ٹیگ کے محفوظات: عطائے

راس آجائے اگر آب و ہوائے دریا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 66
قافلے پھر نہیں جاتے ہیں ورائے دریا
راس آجائے اگر آب و ہوائے دریا
صبر نے موجوں کو زنجیر پنہا دی ورنہ
کیسے ممکن تھا کہ خدمت میں نہ آئے دریا
لب معصوم پہ فریاد کہ ہائے پانی
دشت افسوس کو افسوس کہ ہائے دریا
ایک چلو کا بھی عباس نے احساں نہ لیا
پھینک دی اس کے ہی چہرے پہ عطائے دریا
لب جو تشنہ دہاں آل نبی قتل ہوئے
داغ ہے سینۂ گیتی پہ بجائے دریا
عرفان صدیقی