ٹیگ کے محفوظات: عنادل

اَب ہَم رَہیں گے کوچہِ قاتل کے آس پاس

منصف کے آس پاس نہ عادل کے آس پاس
اَب ہَم رَہیں گے کوچہِ قاتل کے آس پاس
اے عافیَت نَشیں ! میں وہ طُوفاں پَسَند ہُوں
پَھٹکا تَلَک نہیں کبھی ساحِل کے آس پاس
واقِف ہیں اِن امُور سے ہَم، ہَم سے پُوچھنا
محسوس گَر ہو دَرد کبھی دِل کے آس پاس
دِیوانہ ہَنس رَہا ہے، تصوّر کا فیض ہے
چہرا ہے کوئی، شورِ سَلاسِل کے آس پاس
آسُودَگانِ عِشق سے پوچھو کہ لُطفِ زِیست
مَنزِل پہ ہے زِیادَہ کہ مَنزِل کے آس پاس
شاخَیں شکستہ بَرگ پَریشاں چمن اُداس
ہَر سمت، پَر ہی پَر ہیں عنادِل کے، آس پاس
خُوشیوں کی بَزم سے ہَم اَبھی ہو کے آئے ہیں
کوئی نہ کوئی غَم تھا ہَر اِک دِل کے آس پاس
دِلدادگانِ عِشق کو کیا فکرِ قید و بَند
رُک جاتے ہیں یہ خُود ہی سَلاسِل کے آس پاس
یارب! جہانِ حُسن ہو ضامنؔ پَہ مہرباں
کوئی حَسین آ بَسے سائل کے آس پاس
ضامن جعفری

جیسے بہار میں ہو عنادل کو اضطراب

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 38
یوں بزمِ گل رخاں میں ہے اس دل کو اضطراب
جیسے بہار میں ہو عنادل کو اضطراب
نیرنگِ حسن و عشق کے کیا کیا ظہور ہیں
بسمل کو اضطراب ہے، قاتل کو اضطراب
آ جائے ہم نشیں وہ پری وش تو کیا نہ ہو
دیوانہ وار ناصحِ عاقل کو اضطراب
سیماب وار سارے بدن کو ہے یاں تپش
تسکین ہو سکے جو ہو اک دل کو اضطراب
وہ با ادب شہید ہوں میرا جو نام لے
قاتل، تو پھر نہ ہو کسی بسمل کو اضطراب
افسوس بادِ آہ سے ہل بھی نہ جائے اور
یوں ہو ہوا سے پردۂ محمل کو اضطراب
میں جاں بہ لب ہوں اور خبرِ وصل جاں طلب
کیا کیا نہیں دہندہ و سائل کو اضطراب
لکھا ہے خط میں حال دلِ بے قرار کا
ہو گا ضرور شیفتہ حامل کو اضطراب
مصطفٰی خان شیفتہ