ٹیگ کے محفوظات: عینک

اس نے بچھا دی ریت پہ اجرک اتار کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 578
پھر شام دشت روح و بدن تک اتار کے
اس نے بچھا دی ریت پہ اجرک اتار کے
کس نے نمازیوں کو بلانے سے پیش تر
رکھا زمیں پہ عرش کا پھاٹک اتار کے
پھرتی ہے رات ایک دیے کی تلاش میں
باہر نہ جانا چہرے سے کالک اتار کے
کرتی ہیں مجھ سے اگلے جہاں کا مکالمہ
آنکھیں میرے دماغ میں اک شک اتار کے
صدیوں سے دیکھ دیکھ کے شامِ زوال کو
رکھ دی ہے میں نے میز پہ عینک اتار کے
بے رحم انتظار نے آنکھوں میں ڈال دی
دروازے پر جمی ہوئی دستک اتار کے
دیوار پہ لگی ہوئی تصویر یار کی
اک لے گیا دوکان سے گاہک اتار کے
گلیوں میں سرد رات اکیلی تو ہونی تھی
میری اداس روح میں ٹھنڈک اتار کے
بستی میں آ گئے ہیں آخر جنابِ قیس
صحرا میں اپنے نقشِ مبارک اتار کے
منصور کیا ہوا ہے تعلق کے شہر کی
دل نے پہن لی خامشی ڈھولک اتار کے
منصور آفاق

طلسمِ شب ہے سحر تک بلائیں حاکم ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 371
دیارِ گل میں بھیانک بلائیں حاکم ہیں
طلسمِ شب ہے سحر تک بلائیں حاکم ہیں
سفید پوش ہیں سہمے ہوئے مکانوں میں
گلی میں پھرتی ہے کالک بلائیں حاکم ہیں
یہاں سے ہجرتیں کرنی ہیں خوش دماغوں نے
یہاں ہے موت کی ٹھنڈک بلائیں حاکم ہیں
یہ گفتگو سے سویرے طلوع کرتی ہیں
وطن پہ رات کی زیرک بلائیں حاکم ہیں
نکل پڑے ہیں ہزاروں سگانِ آدم خور
کھلے ہیں موت کے پھاٹک بلائیں حاکم ہیں
وہ ساری روشنیوں کی سہانی آوازیں
تھا اقتدار کا ناٹک بلائیں حاکم ہیں
جو طمطراق سے جالب کے گیت گاتی ہیں
وہ انقلاب کی گاہک بلائیں حاکم ہیں
کسی چراغ میں ہمت نہیں ہے جلنے کی
بڑا اندھیرا ہے بے شک بلائیں حاکم ہیں
سعودیہ سے ہواہے نزولِ پاک ان کا
چلو وطن میں مبارک بلائیں حاکم ہیں
خدا کے نام دھماکے نبیؐ کے نام فساد
بنامِ دین ہے بک بک بلائیں حاکم ہیں
یہ مال و زر کی پجاری ہیں وقت کی قارون
نہیں ہے مذہب و مسلک بلائیں حاکم ہیں
نظر نہ آئیں سہولت سے آنکھ کو منصور
لگا کے دیکھئے عینک بلائیں حاکم ہیں
منصور آفاق

جنت کے بنگلے کا پھاٹک اور شراب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 132
ایک شرابی ہاتھ کی دستک اور شراب
جنت کے بنگلے کا پھاٹک اور شراب
پیاس ہوائے شام میں اپنے بین کرے
ابر ہے بامِ ذات کی حد تک اور شراب
مجھ سے تیری یادیں چھین نہیں سکتے
اُس بازار کے سارے گاہک اور شراب
سات سمندر پار کا ایک پرانا کوٹ
بیچ سڑک کے ٹوٹی عینک اور شراب
سناٹوں کی آوازوں کا ایک ہجوم
شور میں گم ہو جانے کا شک اور شراب
تیری گلی آوازِ سگاں ، مجذوب ضمیر
ڈوب رہی ہے رات کی کالک اور شراب
عمر ہوئی میخانے کے دروازے پر
دست و گریباں میرا مسلک اور شراب
رات کے پچھلے پہر لہو کی صورت تھے
میری رگوں میں گھنگرو ڈھولک اور شراب
کھلتا سرخ سا فیتہ، دوشیزہ فائل
انٹر کام کی بجتی دستک اور شراب
دیکھ کے موسم خود ہی بچھتے جاتے ہیں
صحرا کی سہ پہر میں اجرک اور شراب
ایک گلی میں دو دیواریں ہیں منصور
ساتھ مری بے مقصد بک بک اور شراب
منصور آفاق