
ختم ہونے ہی میں آتا نہیں کار دنیا
اکثر اکثر نظر آجاتا ہے مہتاب کا کھیل
چھپ گیا ہے مری مٹی میں شرار دنیا
ایسا لگتا ہے کہ سینے میں اُٹھی ہے کوئی
آج اسی لہر میں پھینک آتا ہوں بار دنیا
عادت سیر و تماشا نہیں جانے والی
دور سے دیکھتا رہتا ہوں بہار دنیا
عرفان صدیقی

اب کسی پر کوئی اعتبار نہیں ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 624
مان لیا وہ بھی میرا یار نہیں ہے
اب کسی پر کوئی اعتبار نہیں ہے
جاگ رہا ہوں میں کتنے سال ہوئے ہیں
کیسے کہوں اس کا انتظار نہیں ہے
ٹوٹ گئے ہیں دو پھر امید بھرے دل
ٹکڑے ہیں اتنے کہ کچھ شمار نہیں ہے
میرا بدن برف ہے یا تیرِ نظر میں
پہلے پہل والی اب کے مار نہیں ہے
عہدِ خزاں میں ہے میرا باغ کہ جیسے
دامنِ تقدیر میں بہار نہیں ہے
سنگ اچھالے ہیں اس نے بام سے مجھ پر
جیسے گلی اس کی رہگزار نہیں ہے
ایک دعا بس ہے میرے پاس عشاء کی
رات! مرا کوئی غمگسار نہیں ہے
صرف گھٹا ہے جو دل میں روئے برس کے
اور کوئی چشمِ اشکبار نہیں ہے
سرخ ہے بے شک نمود چہرئہ تاریخ
دامنِ تہذیب داغ دار نہیں ہے
سنگ زدہ اس کے رنگ ڈھنگ ہیں لیکن
آدمی ہے کوئی کوہسار نہیں ہے
پار کروں گا میں اپنی آگ کا دریا
دیکھ رہا ہوں یہ بے کنار نہیں ہے
وقت نہیں آج اس کے پاس ذرا بھی
اور یہاں رنگِ اختصار نہیں ہے
مست ہوائیں بھی ماہتاب بھی لیکن
رات بھری زلفِ آبشار نہیں ہے
گھوم رہا ہوں فصیلِ ذات کے باہر
کوئی بھی دروازئہ دیار نہیں ہے
ایک نہیں قحط عشق صرف یہاں پر
شہر میں کوئی بھی کاروبار نہیں ہے
پھیر ہی جا مجھ پہ اپنا دستِ کرامت
آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے”
درج ہے نیلی بہشتِ خواب کا منظر
آنکھ میں منصور کی غبار نہیں ہے
بنام غالب
منصور آفاق

وہ دیکھنا ہے جسے بار بار کیسا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 601
امیدِ وصل ہے جس سے وہ یار کیسا ہے
وہ دیکھنا ہے جسے بار بار کیسا ہے
اٹھانیں کیسی ہیں اسکی ، خطوط کیسے ہیں
بدن کا قریۂ نقش و نگار کیسا ہے
ادائیں کیسی ہیں کھانے کی میز پر اس کی
لباس کیسا ہے اْس کا، سنگھار کیسا ہے
وہ کیسے بال جھٹکتی ہے اپنے چہرے سے
لبوں سے پھوٹتے دن کا نکھار کیسا ہے
وہ شاخیں کیسی ہے دامن کے پھول کیسے ہیں
مقامِوصل کا قرب و جوار کیسا ہے
وہ پاؤں گھومتے کیسے ہیں اپنی گلیوں میں
طلسمِ شوق کا پھیلا دیار کیسا ہے
سیاہی گرتی ہے دنیا پہ یا سنہرا پن
وہ زلفیں کیسی ہیں وہ آبشار کیسا ہے
طواف کرتا ہے جس کا یہ کعبہِاعظم
وہ پاک باز ، تہجد گزار کیسا ہے
یہ کس خیال کی مستی ہے میری آنکھوں میں
شراب پی ہی نہیں ہے…خمار کیسا ہے
نہ کوئی نام نہ چہرہ نہ رابطہ نہ فراق
کسی کا پھر یہ مجھے انتظار کیسا ہے
یہ اجنبی سی محبت کہاں سے آئی ہے
یونہی جو روح سے نکلا ہے ، پیار کیسا ہے
بس ایک سایہ تعاقب میں دیکھتا ہوں میں
کسی کے ہونے کا یہ اعتبار کیسا ہے
وہ پھول جس کی مہک سے مہک رہا ہوں میں
کھلا ہوا کہیں ، دریا کے پار ،کیسا ہے
وہ جس کی نرم تپش سے دھک رہا ہے دل
وہ آسمان کے پیچھے شرار کیسا ہے
یہ آپ دھول اڑاتی ہے کس لئے منزل
یہ راستے پہ مسلسل غبار کیسا ہے
نواحِ جاں میں فقط چاند کی کرن منصور
بدن میں آگ ہے کیسی ، بخار کیسا ہے
منصور آفاق

