ٹیگ کے محفوظات: عنایات

خاموش ان لبوں سے کوئی بات ہو تو ہو

دیوان پنجم غزل 1716
راہیں رکے پر اس سے ملاقات ہو تو ہو
خاموش ان لبوں سے کوئی بات ہو تو ہو
رنج و عنا کہ دشمن جان عزیز ہیں
ان سے بچائو اس کی عنایات ہو تو ہو
نومید وصل دل نہیں شب ہاے ہجر میں
ان راتوں ہی میں ملنے کی بھی بات ہو تو ہو
امید ہے کہ اس سے قیامت کو پھر ملوں
حسن عمل کی واں بھی مکافات ہو تو ہو
تخفیفے شملے پیرہن و کنگھی اور کلاہ
شیخوں کی گاہ ان میں کرامات ہو تو ہو
ساقی کو چشم مست سے اودھر ہی دیکھنا
مسجد ہو یا کہ کعبہ خرابات ہو تو ہو
منکر نہیں ہے کوئی سیادت کا میر کی
ذات مقدس ان کی یہی ذات ہو تو ہو
میر تقی میر

اب کم بہت ہے ہم پہ عنایات کیا سبب

دیوان پنجم غزل 1580
باہم ہوئی ہے ترک ملاقات کیا سبب
اب کم بہت ہے ہم پہ عنایات کیا سبب
ہم تو تمھارے حسن کی حیرت سے ہیں خموش
تم ہم سے کوئی کرتے نہیں بات کیا سبب
ہم تیرہ روز آپ سے تم بن سحر گئے
آئے نہ تم ہمارے کنے رات کیا سبب
اس کی نگاہ مست تو اودھر نہیں پڑی
مسجد جو ہو گئی ہے خرابات کیا سبب
تھا مرتبہ ہمیشہ سگ یار کا بلند
ہے میر سے سلوک مساوات کیا سبب
میر تقی میر

بس بدلتے نمازوں کے اوقات ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 358
وقت ساکت ہے ،جامد یہ حالات ہیں
بس بدلتے نمازوں کے اوقات ہیں
میری رائے پہ اے زندگی رحم کر
تیرے بارے میں اچھے خیالات ہیں
دے رہاہے مرا چہرہ سب کے جواب
تیری آنکھوں میں جتنے سوالات ہیں
پاؤں آگے بڑھا ، دار پر وار کر
موت کے کھیل میں ہم ترے ساتھ ہیں
گھاس کھاتے رہو بم بناتے رہو
اپنی باقی ابھی کچھ فتوحات ہیں
تیری زلفوں کی کرنیں تلاوت کریں
تیرے چہرے کی آنکھوں میں آیات ہیں
آتے جاتے ہیں اکثرشبِ تار میں
یہ ستارے تو اپنے مضافات ہیں
غم ہے تنہائی ہے ، ہجر ہے رات ہے
ہم پہ منصور کیا کیا عنایات ہیں
منصور آفاق