ٹیگ کے محفوظات: عنوان

جی سے جانا بھی ہے آسان کہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
ہار کھانا مری پہچان کہاں
جی سے جانا بھی ہے آسان کہاں
زیست مرہونِ نتائج ہے فقط
اِس کا اپنا کوئی عنوان کہاں
پہرہ دارانِ الم کے ہوتے
دل سے نکِلے کوئی ارمان کہاں
ہے معنون جو نہتّوں سے یہاں
ختم ہوتا ہے وُہ تاوان کہاں
چاند جوہڑ میں اُترتا کب ہے
ہم کہاں اور وہ ذی شان کہاں
ہے جو محبوس بدن میں ماجدؔ
چین پاتی ہے بھلا جان کہاں
ماجد صدیقی

مری کتاب کا عنوان تیرے جیسا ہو

نینا عادل ۔ غزل نمبر 11
ہر ایک حرف ہو امکان! تیرے جیسا ہو
مری کتاب کا عنوان تیرے جیسا ہو
ہزار بار گوارا ہے پارسائی کو
جو میری ذات پہ بہتان تیرے جیسا ہو
کوئی سوال جو مشکل نہ ہو تیرے جیسا؟
کوئی جواب جو آسان تیرے جیسا ہو؟
میں عمر قید بصد ناز کاٹ سکتی ہوں
مرے نصیب میں زندان تیرے جیسا ہو
محبتوں کا صلہ ہو تو ہو ترے جیسا!!
محبتوں میں ہو نقصان، تیرے جیسا ہو
میں اُس کے حال پہ قربان میرے دل جو بھی
وفا کی راہ میں ہلکان تیرے جیسا ہو
مجھے قبول ہے، بارِ دگر عنایت ہو
مگر یہ شرط ہے احسان تیرے جیسا ہو
شفا بھی دیتا ہے یہ معجزہ محبت کا
کسی مریض کا ایمان تیرے جیسا ہو
نینا عادل

بوسہ بھی لیں تو کیا ہے ایمان ہے ہمارا

دیوان اول غزل 108
تیرا رخ مخطط قرآن ہے ہمارا
بوسہ بھی لیں تو کیا ہے ایمان ہے ہمارا
گر ہے یہ بے قراری تو رہ چکا بغل میں
دو روز دل ہمارا مہمان ہے ہمارا
ہیں اس خراب دل سے مشہور شہرخوباں
اس ساری بستی میں گھر ویران ہے ہمارا
مشکل بہت ہے ہم سا پھر کوئی ہاتھ آنا
یوں مارنا تو پیارے آسان ہے ہمارا
ادریس و خضر و عیسیٰ قاتل سے ہم چھڑائے
ان خوں گرفتگاں پر احسان ہے ہمارا
ہم وے ہیں سن رکھو تم مرجائیں رک کے یک جا
کیا کوچہ کوچہ پھرنا عنوان ہے ہمارا
ہیں صید گہ کے میری صیاد کیا نہ دھڑکے
کہتے ہیں صید جو ہے بے جان ہے ہمارا
کرتے ہیں باتیں کس کس ہنگامے کی یہ زاہد
دیوان حشر گویا دیوان ہے ہمارا
خورشید رو کا پرتو آنکھوں میں روز ہے گا
یعنی کہ شرق رویہ دالان ہے ہمارا
ماہیت دوعالم کھاتی پھرے ہے غوطے
یک قطرہ خون یہ دل طوفان ہے ہمارا
نالے میں اپنے ہر شب آتے ہیں ہم بھی پنہاں
غافل تری گلی میں مندان ہے ہمارا
کیا خانداں کا اپنے تجھ سے کہیں تقدس
روح القدس اک ادنیٰ دربان ہے ہمارا
کرتا ہے کام وہ دل جو عقل میں نہ آوے
گھر کا مشیر کتنا نادان ہے ہمارا
جی جا نہ آہ ظالم تیرا ہی تو ہے سب کچھ
کس منھ سے پھر کہیں جی قربان ہے ہمارا
بنجر زمین دل کی ہے میر ملک اپنی
پر داغ سینہ مہر فرمان ہے ہمارا
میر تقی میر