ٹیگ کے محفوظات: عنا

کوئی نظر کر عبرت آگیں اس کے نازو ادا کی طرف

دیوان پنجم غزل 1651
دیکھ نہ ہر دم اے عاشق قاتل کی تیغ جفا کی طرف
کوئی نظر کر عبرت آگیں اس کے نازو ادا کی طرف
چار طرف سے نزول حوادث جاؤں کدھر تنگ آیا ہوں
غالب ہے کیا عہد میں میرے اے دل رنج و عنا کی طرف
آوے زمانہ جب ایسا تو ترک عشق بتاں کا کر
چاہیے بندہ قصد کرے جانے کا اپنے خدا کی طرف
قحط مروت اب جو ہوا ہے کس کو دماغ بادہ کشی
ابر آیا سبزہ بھی ہوا کرتا نہیں کوئی ہوا کی طرف
ظلم و ستم سے جور و جفا سے کیا کیا عاشق مارے گئے
شہر حسن کے لوگوں میں کرتا نہیں کوئی وفا کی طرف
شام و سحر ہے عکس سے اپنے حرف و سخن اس گلرو کو
پشت پا سے نگاہ اٹھالی چھوڑی ان نے حیا کی طرف
ہاتھ کسی کا دیکھتے رہیے گاہے ہم سے ہو نہ سکا
اپنی نظر اے میر رہی ہے اکثر دست دعا کی طرف
میر تقی میر