ٹیگ کے محفوظات: غافل

کہ تارِ دامن و تارِ نظر میں فرق مشکل ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 262
ہجومِ غم سے یاں تک سر نگونی مجھ کو حاصل ہے
کہ تارِ دامن و تارِ نظر میں فرق مشکل ہے
رفوئے زخم سے مطلب ہے لذّت زخمِ سوزن کی
سمجھیو مت کہ پاسِ درد سے دیوانہ غافل ہے
وہ گل جس گلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالب
چٹکنا غنچۂ گل کا صدائے خندۂ دل ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 104
عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
جاتا ہوں داغِ حسرتِ ہستی لیے ہوئے
ہوں شمعِ کشتہ درخورِ محفل نہیں رہا
مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں
شایانِ دست و خنجرِ قاتل نہیں رہا
بر روئے شش جہت درِ آئینہ باز ہے
یاں امتیازِ ناقص و کامل نہیں رہا
وا کر دیے ہیں شوق نے بندِ نقابِ حسن
غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
گو میں رہا رہینِ ستم ہاے روزگار
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
دل سے ہوائے کشتِ وفا مٹ گئی کہ واں
حاصل سواے حسرتِ حاصل نہیں رہا
بیدادِ عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔ
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
مرزا اسد اللہ خان غالب

یہ دوانہ بائولا عاقل ہے میاں

دیوان دوم غزل 904
کیا عبث مجنوں پئے محمل ہے میاں
یہ دوانہ بائولا عاقل ہے میاں
قند کا کون اس قدر مائل ہے میاں
جو ہے ان ہونٹوں ہی کا قائل ہے میاں
ہم نے یہ مانا کہ واعظ ہے ملک
آدمی ہونا بہت مشکل ہے میاں
چشم تر کی خیر جاری ہے سدا
سیل اس دروازے کا سائل ہے میاں
مرنے کے پیچھے تو راحت سچ ہے لیک
بیچ میں یہ واقعہ حائل ہے میاں
دل کی پامالی ستم ہے قہر ہے
کوئی یوں دلتا ہے آخر دل ہے میاں
آج کیا فرداے محشر کا ہراس
صبح دیکھیں کیا ہو شب حامل ہے میاں
دل تڑپتا ہی نہیں کیا جانیے
کس شکار انداز کا بسمل ہے میاں
چاہیے پیش از نماز آنکھیں کھلیں
حیف اس کا وقت جو غافل ہے میاں
رنگ بے رنگی جدا تو ہے ولے
آب سا ہر رنگ میں شامل ہے میاں
سامنے سے ٹک ٹلے تو دق نہ ہو
آسماں چھاتی پر اپنی سل ہے میاں
دل لگی اتنی جہاں میں کس لیے
رہگذر ہے یہ تو کیا منزل ہے میاں
بے تہی دریاے ہستی کی نہ پوچھ
یاں سے واں تک سو جگہ ساحل ہے میاں
چشم حق بیں سے کرو ٹک تم نظر
دیکھتے جو کچھ ہو سب باطل ہے میاں
دردمندی ہی تو ہے جو کچھ کہ ہے
حق میں عاشق کے دوا قاتل ہے میاں
برسوں ہم روتے پھرے ہیں ابر سے
زانو زانو اس گلی میں گل ہے میاں
کہنہ سالی میں ہے جیسے خورد سال
کیا فلک پیری میں بھی جاہل ہے میاں
کیا دل مجروح و محزوں کا گلہ
ایک غمگیں دوسرے گھائل ہے میاں
دیکھ کر سبزہ ہی خرم دل کو رکھ
مزرع دنیا کا یہ حاصل ہے میاں
مستعدوں پر سخن ہے آج کل
شعر اپنا فن سو کس قابل ہے میاں
کی زیارت میر کی ہم نے بھی کل
لاابالی سا ہے پر کامل ہے میاں
میر تقی میر

کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 3
ان شوخ حسینوں پہ بھی مائل نہیں ہوتا
کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا
کچھ وصل کے وعدے سے بھی حاصل نہیں ہوتا
خوش اب تو خوشی سے بھی میرا دل نہیں ہوتا
گردن تن بسمل سے جدا ہو گئی کب سے
گردن سے جدا خنجر قاتل نہیں ہوتا
دنیا میں پری زاد دئیے خلد میں حوریں
بندوں سے وہ اپنے کبھی غافل نہیں ہوتا
دل مجھ سے لیا ہے تو ذرا بولیے ہنسئے
چٹکی میں مسلنے کے لئے دل نہیں ہوتا
عاشق کے بہل جانے سے کو اتنا بھی ہے کافی
غم دل کا تو ہوتا ہے اگر دل نہیں ہوتا
فریاد کروں دل کے ستانے کی اسی سے
راضی مگر اس پر بھی مرا دل نہیں ہوتا
مرنے کے بتوں پر یہ ہوئی مشق کہ مرنا
سب کہتے ہیں مشکل، مجھے مشکل نہیں ہوتا
جس بزم میں وہ رخ سے اٹھا دیتے ہیں پردہ
پروانہ وہاں شمع پہ مائل نہیں ہوتا
کہتے ہیں کہ دل کے تڑپتے ہیں جو عاشق
ہوتا ہے کہاں درد اگر دل نہیں ہوتا
یہ شعر وہ فن ہے کہ امیر اس کو جو برتو
حاصل یہی ہوتا ہے کہ حاصل نہیں ہوتا
آتا ہے جو کچھ منہ میں وہ کہہ جاتا ہے واعظ
اور اُس پہ یہ طرّہ ہے کہ قائل نہیں ہوتا
جب درد محبت میں یہ لذّت ہے تو یارب
ہر عضو میں، ہر جوڑ میں، کیوں دل نہیں ہوتا
دیوانہ ہے، دنیا میں جو دیوانہ نہیں ہے
عاقل وہی ہوتا ہے جو عاقل نہیں ہوتا
تم کو تو میں کہتا نہیں کچھ، حضرتِ ناصح
پر جس کو ہو تک ایسی وہ عاقل نہیں ہوتا
امیر مینائی