ٹیگ کے محفوظات: عرضیاں

دشت میں عشق کی ہچکیاں رہ گئیں

قیس کے نام کی تختیاں رہ گئیں
دشت میں عشق کی ہچکیاں رہ گئیں
سب دکانوں پہ وحشت کی تجویز پر
تِیر، چاقو، تبر، برچھیاں رہ گئیں
میں میاں بخشؒ سے مل کے رویا بہت
میرے سینے میں کچھ عرضیاں رہ گئیں
روزِ اوّل سے میں خُوبرو تھا، مجھے
مصر میں ڈھونڈتی لڑکیاں رہ گئیں
فن قلندر بناتا رہا، مُرشدی!
عِلم کے ہاتھ میں ڈِگریاں رہ گئیں
خود پرستی کے متروک ابواب میں
تیرے قصّے، مری مستیاں رہ گئیں
کوئی بھی وقت پر گھر نہیں جا سکا
سب دھری کی دھری تیزیاں رہ گئیں
منہ پہ چیچک کے دانوں کی بہتات تھی
گھر میں محفوظ یوں بیٹیاں رہ گئیں
افتخار فلک