ٹیگ کے محفوظات: غائبانہ

ہمارا ذکر وہاں اب کے غائبانہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 91
دیارِ یار جو اپنا کبھی ٹھکانہ تھا
ہمارا ذکر وہاں اب کے غائبانہ تھا
مجھی پہ اُس کا نزولِ غضب ہوا کیونکر
مرا ہی خطۂ جاں اُس کا کیوں نشانہ تھا
اثر پکار میں کچھ تھا نہ گھر کے جلنے تک
پھر اُس کے بعد تو ہمدرد اک زمانہ تھا
کبھی نہ دل سے گیا قُربِ رعد کا کھٹکا
بلند شاخ پہ جس دن سے آشیانہ تھا
اُنہی کے سامنے جھکتے تھے عدل والے بھی
سلوک جن کا سرِ ارض غاصبانہ تھا
کسی کو دیکھتے ماجدؔ بصدقِ دل کیسے
وہ جن کا اپنا چلن ہی منافقانہ تھا
ماجد صدیقی

پھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیا

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 21
یہ کس خلش نے پھر اس دل میں آشیانہ کیا
پھر آج کس نے سخن ہم سے غائبانہ کیا
غمِ جہاں ہو، رخِ یار ہو کہ دستِ عدو
سلوک جس سے کیا ہم نے عاشقانہ کیا
تھے خاکِ راہ بھی ہم لوگ قہرِ طوفاں بھی
سہا تو کیا نہ سہا اور کیا تو کیا نہ کیا
خوشا کہ آج ہر اک مُدّعی کے لب پر ہے
وہ راز جس نے ہمیں راندۂ زمانہ کیا
وہ حیلہ گر جو وفا جُو بھی ہے جفا خُو بھی
کِیا بھی فیض تو کس بُت سے دوستانہ کیا
فیض احمد فیض

بدن کسی کا بھی ہو وصل جاودانہ ترا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 12
تمام تاب و تبِ عاشقی بہانہ ترا
بدن کسی کا بھی ہو وصل جاودانہ ترا
ترے سوا کوئی کیسے دکھائی دے مجھ کو
کہ میری آنکھوں پہ ہے دست غائبانہ ترا
جو رنگ خواب میں دیکھے نہیں وہ سامنے تھے
کھلا ہوا تھا نظر پر نگارخانہ ترا
وہ میرے ہاتھوں میں آئے ہوئے زمین و زماں
وہ میری خاک پہ بکھرا ہوا خزانہ ترا
میں ایک موج میں غرقاب ہوچکا تھا مگر
چھلک رہا تھا ابھی ساغرِ شبانہ ترا
میں بجھتا جاتا تھالیکن کنارِ جوئے وصال
جھمک رہا تھا ابھی گوہرِ یگانہ ترا
میں تجھ سے بچ کے بھی کیا دوسروں کے کام آیا
تو اب ملے گا تو بن جاؤں گا نشانہ ترا
بس ایک جست میں ہوتی ہے طے مسافتِ ہجر
سمندِ طبع کو کافی ہے تازیانہ ترا
عرفان صدیقی