ٹیگ کے محفوظات: عید

ڈھانپ سکتے ہو بھلا گرد میں خورشید کہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
لب پہ آ جائے تو حق بات کی تردید کہاں
ڈھانپ سکتے ہو بھلا گرد میں خورشید کہاں
ڈوبنے والوں نے جو ہاتھ، ہلائے سرِ آب
ظلم کے حق میں ٹھہرتی ہے وُہ تائید کہاں
شہر میں عام ہے جو خون خرابے کی فضا
دیکھیئے لے کے ہمیں جائے یہ تمہید کہاں
وُہ جو قزّاق ہے کیا رحم کی خواہش اُس سے
راہ پر لائے گی اُس کو کوئی تاکید کہاں
ہاتھ بچّے کے ہو جیسے کوئی ناؤ ماجدؔ
نام ایسی بھی ہمارے ہے کوئی عید کہاں
ماجد صدیقی

گلے سے ہمارے لگو عید ہے

دیوان پنجم غزل 1758
گئے روزے اب دید وادید ہے
گلے سے ہمارے لگو عید ہے
گریزاں ہوں سائے سے خورشید ساں
جہاں جب سے ہے مجھ کو تجرید ہے
تصرف میں جب ڈال دیتے ہیں بات
خدا رس کہیں ہیں یہ توحید ہے
جو آویں بتاں جذب سے یاں تو یہ
خدا کی طرف ہی کی تائید ہے
لپیٹا ہے میں بوریاے نماز
یہی میر جانے کی تمہید ہے
میر تقی میر

کوئی کرتا ہی نہیں ضبط کی تاکید اب کے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 27
شہر میں‌ چاک گریباں ہوئے ناپید اب کے
کوئی کرتا ہی نہیں ضبط کی تاکید اب کے
لطف کر، اے نگہِ یار ، کہ غم والوں‌ نے
حسرتِ دل کی اُٹھائی نہیں‌تمہید اب کے
چاند دیکھا تری آنکھوں میں ، نہ ہونٹوں پہ شفق
ملتی جلتی ہے شبِ غم سے تری دید اب کے
دل دکھا ہے نہ وہ پہلا سا، نہ جاں تڑپی ہے
ہم ہی غافل تھے کہ آئی ہی نہیں عید اب کے
پھر سے بجھ جائیں گی شمعیں‌ جو ہوا تیز چلی
لا کے رکھو سرِ محفل کوئی خورشید اب کے
کراچی
فیض احمد فیض

عید

بھیڑ میں مکانوں کی

ایک بند دروازہ

سُونے سُونے آنگن میں

ڈھیر سوکھے پتوں کا

خشک پیڑ سے لپٹی

بے حساب تنہائی

سرد، خالی کمروں میں

سانس لیتا سناٹا

منتظر ہیں مدت سے

بے پناہ شدت سے

پر اُجاڑ سے گھر کے

بے چراغ آنگن میں

ٹوٹ کر شبستاں سے

عید کس طرح اترے

گلناز کوثر

وہ جان دے کے اپنی کسی نے ہے عید کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 462
قربانی کر قبول، اے مولا شہید کی
وہ جان دے کے اپنی کسی نے ہے عید کی
اب تو معاف امتِ وسطی کا جرم کر
کر دے جہاں میں ختم حکومت یزید کی
روہی کی ایک صبح کا درشن سا ہو گیا
میں سن رہا تھا رات کو کافی فرید کی
آتی ہوئی رتوں کا کسی کو نہیں خیال
کرتے ہیں گفتگو سبھی ماضی بعید کی
لعنت ہزار ایسی حکومت پہ بار بار
جمہوریت کی اس نے ہے مٹی پلید کیٍ
لے کر ہوا اڑے گی کسی روز تو اسے
میں نے تمام عمر جو خوشبو کشید کی
میں پڑھ رہا ہوں پچھلے زمانے کی سرگزشت
میں نے مگرکتاب غزل کی خرید کی
منصور بے چراغ مکانوں کی سمت دیکھ
وہ سو گئی ہے آخری بستی امید کی
منصور آفاق

نکل آئی ہیں ہرگل سے کئی امید کی آنکھیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 353
پڑی ہیں ہر طرف وابستگانِ دید کی آنکھیں
نکل آئی ہیں ہرگل سے کئی امید کی آنکھیں
مکمل ہو چکا ہے آخری پیراگراف اپنا
ابھر آئی ہیں کاغذ پر نئی تمہید کی آنکھیں
خدا جانے تجھے کیسی بڑی مجبوری لاحق تھی
مسلسل کھاتی تھیں چغلی تری تردید کی آنکھیں
ستاروں سے صدائیں آتی تھی سبحان اللہ کی
لپکتی تھیں عجب اُس غیرتِ ناہید کی آنکھیں
پلٹ آتی ہیں باغوں کی بہاریں تو مگرمنصور
بھری رہتی ہیں اشکوں سے ہر آتی عید کی آنکھیں
منصور آفاق