ترے خیال پہ تھو تیرے انتظار پہ تف

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 207
شبِ وصال پہ لعنت شبِ قرار پہ تف
ترے خیال پہ تھو تیرے انتظار پہ تف
وہ پاؤں سو گئے جو بے ارادہ اٹھتے تھے
طواف کوچہء جاناں پہ، کوئے یار پہ تف
تجھ ایسے پھول کی خواہش پہ بار ہا لعنت
بجائے خون کے رکھتا ہوں نوکِ خار پہ تف
دلِ تباہ کو تجھ سے بڑی شکایت ہے
اے میرے حسنِ نظر ! تیرے اعتبار پہ تف
پہنچ سکا نہیں اس تک جو میرے زخم کا نور
چراغ خون پہ تھو سینہء فگار پہ تف
ہیں برگِ خشک سی شکنیں خزاں بکف بستر
مرے مکان میں ٹھہری ہوئی بہار پہ تف
کسی فریب سے نکلا ہے جا مٹھائی بانٹ
ترے ملالِ تری چشم اشکبار پہ تف
تجھے خبر ہی نہیں ہے کہ مرگیا ہوں میں
اے میرے دوست ترے جیسے غمگسار پہ تف
یونہی بکھیرتا رہتا ہے دھول آنکھوں میں
ہوائے تیز کے اڑتے ہوئے غبار پہ تف
خود آپ چل کے مرے پاس آئے گا کعبہ
مقامِ فیض پہ بنتی ہوئی قطار پہ تف
حیات قیمتی ہے خواب کے دریچوں سے
رہِ صلیب پہ لعنت، فراز دار پہ تف
صدا ہو صوتِ سرافیل تو مزہ بھی ہے
گلے کے بیچ میں اٹکی ہوئی پکار پہ تف
جسے خبر ہی نہیں ہے پڑوسی کیسے ہیں
نمازِ شام کی اُس عاقبت سنوار پہ تف
مری گلی میں اندھیرا ہے کتنے برسوں سے
امیرِ شہر! ترے عہدِ اقتدار پہ تف
ترے سفید محل سے جو پے بہ پے ابھرے
ہزار بار انہی زلزلوں کی مار پہ تف
ترے لباس نے دنیا برہنہ تن کر دی
ترے ضمیر پہ تھو، تیرے اختیار پہ تف
سنا ہے چادرِ زہرا کو بیچ آیا ہے
جناب شیخ کی دستارِ بد قمار پہ تف
تُو ماں کی لاش سے اونچا دکھائی دیتا ہے
ترے مقام پہ لعنت ترے وقار پہ تف
مرے گھرانے کی سنت یہی غریبی ہے
ترے خزانے پہ تھو مالِ بے شمار پہ تف
یہی دعا ہے ترا سانپ پر قدم آئے
ہزار ہا ترے کردارِ داغ دار پہ تف
کسی بھی اسم سے یہ ٹوٹتا نہیں منصور
فسردگی کے سلگتے ہوئے حصار پہ تف
منصور آفاق

غم سے بے اختیار سا ہے کچھ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 35
دل جو سینے میں زار سا ہے کچھ
غم سے بے اختیار سا ہے کچھ
رخت ہستی بدن پہ ٹھیک نہیں
جامۂ مستعار سا ہے کچھ
چشم نرگس کہاں وہ چشم کہاں
نشہ کیسا خمار سا ہے کچھ
نخل اُمید میں نہ پھول نہ پھل
شجرِ بے بہار سا ہے کچھ
ساقیا ہجر میں یہ ابر نہیں
آسمان پر غبار سا ہے کچھ
کل تو آفت تھی دل کی بیتابی
آج بھی بے قرار سا ہے کچھ
مردہ ہے دل تو گور ہے سینہ
داغ شمع مزار سا ہے کچھ
اِس کو دنیا کی اُس کو خلد کی حرص
رند ہے کچھ نہ پارسا ہے کچھ
پہلے اس سے تھا ہوشیار امیر
اب بے اختیار سا ہے کچھ
امیر مینائی

ملا ہے جو اختیار اس اختیار پر غور کر رہا ہوں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 105
ہجوم رنج و الم میں صبر و قرار پر غور کر رہا ہوں
ملا ہے جو اختیار اس اختیار پر غور کر رہا ہوں
نظر کے سائے ذرا ہٹا لو کہ عقل کی سانس گھٹ رہی ہے
ہٹو ہٹو میں کشاکش روزگار پر غور کر رہا ہوں
بھٹک رہا ہے خیال سود و زیاں کے پر پیچ راستوں میں
کہاں کی منزل ابھی تو گردو غبار پر غور کر رہا ہوں
میں کتنا بیباک ہو گیا ہوں مجھے سزا دو چمن پرستو!
بہار کہتے ہو تم جسے اس بہار پر غور کر رہا ہوں
بدل رہا ہے کچھ اس طرح ان کے عہد و پیماں کا رنگ باقیؔ
کیا تھا کل اعتبار آج اعتبار پر غور کر رہا ہوں
باقی صدیقی